×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

اسلامی نہیں بلکہ شیطانی سلطنت قائم کرنے کی کوشش

July 26, 2014 964

عراق و شام میں دہشت کا اب تک کا سب سے بڑی تاریخ لکھنے والے دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس یعنی اسلامک اسٹیٹ ان عراق اور الشام

نے ان دنوں پوری دنیا کی توجہ اپنے دہشت گردانہ کارناموں اور ناپاک سیاسی منصوبوں کی وجہ اپنی طرف متوجہ کیا ہے. شام سے لے کر عراق تک اب تک ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کا بے رحمی سے قتل کرنے والے اس تنظیم کو داعش کے نام سے بھی جانا جا رہا ہے. اس تنظیم کا سربراہ عراقی شہری ابوبکر البغدادی ہے. ویسے تو اس تنظیم کو سنی مسلمانوں کی تنظیم کے نام سے تشہیر کیا جا رہا ہے. لیکن دراصل ایسا نہیں ہے. واضح رہے کہ مذہب اسلام  اس وقت تقریباً 73  فرقوں میں منقسم ہے. انہی میں ایک طبقہ یا فرقہ کا نام ہے سلفی یا وہابی طبقہ. اس وقت عراق و شام میں خون کی ہولی کھیل رہے اور دنیا میں نام نہاد اسلامی سلطنت قائم کرنے کا خواب دیکھنے والے اس تنظیم کے لوگوں کا تعلق اسی وہابی طبقہ سے ہے. تقریباً 13 ہزار جنگجوؤں کے اس تنظیم میں زیادہ تر رکن القاعدہ ہی منسلک رہے ہیں.
بغدادی جو کہ نہ صرف آئی ایس آئی ایس کا سربراہ ہے بلکہ اسے اس کے حامیوں کی طرف سے نوتعمیر نام نہاد اسلامی ریاست کا خلیفہ بھی اعلان کیا جا چکا ہے. وہ القاعدہ میں ایمن الظواہری کے برابر کی حیثیت رکھنے والا کمانڈر تھا اور 2003 تک عراق کی ایک مسجد میں مولوی تھا. اس کے بعد عراق میں ہوئے امریکی فوجی مداخلت کے بعد وہ ایک جنگجو کے طور پر کھل کر القاعدہ میں شامل ہو گیا. اس نے القاعدہ میں اپنا الگ گروپ بھی بنانا شروع کر دیا. خود کو ایک مضبوط کمانڈر کے طور پر قائم کرنے کے بعد اس نے شام کے شدت پسند تنظیم النصرہ سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تھی. جبکہ ایمن الظواہری بغدادی کی اس کوشش کے خلاف تھا. الظواہری  کی رائے  تھی کہ شام کے حالات سے نمٹنے کا کام النصرہ پر ہی چھوڑ دیا جانا چاہئے. جبکہ بغدادی شام سے لے کر عراق تک کے مبینہ اسلامی سلطنت کا خواب اسی وقت دیکھنے لگا تھا. بغدادی، ابودعا، ڈاکٹر ابراہیم اواد اور ابراہیم علی البدری السمارائی جیسے متعدد ناموں سے اپنی شناخت بنانے والے بغدادی نے عراق سے امریکی فوج کے پاؤں اکھاڑنے میں اپنا اہم کردار ادا کیا. وہ اسامہ بن لادن اور ایمن الجواہری کی طرح  غاروں یا بنکروں میں چھپ کر اپنے کسی دشمن سے مقابلہ کرنے پر یقین نہیں کرتا ہے بلکہ خود محاذ پر موجود رہ کر جنگ کی حکمت عملی تیار کرتا ہے اور حملوں کو چلاتا ہے. بغدادی کے اسی باہمت و جارحانہ رویہ کے سبب امریکہ نے 2011 میں اسے دہشت گرد قرار دے دیا تھا اور اس کو زندہ  یا مردہ پکڑنے کے لئے ایک کروڑ ڈالر کا انعام مقرر کیا تھا.
