×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

اب کی روٹھے تو نہیں منائے جائیں گے اڈوانی!

August 06, 2014 1725

بھارتیہ جنتا پارٹی میں مودی کے دور کے آغاز کے ساتھ ہی اڈوانی دور ختم ہو گیا ہے.پارٹی یا حکومت میں ان کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ

ہی انہیں پوچھنے والا کوئی رہ گیا ہے.لیکن ایسا نہیں ہے کہ مودی اور ان کی ٹیم نے اڈوانی کی یہ بدتر حالت کی ہے.سنگھ کی رضامندی کے بغیر ایسا ممکن نہیں ہوتا.اور اڈوانی کی یہ حالت اچانک نہیں ہوئی ہے. یہ تو 2005 میں پاکستان میں ان کے جناح کی تعریف کرنے سے شروع ہوئے عمل کا  ہی اختتام ہے.اڈوانی کے لیے راحت یہی ہے کہ انہیں بلراج مدھوک کی طرح پارٹی سے باہر نہیں کیا گیا ہے.
طویل وقت  تک بھارتیہ جنتا پارٹی میں سینئر لیڈر' یا 'مرد آہن' جیسے القاب سے نوازے جانے والے لال کرشن اڈوانی ہندوستانی سیاست میں اب گاندھی نگر سے منتخب ایک رہنما بھر رہ گئے ہیں.پارٹی یا اس کی قیادت والی حکومت میں ان کا کوئی دخل نہیں ہے. جس پارٹی کے سارے موجودہ پالیسی ساز ایک وقت ان کے 'سیاسی شاگرد' رہے ہوں، اس میں اب ان سے کوئی مشورہ تک نہیں لیتا.
 ان سے ملنے جلنے والے بھی کم ہو گئے ہیں. انتخابات نتائج آنے اور نئی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہونے کے ساتھ ہی پارٹی پارلیمانی پارٹی کے صدر اور این ڈی اے کے ایگزیکٹو صدر جیسے عہدوں سے ان کی چھٹی ہو گئی.پارلیمنٹ ہاؤس میں واقع ان کا دفتر کاکمرہ بھی چھن گیا. پھر کچھ ترس آیا اور سنگھ سے اشارہ ملے تو کمرہ واپس دے دیا گیا پر کسی عہدے کے بغیر.کمرے کے باہر لگی ان کے نام کی پٹی بھی اتر گئی. حال ہی میں وہ پھر لگائی گئی پر اس میں صرف نام ہے، کوئی عہدہ نہیں.
سیاست ایسی ہی ہوتی ہے. ان کی سر پرستی میںٹرینڈ سارے اہم شاگرد آج 'مودی بھکتی' میں لگے ہیں اور اڈوانی اکیلے بیٹھے کڑھتے رہتے ہیں.پارٹی سے وہ باہر نہیں ہوئے پر پارٹی میں ان کی موجودگی اب صرف نام بھر کی ہے.عملی طور اڈوانی کا سیاسی  زوال پہلے ہی شروع ہو گیا تھا لیکن نریندر مودی نے وزیر اعظم بننے کے بعد پارٹی کے 'مرد آہن' کو   عرش  سے فرش پر لا دیا گیا.
یہ سب آر ایس ایس کی خواہش اور حکم پر ہوا. آر ایس ایس نے ان زوال کی سکرپٹ سن 2005 میں (پاکستان دورے میں محمد علی جناح کی تعریف کئے جانے کے فوراً بعد) لکھنا شروع کر دی تھی.عام انتخابات میں اس بات کو لے کر بھی کافی رسہ کشی رہی کہ اڈوانی کہاں سے انتخاب لڑیں گے۔پر اڈوانی کو اس وقت لگا کہ سنگھ کچھ بھی کہے، پارٹی اور اتحادیوں کے درمیان وہ واجپئی کے بعد سب سے ' قابل احترام لیڈر' ہیں، انہیں کوئی کمزور نہیں کر سکتا.
