Print this page

'کانگریس ڈوب رہی ہے ... راہل کہاں ہیں؟'

مرداد 14, 1393 824
Rate this item
(0 votes)

مغربی اور شمالی بھارت میں پارٹی کو اپوزیشن کی پوزیشن میں دھکیل دیا گیا ہے. مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی اس کی یہی

حالت ہے. اور بہار-یوپی میں وہ غائب ہو چکی ہے. تمل ناڈو-بنگال میں وہ بی جے پی سے بھی پچھڑ گئی ہے.لیکن کانگریس کی قیادت، خاص طور پر راہل گاندھی اس سے فکر مند ہوں ایسا کہیں سے بھی نظر نہیں آ رہا.
وہ تو اپنی بہن کے خاندان کے ساتھ یورپ گھومنے چلے گئے  تھے. ایسے میں سیاست میں سنجیدگی سے سرمایہ کاری کرنے والے کانگریسی آگ ببولا ہوں گے ہی.لیکن راہل گاندھی کو سیاست اور پارٹی میں دلچسپی ہی نہیں ہے. نہ وہ جوش دکھاتے ہیں اور نہ کام کرنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں. ایسا کیوں ہے کہ گاندھی خاندان شکست میں بھی مطمئن نظر آتا ہے؟
کیا راہل گاندھی کو اس بحران کی شدت کا اندازہ ہے جو نریندر مودی نے کانگریس کے لئے کھڑا کیا ہے؟اگر ایسا ہے تو یہ 'یوراج' کے کارناموں میں وہ ذرا بھی نظر نہیں آتا. کانگریس میں عدم تحفظ، ناراضگی اور بغاوت گھر کرنے لگی ہیں (ادھر اپنی پارٹی پر مودی کی مضبوط گرفت سے یہ فرق اور شدید نظر آتا ہے) تو ایسے وقت میں اس کے لیڈر کہاں ہیں؟
حالیہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ وہ اپنی بہن پرینکا اور ان کے خاندان کے ساتھ یورپ میں چھٹیاں منانے گئے  تھے.کچھ لوگوں کو اس بات پر تعجب ہو سکتا ہے، کیونکہ اپوزیشن میں ہونے اور سرخیوں سے باہر ہونے کے باوجود کانگریس کو پریس میں منفی پروپیگنڈا ہی مل رہا ہے.لیکن ہم ایسے کسی شخص سے کیا توقع کر سکتے ہیں جو پارٹی کی تاریخ میں سب سے خراب انتخابات مظاہرہ کرنے کے بعد بالی جاکر آرام فرمانے لگے.
 لیکن جو کانگریسی اس خوفناک حادثہ سے حیران رہ گئے تھے ان کے لئے یہ  منظردن بہ دن ڈرائونا ہوتا جا رہا ہے.مہاراشٹر میں الیکشن اس بات کی تصدیق کر دیں گے کہ پارٹی اب ناقابل واپسی زوال کی جانب گامزن ہے. ناقابل واپسی اس لئے نہیں کہ قسمت ہی ایسی ہے، بلکہ اس لئے کہ اس زوال کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی جا رہی ہے.
 پورے مغربی اور شمالی بھارت میں پارٹی کو مستقل طور پر اپوزیشن کی پوزیشن میں دھکیل دیا گیا ہے. گجرات میں یہ گزشتہ 30 سال میں ایک بھی انتخاب نہیں جیتی ہے (پچھلی بار یہ راجیو گاندھی کی قیادت میں 1984-85 میں جیتی تھی).مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ میں بھی یہ ایسی صورت میں ہے، جہاں موجودہ اسمبلی کی مدت ختم ہوتے ہوتے اسے اقتدار سے باہر ہوئے 15 سال ہو جائیں گے.
 بہار اور اتر پردیش جیسی دو اہم ریاستوں میں یہ پہلے ہی غیر اہم ہو چکی ہے، جہاں بی جے پی نے شاندار طریقہ سے اپنی واپسی کی ہے. اور تو اور تمل ناڈو اور بنگال میں بھی یہ بی جے پی سے پچھڑ گئی ہے.مہاراشٹر میں جہاں یہ آج تک کی تاریخ میں صرف ایک بار ہاری ہے، اس سال کے آخر میں ہونے والے انتخابات میں یہ بری طرح مار کھانے والی ہے اور اسی طرح دہلی میں بھی.
کانگریس کے لئے یہ ملک گیر بحران ہے اور اپنی حالت بہتر بنانے کے لیے اسے مہینوں تک مسلسل اور توجہ لگا کر محنت کرنا ہوگی.لیکن، جیسا کہ میں نے کہا، کیا کہیں سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ راہل گاندھی  کام میں لگے ہوئے ہیں.ہفتوں تک راہل یہ مطالبہ کرتے رہے کہ کانگریس کو لوک سبھا میں حزب اختلاف کے لیڈر کا عہدہ دیا جائے. آخر وہ اسے چاہتے ہی کیوں ہیں؟ایمانداری سے کہوں تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ کانگریس اس عہدے کا کرے گی کیا؟
راہل سیاست اور پارٹی میں اتنی کم دلچسپی لیتے ہیں (پارلیمنٹ میں ان کی موجودگی ان کی غیر دلچسپی کی ایک بہت اچھی مثال ہے) کہ ان کی ایسی مانگیں کرنا رسومات سے زیادہ کچھ نہیں لگتا.

