×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

غریبی نہیںغریبوںکومٹانے آئی ہے بی جے پی

June 25, 2014 716

اچھے دن تو ضرورآئیں گے یہ مودی جی ہی نہیںبلکہ این ڈی اے کاوعدہ ہے ،اب یہ الگ سی بات ہے یہ وعدہ ملک کے سواسوکروڑہندوستانیوں

کوفریب دینے کیلئے منصوبہ بندطریقہ سے اختیار کیا گیا تھا، یااس کے پیچھے سنگھی طاقتوںکادماغ کام کررہاتھایہ ابھی بھی صیغہ رازمیںہے۔ مگر نومنتخب حکومت کے فیصلوںنے یہ ثابت کردیاہے کہ بھارت کے عام لوگوںکیلئے اچھے دن آئیںیانہ آئیںمگرملک کے چندکارپوریٹ گھرانوںکیلئے اچھے دن ضرورآگئے ہیں،جب ہی تواب کھلے عام مکیش امبانی جیسے لوگ پریس کانفرنسیںکرکے ملک میںاشیاء کی قیمتوںمیںاضافہ ہونے کااعلان کررہے ہیں،لہذابلاخوف تردیدیہ بات کہی جاسکتی ہے کہ کارپوریٹ گھرانوںکے لئے ہندوستان میںاچھے دن ضرورآگئے ہیں،لیکن عام لوگوںکیلئے تو فی الحال مہنگے دن سامنے ہیں۔ ریل کرایہ میں جتنا زیادہ اضافہ ہوا ہے ملک کے عام باشندوںنے اس کے بارے میںسوچابھی نہیںتھاانہیںتویقین تھاکہ بی جے پی گجرات کی ظاہری چکاچوندھ کودکھاکرپورے ملک کوترقی کی جس منزل کی طرف لے جانے کاوعدہ کررہی ہے اس میںبلاتفریق تمام ہندوستانیوںکوراحت ملے گی اورفائدہ پہنچے گا۔ حالاںکہ ایک سال پہلے ہی اس وقت کے ریلوے کے وزیر پون بنسل نے مسافر کرائے میں 12-18 فیصد اور مال بھاڑے میں 15 فیصد کا اضافہ کیا تھا۔ اس بار ریل کرایہ 14.2 اور مال کرایہ 6.5 فیصد بڑھا ہے۔ کانگریس نے اس وقت پارلیمنٹ کے سیشن کے شروع ہونے کے پہلے ریل کرایے میں یہ اضافہ کیا تھا۔ اس وقت وزیر اعلی کے طور پر نریندر مودی نے اس کی مخالفت میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ کو خط لکھا تھا۔خط کے اندر ریل کرائے میں بھاری اضافہ اور اس کی وجہ سے ملک پرپڑنے والے مہنگائی کے مضراثرات کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس جب قریب ہے اس وقت اس طرح کا فیصلہ جمہوریت کے خلاف ہے۔ اب ریل کرائے میں حالیہ اضافہ کی وجہ سے فی کنٹینرڈھلائی ایک ہزار روپے سے زیادہ ہو جائے گی۔ ہری سبزیاں، پھل، گوشت، مچھلی، دودھ وغیرہ کی قیمت عام لوگوںکیلئے کافی اذیت ناک ہوجائے گی ۔ مال بھاڑے میں اضافہ سے گندم، چاول، دالیں، کھاد، پیٹرول ڈیزل، رسوئی گیس، سیمنٹ، سٹیل، کوئلہ وغیرہ کی ڈھلائی مہنگی ہو جائے گی۔حکومت کی کارپوریٹ نوازپالیسیوںکے نتیجے میںکھانے پینے کی چیزوں کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ بارش کم ہونے سے اناج کی قیمتوںمیں 15 فیصد تک اضافہ ہونے کااندیشہ پہلے سے ہی ماہرین ظاہرکررہے ہیں۔ پارلیمنٹ کا اجلاس ایک ہفتہ بعد شروع ہو رہا ہے، یہ اجلاس بجٹ سیشن ہے ۔ایسے میں کرایہ میںاضافہ کااعلان ریل بجٹ کے دوران ہی اگرکیاجاتا تو اپوزیشن زیادہ سے زیادہ بحث ہی کر سکتا تھا، اور وہ کیا کر لیتا! بے لگام اقتداربدمست ہاتھی کی طرح ہے۔ یاد رکھنا چا ہئے کہ حکومت کو یہ طاقت عوام نے ہی دی ہے۔بھاری اکثریت فراہم کی ہے، لیکن عوام نے یہ طاقت اس لئے دی ہے کہ حکومت کو عوامی مفادات اورترقیاتی ایجنڈے کوآگے لے جانے میںکسی قسم کی رکاوٹ کاخوف دامن گیرنہ ہو اوربغیر روک ٹوک وہ عام لوگوںکے دکھ درددورکرنے میںمستعدی سے بہترفیصلے لے سکے۔ عوام نے یہ اکثریت اس لئے نہیں دی تھی کہ عوام کو ہی شکار بنایا جائے۔مگربی جے پی کے حالیہ فیصلے بتارہے ہیںکہ یہاںغریبی نہیںبلکہ غریبوںکوہی دنیاسے مٹانے دینے کاگھنونا کھیل کھیلاجارہاہے۔ غریب مخالف اورکارپوریٹ نوازفیصلے کوصحیح ثابت کرنے کیلئے مودی حکومت نے اب مضحکہ خیزتاویلیںکرنی شروع کردی ہیں۔
موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ یو پی اے حکومت نے مسافر کرایہ میں سال بہ سال بڑھتے خسارے (2013 میں 24 ہزار کروڑ روپے ) کو دیکھتے ہوئے ایف اے سی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ 25 جون سے نافذ ہونے جا رہے نئے کرائے اور مال بھاڑے کی شرح سے ریلوے کو 2014-15 میں 8 ہزار کروڑ روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوگا، تاہم مسافرشعبے میں اب بھی ریلوے کو 16 ہزار کروڑ کا نقصان ہو رہا ہے۔ ریلوے گزشتہ تین سال سے کم عرصہ میں ہی مال بھاڑے میں 30 فیصد سے زیادہ اضافہ کر چکی ہے۔ ریلوے کے وزیر سدانند گوڑا کا کہنا ہے کہ مسافر کرائے اور مال بھاڑے میں اضافہ یو پی اے حکومت کے وقت سے مجوزہ ہے۔ 16 مئی کو سابق وزیر ریل ملک ارجن کھڑگے نے اس کے لئے احکامات جاری کردئے تھے،لیکن دیر شام کو مسافر کرائے اور مال بھاڑے میںاضافہ کے عوام مخالف فیصلہ کو واپس لے لیا گیاتھا۔ یو پی اے حکومت کے اس حکم کو اب نئی حکومت نے نافذ کیا ہے۔ ملک ارجن کھڑگے نے صدر کے خطاب پر بحث کے دوران پارلیمنٹ میںبی جے پی کی افرادی قوت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوکورووں کے مقابلے میںپانچ پانڈوہی میدان جنگ میں برسر پیکا ر تھے۔ بہرحال اب شایدہمارے باوقارپارلیمنٹ میںاسی طرح کے کھیل ہوتے رہیںگے۔ کانگر یس کاعمومی اشکال یہی ہوگاکہ ہمارے جن فیصلوںکے خلاف بی جے پی سنسدسے سڑک تک ہنگامے کھڑے کرتی تھی اب وہی فیصلے وہ خودکررہی ہے۔ کیاآج اگراسی قسم کے فیصلے بی جے پی کی جانب سے کئے جائیںتووہ ملک کے سواسوکروڑلوگوںکومنظورہوںگے۔جبکہ بی جے پی کابے حیائی پرمشتمل یہی جواب ہوگاکہ وہ یوپی اے کے احکامات کوہی نافذکررہے ہیںوہ اپنی طرف سے کوئی نیافیصلہ نہیںتھوپ رہے ہیں۔