×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید ابن طاؤوس اور وزارت شب

دی 26, 1392 432

مستنصر نے بہت زیادہ کوشش کی کہ

سید ابن طاؤوس وزارت قبول کر لیں اس نے ابن طاؤوس سے ملاقات کی اور صاف الفاظ میں اپنا ارادہ ظاہر کیا کہنے لگا:

”آپ وزارت قبول کر لیں جس طرح عمل کرنا چاہیں کریں میں ہر ممکن طریقہ سے آپ کی مدد کروں گا۔“

لیکن ہر بار سید ابن طاؤوس نے کسی نہ کسی بہانہ سے مستنصر کو ناکام کر دیا دارالخلافہ کی فضا معلوم کرنے کے لئے ابن طاؤوس اور مستنصر کی کشمکش خود انہیں کی زبان سے سنیں۔

  ”وزارت قبول کرنے کے لئے مستنصر نے مجھے طلب کیا عہد کیا کہ آخر دم تک میری مدد کرے گا۔ میں نے اپنی خواہش پوری کرنے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن میں ہر بار ایک بہانہ سے اس کی خواش رد کر دیتا ہے۔ آخر کار ایک بار مین نے کہا: اگر میری وزارت سے یہ مراد ہے کہ جو مجھ سے پہلے وزراء کام انجام دیا کرتے تھے چاہے اسلام و مرضی ٴ خدا کے مطابق ہو یا نہ ہو تو میری کوئی ضرورت نہیں ہے بلکہ موجود وزراء یہ کام کر سکتے ہیں اور اگر مراد یہ ہے کہ میں سنت رسول و کتاب خدا کے مطابق عمل کروں تو دباری مجھے یہ کام کرنے نہیں دیں گے اور مجھے برداشت نہین کریں گے بلکہ وہ تنہا نہیں ہوں گے ان کے ساتھ بزرگان اور بادشاہ بھی ہوں گے۔“

          اس کے علاوہ اگر میں عدل و انصاف سے کام کروں تو لوگ کہیں کہ علمی ابن طاؤس یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر خلافت ان کے ہاتھ آ جائے تو وہ اس طرح سے اسے چلا سکتے ہیں۔

          واضح ہے کہ یہ بات تیرے باپ دادا پر انتقاد کی طرح ہو گی لہٰذا تو مجبور ہو گا کہ مجھے ہلاک کر دے یا کسی نہ کسی بہانہ سے مجھے قتل کر دے اگر ظاہری گناہ اور بہانہ سے ہی مجھے قتل کرنا ہے تو پھر میں تیرے سامنے حاضر ہوں میرے ظاہر گناہ کے مرتکب ہونے سے پہلے تو جو چاہے کر تو ایک قدرت مند بادشاہ ہے۔

اگرچہ عارف کامل کی یہ منطقی دلیل کافی تھی کہ اب مستنصر وزارت کے لئے آپ پر زور نہ دے لیکن سید ابن طاؤوس اب اس شیطانی زمین میں رہنے کی حالت میں نہیں تھے لہٰذا پندرہ سال پایہٴ تخت میں رہنے کے بعد دوستوں و عقیدت مندوں سے خدا حافظی کر کے اپنے وطن حلہ کا سفر اختیار کیا۔

وادی تجلی وطن

ابن طاؤوس علیہ الرحمہ ۶۴۱ھ میں اپنے وطن حلہ آئے کچھ دن قیام کے بعد (۱۷) سترہ جمادی الثانی ۶۴۱ھ بروز منگل آپ مولائے کائنات کی زیارت کے لئے نجف اشرف گئے اس سفر میں آپ کے ساتھ آپ کے سات ھی سید محمد بن محمد آوی بھے تھے اس سفر کو سید بن طاؤوس کا بہترین سفر قرار دیا جا سکتا ہے شب انہوں نے دورہ ابن سنجار نامی گاؤں میں بسر کی صبح کو پھر سفر شروع کر دیا بدھ کے دن دوپہر کے وقت یہ لوگ نجف میں وارد ہوئے۔

انیس (۱۹) جمادی الثانی کی شب ان دونوں بزرگوں نے حقیقت کی منزلیں طے کیں سید ابن طاؤوس نے تو بیداری کی حالت میں الٰہی بلندیوں و خصوصی رحمتوں کا احساس کیا ، اور محمد آوی نے خواب میں ابن طاؤوس کی بلندیوں کا مشاہدہ کیا بیداری کے بعد اس طرح بیان کرتے ہیں:

”میں نے خواب میں دیکھا کہ تمہارے (سید ابن طاؤوس کے) ہاتھوں میں لقمہ ہے اور تم کہہ رہے ہو: یہ میرے مولیٰ حضرت علی  کے دہن مبارک کا عطیہ ہے۔ تم نے اس لقمہ سے تھوڑا سا مجھے بھی دیا ۔“

عنایات خدا وندی سے خوش و خرم ہو کر جمعرات کے دن نمازشب ادا کرنے کے بعد سید ابن طاؤوس زیارت کرنے حرم مہطر حضرت علی علیہ السلام میں حاضر ہوئے جیسے ہی وہ اس مقدس مکان پر پہنچے تمام حقیقتیں نمایاں ہوگئیں بدن میں عجیب سا ارتعاش پیدا ہوا خود کو قابو می ں رکھنا مشکل ہوگیا اس لحظ کی شرح خودآپ اس طرح بیان کرتے ہیںٴ ”دوسرے دنوں کی طرح جمعرات کی صبح کو مولائے کائنات  کی زیارت کے لئے نکلا جیسے ہی حرم منور پہنچا رحمت خدا وند عالم ، امیر المومنین  کی خاص توجہ سے مکاشفات کے مراحل اس طرح طے ہوئے کہ عنقریب تھا کہ میں زمین میں دھنس جاؤں ،بدن میں ارتعاش تھا قابو پانا بہت مشکل ہوگیاایسا لگتا تھا کہ موت و زندگی کے بیچ کھڑا ہوں خدا وند عالم نے میرے او پر احسان کیا ، حقائق کو نمایاں کردیا اس وقت میرے اوپر اتنی شدت تھی کہ محمد بن کنلیہ جمال میرے سامنے سے سلام کرتے ہوئے گذر گیا لیکن میں متوجہ نہ ہوا بعد میں میں نے پوچھا تو لوگوں نے بتایا ۔“

سید ابن طاؤوس کا یہ آخری مکاشفہ نہیں تھا بلکہ جیسا کہ آپ نے خود فرمایا ہے

”ایسی ہی حالت دوسری بار بھی میرے اوپر طاری ہوئی ہے۔“

اس مقدس سفرمیں سید ابن طاؤوس نے محمد آوی سے صیغہ اخوت جاری کیا تھا محمد آوی بھی حقائق کے انکشاف سے بہرہ مند ہوئے تھے انہوں نے اپنی گفتگو میں بتایا جس سے بعض پردے نظروں سے اٹھ گئے محمد آوی کہتے ہیں :

”میں بستر پر آرام کر رہا تھا کہ کوئی شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے خواب دیکھا ہے کہ سید ابن طاؤوس اورآپ (محمد آوی ) و (۲) دو آدمی اور آسمان کی جانب بڑھ رہے ہیں میں نے سوال کیا وہ دوسرے کون لوگ تھے؟ اس شخص نے جواب دیا : میں انہیں نہیں جانتا ۔ پس ابن طاؤوس نے جو گویا میری بغل میں کھڑے تھے جواب دیا:وہ میرے مولاامام زمانہ  تھے۔“

اگرچہ ابن طاؤوس جیسے جلیل القدر عالم کے لئے عالم رویا میں کچھ دیکھ لینا بہت بڑی بات نہیں ہے لیکن محمد آوی جیسے عارف کا حرم امیر المومنین  میں خواب دیکھناحق و حقیقت سے دور نہیں ہے خصوصا ابن طاؤوس کا مکاشفہ اور محمد آوی کا خواب کہ آپ آسمان کی سیر کر رہے ہیں یہ سب دلیلیں ہیں کہ وہ خواب سچا تھا اسی بنا پر ابن طاؤوس نے محمد آوی کے خواب کی تصدیق کی اور اسے”المواسعتہ و المضایقہ“ نامی رسالہ میں محفوظ بھی کیاہے۔

جانشین ، وصی، خلیفہ رسول اکرم حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی زیارت کا یہ آسمانی سفر تمام ہوا دونوں بھائی حلہ کی جانب روانہ ہوئے۔

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 11:57
Login to post comments