اگر مودی جھکتے ہیں (جو ناقابل تصور بات لگتی ہے) اور کانگریس کو یہ خالصتا ًرسمی عہدے پیش کر دیتے ہیں تو بھی گاندھی خاندان کے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی.سینکڑوں کانگریسیوں نے انتخابات میں کروڑوں روپیہ لگائے اور ہار گئے، کئی کی تو ضمانت بھی ضبط ہو گئی. ایسے لوگ جنہوں نے سیاست میں سنجیدگی سے سرمایہ کاری کی ہے، جن کے لئے یہ شوقیہ نہیں ہے، وہ پارٹی قیادت پر آگ ببولا ہوں گے.
وہ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ کیا ہارنے کے لئے اور زیادہ پیسہ خرچ کرنا صحیح رہے گا. انہیں یہ یقین دلائے جانے کی ضرورت ہے کہ کانگریس دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکتی ہے.اور ایسا کئے جانے کے اشارہ انہیں صرف راہل گاندھی سے مل سکتے ہیں اور ہمیں ابھی تک ایسے اشارے نہیں نظر آرہے ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے.ہندوستانی سیاست میں قیادت کے لئے اقدار کی بہت ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی بہت دانشمندی چاہئے ہوتی ہے. اس کے لئے صرف دو ہی چیزیں ضروری ہوتی ہے: جوش اور محنت.
 راہل گاندھی ذرا بھی جوش نہیں دکھاتے اور نہ ہی کام کرنے کی خواہش ظاہرکرتے  ہیں. اس ہفتہ ایک ٹی وی چینل میں بحث کے دوران میں نے یہ بات کہی اور کانگریس ترجمان کو برا لگ گیا.انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے مہم کے دوران اتنی ساری انتخابی ریلیوں میں حصہ لیا (جیسا کہ وہ اپنی پارٹی پر کوئی احسان کر رہے ہوں).شاید انہوں نے کیا ہو، لیکن پھر بھی، یہ بھی کہا جانا چاہئے کہ یہ مودی کے مقابلہ آدھی ہی تھیں.
لوک سبھا انتخابات کو جیتنے کے لئے مودی کوئی بہت کمال کا آئیڈیا نہیں لائے تھے یا جادو کی چھڑی نہیں گھمائی تھی.انتخابات کے دوران قابل اعتماد   'گجرات ماڈل' پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے. لیکن یہ مودی کا عزم اور بے  حد محنت ہی تھی جس نے ان کو کامیاب بنایا.وہ کھیل کو اس طرح کھیلے جیسے اس میں ان کا کچھ لگا ہوا ہو. گاندھی خاندان کی طرح نہیں. گاندھی خاندان تو شکست میں بھی کافی مطمئن لگا.ان برتاؤ سے مجھے آخری مغلوں کی یاد آ گئی، جو اپنے ہاتھی اور خاندان کی چاندی کو بخوشی بیچ رہے تھے تاکہ ان کے  تباہ محل اور اعلی عہدے ان کے پاس بنے رہیں.
 آکار پٹیل

Login to post comments