سن 2009 میں وہ پی ایمعہدے کے پارٹیامیدوار بھی قرار ہو گئے. پر وہ پی ایم نہیں بن سکے.پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو 2004 کے مقابلے زیادہ سیٹیں ملیں اور پھر سے یو پی اے حکومت بن گئی.اڈوانی کو اس کے بعد ہی اپنے کو رہنما والے کردار میں لانا چاہئے تھا اور کمان نسبتاً نوجوان قیادت کو سونپنے پر متفق ہو جانا چاہئے تھا. پر وہ ایک بار اور قسمت آزمانے پر اڑے رہے.
یہی اندازہ ان فیصلہ کن خاتمے کا سبب بنا. سن 2010 اور 2012 کے درمیان، یونین کو مودی کے طور پر اس کی پسند کا نیا قومی لیڈر مل چکا تھا.یہی وہ دور تھا، جب سنگھ میں تبدیلی ہو رہی تھا. 'ثقافتی قوم پرستی' اور 'کارپوریٹ حمایت' کے  کیمیکل سے اپنے سیاسی ایجنڈے کو سنوارا جا رہا تھا.' سخت گیر ہندوتو' کی علامت رہے مودی کے ساتھ سن 2010-11 کے دور میں 'ترقی مرد' کی تصویر  جوڑی گئی. سن 2012 کی انتخابی جیت کے بعد اس کی مودی نے خوب تشہیر کرائی.
اسی دور میں انہوں نے اپنی پارٹی کے 'مرد آہن' کو چھوڑ بھارتی آزادی تحریک کے مرد آہن سرداو لبھ بھائی پٹیل کو بھگوانقطہ نظر سے وکھانا شروع کیا.بھارتی کارپوریٹ کے بڑے حصہ نے انکے ہرکام کی بھرپور حمایت کی. اس کا اظہار کئی طرح سے دیکھا گیا.سن 2012-13 کے درمیان میڈیا، خاص طور پر ٹی وی چینلز میں مودی مسلسل چھائے رہے. اڈوانی کو بھگواجماعتوں میں بھی لوگ بھولنے لگے. سنگھ پوری طرح مودی کے ساتھ دکھا.
اڈوانی کے پاس اختیارات نہیں تھے. اگر وہ سنگھ کے سامنے خود سپردگی نہیں کرتے تو بلراج مدھوک بن کر پارٹی سے باہر ہوتے.ان سے بہتر اور کون جانے گا کہ بی جے پی میں بڑے سے بڑے لیڈر کو بھی سنگھ کی نظر میں گرنے کے بعد باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے.خود اڈوانی نے اپنی سوانح عمری 'مائی کنٹری، مائی لائف' میں ایک اہم پیش رفت کا ذکر کیا ہے.
دسمبر، 1972 میں پہلی بار جن سنگھ کا قومی صدر بننے کے بعد اڈوانی کو پارٹی کے سابق صدر بلراج مدھوک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنا تھا.کئی ماہ سے پارٹی اور سنگھ کے اندرونی حلقوں میں مدھوک کو لے کر ناراضگی چل رہی تھی. اٹل بہاری واجپئی اور نانا جی دیش مکھ ہی نہیں، سنگھ کے لیڈر بھی مدھوک سے ناراض تھے.
 واجپئی-نانا-اڈوانی  تینوں مدھوک کو پارٹی سے باہر کرنے پر آمادہ تھے. لیکن سنگھ کی اجازت کے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا.موقع نکال کر اڈوانی نے ایک دن گولولکر سے دہلی ہوائی اڈے پر خفیہ ملاقات کی.گولولکر کہیں جا رہے تھے. اڈوانی نے ان سے وقت مانگا تو انہوں نے کہا کہ ہوائی اڈے پر ہی آ جائیے.اڈوانی کو سنگھ کی اجازت مل گئی. بالآخر 1973 کے آغاز میں ہی بلراج مدھوک کو جن سنگھ سے باہر کر دیا گیا.سن 2014 میں اڈوانی کو صرف اتنی راحت ملی ہے کہ انہیں 'مدھوک' نہیں بنایا گیا، 'اڈوانی' ہی رہنے دیا گیا، پر ایک ہارا ہوا، بجھابجھا اڈوانی.
ارملیش
(سینئر صحافی، بی بی سی سے منسلک)

Login to post comments