×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

داعش تو اک بہانہ ہے

July 01, 2014 570

امریکہ بہادر داعش کے عراق کے شمالی علاقوں پر قبضے کے بعد سے بہت پھرتیاں دکھا رہا ہے۔ ابھی داعش کے قبضے کو چند ہی

دن گزرے تھے کہ امریکی سیکرٹری خارجہ جان کیری نے عراق کا دورہ کیا، اس دورے کے دوران جان کیری نے عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے علاوہ، کئی ایک سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ اسی دورے کے دوران جان کیری عراق کے نیم خود مختار کرد علاقوں میں بھی گئے، جہاں انہوں نے کرد قائدین سے ملاقاتیں کیں۔

داعش کے حملے کے فوراً بعد جان کیری کا دورہ اور امریکہ کی عراق میں بڑھتی ہوئی دلچسپیاں ملک کی مذہبی و سیاسی قیادت کے لیے بجا طور پر تشویش کا باعث ہیں۔ مقتدیٰ الصدر نے تو واشگاف الفاظ میں کہا کہ ہمیں استعماری طاقتوں کے بجائے غیر استعماری دوستوں سے مدد لینی چاہیے۔ جان کیری کے دورے کے حوالے سے روس کی نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ نوری المالکی اور جان کیری کی ملاقات زیادہ پرجوش نہ تھی بلکہ دونوں راہنماؤں نے آپس میں بہت کم بات کی۔ روسی نیوز ایجنسی کے مطابق نور المالکی نے روس اور بیلاروس سے استعمال شدہ جہازوں کی خریداری کے وقت یہ کہا کہ اگر امریکہ ہمیں بروقت جہاز مہیا کر دیتا تو داعش اتنی جلدی عراق کے اتنے بڑے علاقے پر قبضے کے قابل نہ ہوتے۔ اس سے قبل امریکہ کی تربیت یافتہ عراقی فوج اور اس کے جرنیلوں کی بہادری پہلے ہی عراقی عوام پر ثابت ہوچکی ہے۔

خبروں کے مطابق داعش کے حملے کے فوراً بعد عراقی حکومت نے امریکی افواج سے فضائی کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، جس پر تاحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ امریکی حکومت عراقی سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر ایک کمانڈ سینٹر کی تشکیل کی جانب گامزن ہے۔ اس کمانڈ سینٹر کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ داعش کے خلاف ہونے والی عسکری کارروائیوں کی نگرانی کرے گا۔ امریکہ داعش کے خلاف اس سے آگے نہیں بڑھنا چاہتا۔ نوری المالکی پہلے ہی قومی حکومت کی امریکی تجویز کو مسترد کرچکے ہیں۔

شام میں حکومت کے خاتمے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے کردار نیز داعش کے حوالے سے موقف کو سامنے رکھتے ہوئے عراق میں امریکہ کی قلابازی نہایت اہم اور قابل توجہ ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی جان کیری عراق میں قومی حکومت کی تشکیل اور داعش کی جارحیت کے خلاف حمایت کے اعادہ کے لیے آئے تھے یا ان کی آمد کے کچھ اور مقاصد بھی تھے۔ مغربی تجزیہ نگاروں کی رائے میں جان کیری عراق میں تعینات کئے جانے والے امریکی فوجیوں کے لیے استثناء کی یقین دہانی لینے کے لیے آئے تھے جس میں وہ ناکام رہے۔ میری نظر میں ان کے دورے کا اہم مقصد، اس دورے کا دوسرا حصہ تھا جس میں انھوں نے کردستان کی نیم خود مختار حکومت کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کیں۔ اس ملاقات کے بعد کرد صدر نے تکریت کے بعض علاقوں پر ہونے والے قبضے کو عراق کی نئی صورتحال قرار دیا اور کہا کہ اب کرد افواج اس علاقے کو عراقی حکومت کے حوالے نہیں کریں گی۔

جان کیری کے دورے کے دوران این بی سی اور سی این این نے عراقی کردستان کے صدر اور وزیراعظم سے خصوصی انٹرویوز کئے۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ این بی سی اور سی این این کا اسٹاف جان کیری کے ہمراہ ہی کردستان آیا ہوگا۔ این بی سی کے انٹرویو میں اینکر نے کرد وزیراعظم نوشیروان بارزینی سے بہت سے سوالات کئے، جس میں عراق کی تازہ ترین صورتحال، داعش کے خطرے، تکریت کے بعض علاقوں پر پیش مرگا (کرد افواج) کے قبضے وغیرہ سے متعلق پوچھا گیا۔ اس انٹرویو کو دیکھ واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ جان کیری کا دورہ عراقی حکومت کو حمایت کا یقین دلوانے سے بڑھ کر کردوں کو یہ یقین دہانی کروانے کے لیے تھا کہ اس وقت انتہائی مناسب موقع ہے، عراق کی مرکزی حکومت کمزور ہے، عراقی افواج مصروف ہیں، آپ آزاد ریاست کا اعلان کریں، امریکہ اور اس کے اتحادی آپ کی پشت پر کھڑے ہیں۔

