×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید ابن طاؤوس اور بیمار ہر قل

دی 26, 1392 659

سیدابن طاؤوس اعزاء و اقرباء سے

ملاقات پر بہت اہمیت دیتے تھے لہٰذا برابر ان سے ملاقات کے لئے حلہ جایا کرتے تھے ایک سفر کے دوران اسماعیل نامی نوجوان نے آپ سے ملاقات کی تاکہ آپ اس کی بیماری کا علاج کرسکیں۔

سید نے محبت و الفت کی نگاہ ڈالی اور جوان سے پوچھا :”تمہارا کیانام ہے؟“

جوان:  اسماعیل بن حسن

سید:    کہاں سے آرہے ہو؟

جوان:  ہر قل سے

سید:    کیا مشکل ہے ؟ تمہارے جیسے جوان کا مرجھایا ہوا چہرہ بڑا عجیب لگ رہا ہے۔

اسماعیل نے جواپنے بائیں پیر سے کپڑوں کی پٹی کھول رہا تھا جواب دیا:

”میرے بائیں پیر میں ایک پھوڑا ہوگیا ہے جو ہر سال موسم بہار میں بڑا تکلیف دہ ہو جاتا ہے خون و مواد بہت زیادہ آتا ہے اس کے درد سے میں بہت پریشان ہوں کل میرے ایک د وست نے بتایا کہ دانش مندو انسان دوست اپنے احباب سے ملاقات کے لئے عراق سے حلہ جا رہا ہے جو بہت مہربان ہے تم اس کے پاس جاؤ یقینا و ہ تمہاری مدد کرنے سے پیچھے نہیں ہتے گا لہٰذا میں آپ سے ملاقات کے لئے آگیا کہ شاید آپ میرے لئے راہ نجات تلاش کر سکیں۔“

سید نے زخم کو دیکھا شہر کے جراحوں کو بلایا جمع ہو گئے اور اسماعیل کے زخم معائنہ کیا۔ ابن طاؤوس آخر وقت تک وہیں بیٹھے رہے جراحوں سے مخاطب ہو کر کہا :” کیا جراحی ضروری ہے؟“

جراحوں میں جو سب سے سن رسیدہ معلوم ہوتا تھا اس نے فکر بھرے لہجہ میں جواب دیا:

” یہ پھوڑا ایک بہت اہم رگ پر ہے اس کا علاج صفر جراحی کر کے اسے نکال دینا ۔“

اسماعیل جو اس درد سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک ایک منٹ گن رہا تھا فورا بول پڑا:

”آپ فورا اس کا آپریشن کر ڈالیے جتنا بھی درد ہوگا میں برداشت کروں گا ایک بار کا درد برداشت کرنا ہمیشہ کے درد سے اچھا ہے۔“

جراح نے جواب دیا:

” ہاں ! ہم بھی تمہارے علاج کے خواہاں ہیں لیکن ایک چیزہمارے لئے مشکل بن گئی ہے۔“

سید نے مضطرب ہو کر پوچھا :”وہ کون سی مشکل ہے ؟“

جراح نے جو اسماعیل کا زخم دیکھنے میں مشغول تھا جواب دیا:

”مشکل یہ ہے کہ پھوڑا ٹھیک اہم رگ پر ہے میرا اور میرے ساتھیوں کا گمان ہے کہ ممکن ہے آپریشن کے وقت رگ پھٹ جائے اور مریض مرجائے چونکہ یہ خطر ناک کیس ہے لہٰذا ہم ہاتھ نہیں لگانا چاہتے ۔“

سب جراح یہ جواب دے کر ہرقل کے بیمارکو تڑپتا چھوڑ کر سید کے گھر سے چلے گئے ۔ اسماعیل نے بکھرے ہوئے کپڑوں کو دوبارہ زخم پر باندھا اور چلنے کے لئے تیار ہوا۔ سید نے ایک باپ کی طرح محبت سے کہا:

”نہیں ! اسماعیل تم ما یوس نہ ہو میں عنقریب بغداد جاؤں گا تم یہیں قیام کرو تاکہ تمہیں بھی ساتھ لے چلوں شاید بغداد کے ڈاکٹروں کا تجربہ زیادہ ہوا ور وہ تمہارے زخم کا علاج کر سکیں۔

یہ مردمتقی اسماعیل کو لے کر بغداد آیا اپنے اثر و رسوخ سے استفادہ کرتے ہوئے بڑداد کے مشہور و ماہر جراحوں کو جمع کیا لیکن سید کی یہ کوشش بھی ناکام رہی کیونکہ تمام جراحوں نے حلہ کے جراحوں کی تائید کرتے ہوئے آپریشن کرنے سے انکار کر دیا۔

اب ہر قل کا یہ بیمارناامید ہو کر خون آلود کپڑوں کو زخم پر باندھ کر گردن جھکا کر بیٹھ گیا۔ سید نے شفیق باپ کی طرح اسماعیل کی گردن پر ہاتھ پھیرا اور کہا:

”غمگین نہ ہو یہ زخم لا علاج نہیں ہے، نماز کے لئے بھی تم زیادہ زحمت نہ کرو خداوند عالم اسی خون بھرے کپڑے میں تمہاری نماز قبول کرے گا، تم جب تک یہاں رہنا چاہو رہ سکتے ہو۔“

ہرقل کے مغموم جوان نے سید کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

”میں سامراء جاؤں گا امام معصوم  سے دعا کروں گا ۔“

خدا حافظی کر کے سید کی دعاؤں کے ساتھ سامرا چلا گیا۔

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 10:00
Login to post comments