بدقسمتی سے یہی بغدادی اب خود ساختہ طور پر نام نہاد اسلامی ریاست کا خلیفہ قرار دے دیا گیا ہے. اس کے حامی دنیا کو گمراہ کرنے کے لئے اس کو سنی مسلمان اور اس کے خود ساختہ اسلامی ریاست کو مسلم سنی ریاست کے نام سے پیش کر رہے ہیں. جبکہ حقیقت میں بغدادی اور اس کے تنظیم سے منسلک تمام جنگجو صرف وہابی نظریہ کے ہیں جو کہ 100 سال قبل ختم ہو چکے عثمانی سلطنت کے دور خلافت کو دوبارہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں. مذہب اسلام میں سب سے مقدس مانا جانے والا رمضان کا مہینہ خالص طور پر عبادت و پاکیزگی کا مہینہ سمجھا جاتا ہے. اس مقدس مہینہ کے دوران عام مسلمان کسی کو دکھ تکلیف دینے، خون خرابے میں شامل ہونے اور بے حرمتی سے پرہیز کرتا ہے. لیکن آئی ایس آئی ایس کا سرغنہ بغدادی اپنے قتل وغارت گری کو صحیح ٹھہراتے ہوئے یہ شیطانی پیغام دے رہا ہے کہ 'مقدس مہینہ رمضان میں اللہ کی راہ پر جہاد سے بہتر کوئی اور کام نہیں ہے'. یعنی چھوٹے چھوٹے بچوں کو بے رحمی سے قتل کرنا، مسلم و عیسائی مذہبی مقامات کو منہدم کرنا، دوسروں کے عقیدے و یقین کو ٹھیس پہنچانا اور اپنے خونخوار و بنیاد پرست خیالات کو بندوق کی نوک پر دوسروں پر زبردستی تھوپے جانے کو یہ شیطان عبادت و جہاد بتا رہا ہے . اس شیطان کے نام نہاد جہاد کے چلتے اب تک عراق میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں اور لاکھوں عراقی بے گھر ہو چکے ہیں. ماہرین کا خیال ہے کہ آئی ایس آئی ایس نے ظلم و دہشت کے علاقہ میں القاعدہ کو بھی بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے. اور اب یہ تنظیم صرف شام یا عراق کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ثابت ہو رہی ہے. اگرچہ  بغدادی بھی القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے اسلامی سلطنت قائم کرنے کے خواب کو ہی پورا کرنے میں لگا ہے. لیکن اس نے خود کو محض خلیفہ اعلان کرنے کی وجہ سے القاعدہ کو تقسیم کیا، شام میں دراندازی کر اپنی طاقت کو وسیع کیا اور اچانک مبینہ اسلامی ریاست کا اعلان بھی کر ڈالی.
بہر حال، شمالی شام سے لے کر مشرقی عراق کے دیلا تک اپنے نام نہاد اسلامی سلطنت کا اعلان کرنے والے بغدادی اور اس تنظیم کے اختتام کے دن اب قریب آ چکے ہیں. پوری دنیا کا مسلمان ان کی شیطانی حرکتوں، شیطانی خیالوں اور شیطانی کارناموں سے دکھی ہو چکا ہے. بغدادی کے لوگ دنیا کے مسلمانوں سے اپنے خود ساختہ خلیفہ کے تئیں وفاداری دکھانے کے کا حکم جاری کر رہے ہیں. اور جو بھی شخص چاہے وہ کسی بھی طبقہ کا کیوں نہ ہو اسے اپنا خلیفہ ماننے سے انکار کر رہا ہے اسے یا تو گولیوں سے بھون دیا جاتا ہے یا پھر اسے پھانسی کے پھندے پر لٹکایا جا رہا ہے. اس تنظیم نے عراق میں اب تک سینکڑوں ایسے سنی مذہبی رہنماؤں کا قتل کروا دیا جنہوں نے داعش کے سیاہ جھنڈوں کو اپنی مساجد پر لگانے سے انکار کر دیا تھا. وہابی طبقے نظریاتی طور پر کسی درگاہ، مزار، روزہ، مقبرہ، امام بارگاہ، پیرفقیر وغیرہ کو نہیں مانتا. اور انہوں نے اپنے ان زہریلے خیالات کو نافذ کرتے ہوئے پچھلے ایک ماہ کے اندر   عراق میں سنیوں، شیعہ اور عیسائیوں کی کئی عبادت گاہو ںکو بے رحمی کے ساتھ مسمار کر دیا. شمالی عراق میں خاص طور پر انہوں نے کئی مساجد، درگاہوں اور مقبروں کو دھماکہ سے اڑا دیا. موصل شہر میں شیعہ کمیونٹی کے عقیدے کا مرکز رہی درگاہ البکاحسینیہ کو دھماکہ کر اڑایا گیا. موصل میں سنیوں کے عقیدے کا اہم مرکز سمجھے جانے والے 'ایک مقبرے' کو بلڈوذر چلا کر شہید کر دیا گیا. تالافار میں سعد بن عقیل حسینیہ کے مقبرے کو دھماکے سے تہس نہس کر دیا گیا. تالافار کے قریب مہلابیا ضلع میں احمدالرفائی کی درگاہ پر بلڈوزر چلا دیا گیا. موصل میں کئی گرجا گھروں کو بھی دھماکہ یا بلڈوزر چلا کر مسمار کر دیا گیا. گویا کہ ہر وہ مذہبی مقام جو ان کی نظروں میں اسلامی تعلیم کے خلاف ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب یا طبقہ کے اعتماد کا مرکز کیوں نہ ہو انہیں یہ وہابی انتہا پسند منہدم کرتے جا رہے ہیں.
انکے اسی وحشیا نہ طرز عمل سے پریشان ہو کر پوری دنیا میں آئی ایس آئی ایس کے خلاف جدوجہد کرنے کے لیے مسلمانوں کی بھرتی کئے جانے کی خبریں ہیں. عراق و شام کے کئی سنی شدت پسند گروپ بھی اب انہیں چیلنج دینے لگے ہیں. شیعہ سنی جدوجہد کے نام پر دایش نے عراق کے جن سنیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی تھی وہ بھی اب یہ سمجھ چکے ہیں کہ داعش کا ارادہ اسلامی یا سنی سلطنت نہیں بلکہ دہشت کی  سلطنت قائم کرنے کا ہے. اور اسی وجہ سے اب عراقی سنیوں نے دایش کے خلاف بغاوت کرنے کا اعلان کر دیا ہے. ان کے خلاف عراق میں ہو رہی فوجی کارروائی میں عراق کے سنی عراق کی فوج کا کھل کر ساتھ دے رہے ہیں. اتنا ہی نہیں بلکہ عراق کے سنی مذہبی رہنماؤں نے نہ صرف وہابی تنظیم کے خلاف فتوی جاری کیا ہے بلکہ اس کے خلاف جہاد کئے جانے کا اعلان بھی کر دیا ہے. عراق سمیت پوری دنیا کے متعدد مسلم مذہبی رہنما بغدادی کے خود ساختہ خلیفہ بننے کے پروپیگنڈے کو جھوٹا، مکاری بھر اور شیطانی تشہیر بتا رہے ہیں. اتنا ہی نہیں بلکہ بغدادی کے خلاف اٹھنے والے سر میں اسے امریکہ اور اسرائیل کا ایجنٹ بتایا جا رہا ہے. عراق میں اس کے دہشت و ظلم سے دکھی شیعہ سنی قبائلی اور کرد تمام اس کے خلاف ہو کر جگہ جگہ عوامی اجلاس کر اس کی مخالفت کر رہے ہیں. اور اس کو اسلامی نہیں بلکہ دہشت گرد تنظیم بتا رہے ہیں. عراق کے سنی عالم نے اجتماعی طور پر یہاں تک کہا ہے کہ ان کے خلاف جہاد کرنا عراق کے سنیوں پر لازم   ہے. ان مذہبی رہنماؤں نے عراق کے سنی نوجوانوں سے  داعش کے خلاف سیدھی کارروائی کرنے اور انہے عراق کی سرزمین سے کھدیڑنے اور ان کا صفایا کرنے کا اعلان کیا ہے.
 ویسے تو ایران اگر ان کے خلاف کھل کر فوجی کارروائی کرے تو محض چند گھنٹوں کے اندر ہی  داعش کا وجود ختم ہو سکتا ہے. لیکن ایران عراق میں کوئی بڑی اور سیدھی کارروائی کرنے سے کترا رہا ہے. اس کے باوجود امریکہ، ایران کی طرف سے عراق کو دی جا رہی مدد اور روس کی طرف سے فراہم کردہ لڑاکا طیاروں کے حملوں سے ان دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے. امید ہے کہ جلد ہی عراق و شام پر چھائے دہشت گردی کے اس بادل کا جلد ہی صفایا ہو جائے گا اور اسلام کے یہ خود ساختہ شیطانی ٹھیکیدار جلد ہی اپنی صحیح مج?ل یعنی جہنم میں پہنچا دیئے جائیں گے.
 تنویر جعفری
(تنویر جعفری مصنف سینئر صحافی اور کالم نگار ہیں.)

Login to post comments