قارئین کرام! اس زمین پر بسنے والی کرد آبادی پانچ مسلمان ممالک میں تقسیم ہے، یہ تقسیم بھی بوڑھے استعمار کا تحفہ ہے، جو اس نے سلطنت عثمانیہ کے حصے کرتے وقت مسلم امہ کو دیا۔ ان پانچ ممالک میں سے دو مسلمان ممالک عراق اور شام میں کرد آبادی عملی طور پر آزاد ریاستیں تشکیل دے چکی ہے، فقط رسمی اعلان باقی ہے۔ اگرچہ کرد صدر مسعود بارزینی کے اس اعلان کہ ہم تکریت کے قبضہ شدہ علاقے عراقی حکومت کو واپس نہیں کریں گے، کی شدید الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے، تاہم اس میں شک نہیں کہ عراقی حکومت اس وقت کرد محاذ کھولنے کی متحمل نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ علاقے تزویراتی اور معاشی لحاظ سے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ شام اور عراق میں نکلنے والے تیل کا بڑا حصہ انہی علاقوں سے نکلتا ہے۔ اگر ان علاقوں میں ایک کرد ریاست تشکیل پا جاتی ہے تو یہ ریاست کئی عناوین سے مغرب اور اسرائیل کے مفاد میں ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ موجودہ عراق اور شام کی حتمی معاشی کمزوری پر منتہج ہوگا۔ یہ معاشی کمزوری تقسیم شدہ عراق اور شام کی دفاعی صلاحیت نیز خطے میں ان کے رسوخ پر بھی اثر انداز ہوگی۔ یہ بنیادی طور پر ایک تیر سے کئی شکار والا معاملہ ہے۔ شام اور عراق خطے میں تبدیلی کی آواز ہیں، ان ممالک کی اسرائیل کے حوالے خارجہ پالیسی بھی بہت واضح ہے۔ خطے کے دیگر ممالک کے برعکس عراق اور شام کے اسرائیل سے کوئی سفارتی یا تجارتی تعلقات نہیں ہیں بلکہ شام تو خطے میں اسرائیل کے خلاف مزاحمت کا استعارہ اور پشت پناہ سمجھا جاتا ہے۔

داعش کا خطرہ اپنی جگہ تاہم مغرب اور اس کے ہمنوا یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ گروہ زیادہ مدت تک نہیں چل سکتا۔ نہ ہی اس گروہ کی جانب سے قائم کی جانے والی کسی ریاست کو زیادہ عرصہ کے لیے برداشت کیا جاسکتا ہے۔ خطے میں موجود عرب ممالک اور اسرائیل بھی داعش کے خطے میں مستقل وجود کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتے ہیں، لہذا عراق اور شام کی صورت میں موجود ایک مستقل خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک عارضی خطرے کو پنپنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ ان قوتوں کا ہدف عراق اور شام کی حکومتوں کو کمزور کرکے خطے میں نئے خود مختار علاقوں کو وجود میں لانا اور عراق و شام کو داخلی و علاقائی جنگوں میں الجھانا ہے۔ داعش جہاں خطے کی حکومتوں کے لیے ناقابل برداشت ہیں، وہیں یہ گروہ خطے کے عوام کے لیے بھی قابل برداشت نہیں ہیں۔ شامی عوام اس گروہ کی ناہنجاریوں کا مشاہدہ کرچکے ہیں، عراق کی اہل سنت آبادی کے صوبہ الانبار کے عوام انہیں کافی عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔ وہاں کے عشائر انہیں اپنے علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں دیتے اور آج تکریت، موصل اور نینوا اس گروہ کی ناہنجاریوں اور مظالم کا شاہد ہے۔

تازہ ترین خبروں کے مطابق داعش نے نینوا میں گھر گھر جا کر سروے کیا ہے کہ علاقے میں کتنی غیر شادی شدہ خواتین ہیں، تاکہ انہیں مجاہدین کے نکاح میں لایا جاسکے۔ موصل اور تکریت کے شہری اپنی جامع مساجد کے آئمہ کے سر عام قتل کا مشاہدہ کرنے کے بعد آج اس فکر میں ہیں کہ وہ اپنی ناموس کا تحفظ کیسے کریں۔ لاکھوں لوگ اس گروہ کے مظالم سے تنگ آکر موصل اور تکریت سے اربیل کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں۔ بارہ سال کے نابالغ لڑکوں کے چوری کے جرم میں ہاتھ کاٹے جاتے ہیں اور ماں جب کہتی ہے کہ خدا کا خوف کرو تو اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ داعش ایک عارضی پریشر گروپ ہے، جسے عراق اور شام میں بدامنی پھیلانے، حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیے پروان چڑھایا گیا۔ یہ گروپ بہت جلد نیست نابود ہونے والا ہے، تاہم اصل خطرہ اس گروہ کے تباہ ہونے کے بعد بھی بدستور باقی رہے گا اور وہ خطرہ ان ممالک کی تقسیم اور آزاد ریاستوں کے قیام اور اس کے بعد کے حالات کا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کا یہی مناسب وقت ہے۔ اگر عملی اقدام میں ذرا بھی دیر کی گئی تو بہت دیر ہوچکی ہوگی، جس کے بعد حالات کو سنبھالنا کسی کے اختیار میں نہ ہوگا۔ (واللہ العالم)

Last modified on Tuesday, 01 July 2014 09:18
Login to post comments