بی جے پی کویاد رہناچاہئے کہ اب ملک کاعام باشندہ پہلے جیساسادہ لوح اوربے وقوف نہیںہے۔اسے اپنے ماضی کی تاریخ بھی یادرہتی ہے اورسیاسی جماعتوںکی کارکردگی ان کی غریب دشمنی کے اچھے برے کارنامے بھی یادرہتے ہیں۔ریلوے کرایے میںمعمولی اضافہ پراپنی شدیدناراضگی درج کرا تے ہوئے ٹی ایم اسی سپریمومحترمہ ممتابنرجی نے یوپی اے سے تعلق توڑلیاتھااوروزارت ریل کی کرسی پربھی لات ماردی تھی ،اس کا انہیں کیا فا ئد ہ ملایہ بتانے کی ضرورت نہیںہے۔ ہاں!البتہ حکومت سے یہ سوال توہرہندوستانی کوپوچھنے کاحق ہے کہ ہم نے توبی جے پی بشمول این ڈی اے کومہنگائی،بے روزگاری اورترقی کے وعدوںپرہی یکطرفہ مینڈیٹ دے کر پار لیمنٹ بھیجاتھا،پھراین ڈی کویوپی اے کے نقش قدم پرہی چلنے کی ضرورت کیوںپڑرہی ہے۔کیابی جے پی کے سارے مہارتھی اپنے دماغ اورصلاحیتوںکوکارپوریٹ گھرانوںکے لاک اپ میںگروی رکھ آئے ہیں،جب کہ انتخابی مہم کے دوران یوپی اے کی اقتصادی اورمعاشی پالیسی پر بی جے پی کے سینئرلیڈران پانی پی پی کر کوستے رہے ہیں۔مگراقتدارملتے ہی ملک میںجس تیزی کے ساتھ مہنگائی بڑھائی جارہی ہے اس نے یہ واضح کردیاہے کہ بی جے پی کے نظریات اورپالیسیوںمیںکہیںبھی غر یبوں،مزدوروںاوربے روزگاروں کیلئے ہمدردی کی رمق بھی نہیںہے۔اب عوام اگر خود کو ٹھگا ہوا محسوس کررہے ہیںتوانہیںاپنے فیصلہ پر نظرثانی کرناہوگا،جس کاسلسلہ شروع بھی ہوچکاہے۔آئندہ ایک دوبرس کے اندرہی کئی ریاستوںمیںاسمبلی انتخابات ہونے ہیںوہاںعوام اپنی اہمیت بھی دکھاسکتے ہیں۔ابھی ریل کرائے پرعوام کاغصہ سردبھی نہیںپڑاتھاکہ حکومت نے چینی کی قیمت میں حو صلہ شکن اضافہ کرنے کابھی اشارہ کردیا۔گزشتہ روزایل جے پی سربراہ اورصارفین امور کے مرکزی وزیررام ولاس پاسوان نے ایک پریس کانفرنس میںچینی کی قیمت پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالیہ حکومت کے دورازے چینی ملوںکے مالکان کی ترقی کیلئے کھول دئے گئے ہیں۔جب کہ ان کسانوں کو ٹھینگا دکھا یا گیا ہے جن کی محنت سے ملک میںمٹھاس کاسامان مہیاہوتاہے۔پاسوان کہہ رہے تھے کہ ہم چینی ملوںکے مالکان کو.0فیصدشرح سودپرقرض فراہم کریںگے، جس سے ان کی تجارت کوترقی ملے گی۔اے کاش !پاسوان کے دل میںکسانوں،مزارعوںاوردیہی مزدوروںکیلئے بھی کچھ ہمدردی ہوتی۔ مگریہاں توموجو دہ حکومت میںآوے کاآواخراب ہے۔ظاہرسی بات ہے کہ جس حکومت  نے186جرائم پیشوںکواعلی عہدوںاورکرسیوںسے نوازاہواس کے ذہن وفکر میںبدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے اورغریبوںکی خیرخواہی کاجذبہ بھی کیسے ہوسکتاہے۔
فیض احمد
(مضمون نگار : وشوشانتی پریشد کے چیئرمین ہیں)

Login to post comments