×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید ابن طاؤوس اور پایہ تخت کے جال میں

دی 26, 1392 792

سید ابن طاؤوس  اور  پایہ تخت کے جال میں

۶۵۲ھ کو آپ نے پھر اسباب سفر اختیار کیا اور سامراکے لئے سفر اختیار کیا لیکن نہ معلوم اسباب کی بنا پر سفر (بغداد کے سفر کی شاید یہ وجہ رہی ہو کہ وہاں کے مومنین نیبہت زیادہ اصرار کیا ہو یاوہاں کے لوگوں کو آپ کی شدید ضرورت رہی ہو لیکن کسی جگہ بھی علت ذکر نہیں ہوئی ہے۔)ادھورا چھوڑ کر بغداد چلے گئے اور اپنے پرانے گھر میں قیام کیا ۔
اس سفر میں اور پندرہ سال کے جوانی کے اوقات جو آپ نے بغداد میں بسر کئے تھے کافی فرق تھا اس بارآپ زیادہ تر عبادت میں مشغول رہتے تھے لیکن لوگوں کی حاجات برطرف کرنے میں ذرا بھی کوتاہی نہیں کرتے تھے لوگوں کی حاجات برطرف کرنے کا ۶۵۵ھ سال اعلیٰ سال تھا اسی سال مغلوں نے بغداد پر حملہ کیا اور اسے محاصرہ میں لے لیا مستعصم باللہ اور اس کے وزیر نے لوگوں کو جہاد اور مقابلہ کی لئے شہر میں جمع ہونے کی دعوت دی۔

سید ابن طاؤوس نے جواب جب لوگوں کا اضطراب و خوف دیکھا تو خلیفہ نے سے کہا کہ:

”میں بغیر اسلحہ کے مغل بادشاہ کے پاس جاؤں گا اور صلح کی پیش کش کروں گا۔“

لیکن خلیفہ نے اسے منظور نہ کیا ۔ سید ابن طاؤوس نے خلیفہ کے بے توجہی دیکھ کر بتا دیا کہ اب بغداد اس کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ آپ ایک بار پھر خلیفہ کے ایک خاص آدمی کے پاس گئے جس سے آپ کی پرانی ملاقات تھی اس سے کہا کہ :

”تم خلیفہ سے اجازت لو میں خاص مومنین و مترجمین کے ساتھ مغلوں کے پاس جاؤں ۔“

اس درباری نے کہا :

”مجھے خوف ہے آپ کے اس لباس سے مغلوں کے درمیان ہماری آبروریزی نہ ہو۔“

سید ابن طاؤوس نے اس بہانہ کے جواب میں کہا :

”تم جسے چاہو ہمارے ساتھ روانہ کر دو کہ اگر ہم مسلمانوں کو یہ بتائیں کہ ہم خلیفہ کی جانب سے آئے ہیں تو وہ ہماری گردن جدا کر دے اور ہمارے سر کو تمہارے لئے روانہ کرے یہ مسلمانوں کا ملک ہے میں اولاد رسول ہوں لہٰذا اپنا فریضہ جانتا ہوں کہ بیچ میں پڑ کر لوگوں کے خوف و ہراس کو دور کروں اگر تم میری خواہش قبول کرو تو میں جانے کے لئے تیار ہوں۔

انشاء اللہ کامیابی کے ساتھ واپس آؤں گا اگر تم نے میری خواہش قبول نہ کی تو میں عند اللہ معذور ہوں۔“

درباری نے کہا :

”آپ یہیں تشریف رکھئیے میں خلفیہ کو مطلع کر کے ابھی آتا ہوں ۔“ وہ گیا کچھ دیر بعد واپس آیا کہنے لگا:” جب بھی آپ کی ضرورت ہوگی آپ کو اجازت دے دی جائے گی مغلوں کا کوئی سردار نہیں ہے جس سے آپ گفتگو کریں گے وہ تو صرف لوٹ مار کے لئے آئے ہیں۔

اب آپ کی صلح و صفا کی کوشش ناکام ہوگی ۔

بزرگوں سے ملاقات

دوسری جانب سید ابن طاؤوس کے بھتیجے نے جب دیکھا کہ خلیفہ کی لاپرواہی سے نجات کے تمام راستے بند ہو گئے ہیں تو سدید الدین یوسف حلی اور ابن ابی العزو حلہ دوسری عظیم شخصیتوں کی مدد سے ہلاکو خان کے پاس ایک خط لکھا جس میں اپنی دوستی کے علاوہ یہ تھا کہ تم مقدمات مقدسہ کی مغلوں سے حفاظت کرو۔جب ہلاکو خان کو خط موصول ہوا تو اس نے نامہ بر سے کہا :
”اگر واقعا ہمارے دوست ہیں تو ہم سے ملاقات کے لئے آئیں تاکہ ہم لوگ آمنے سامنے گفتگو کریں۔“

مجدالدین (مجد الدین محمد ، عزالدین حسن کے بیٹے تھے بغداد کے سقوط کے (۲) دو سال بعد انتقل کیا۔ عزالدین کے تین بیٹھے تھے۔ ۱۔ابو الحسن سعد الدین موسی۔ ۲۔قوام الدین ابو طاہر احمد۔۳۔مجد الدین محمد ۔)اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہلاکوں خان سے ملاقات کے لئے آگئے مغلوں کے سردار نے ان سے کہا :

”ابھی تو خلیفہ سے ہماری جنگ بھی شروع نہیں ہوئی ہے تمہیں خلیفہ سے خوف محسوس نہیں ہواکہ تم نے دشمن سے رابط قائم کر لیا؟“

حلہ کے نمائندوں نے جواب دیا:
”ہمارے پہلے امام حضر ت علی علیہ السلام نے پیش گوئی کی ہے کہ بنی عباس خاص صفات کے حامل افراد کے ذریعہ نابود ہو جائیں گے ا ور وہ خاص صفات ہم نے تمہارے اندر دیکھے ہیں اسی وجہ سے تم سے رابطہ قائم کیا تاکہ امان میں رہیں۔“

ہلاکوخان نے ان کی بات سنی اور حلہ ، نجف اشرف، کربلا معلی وکوفہ کے لوگوں کو امان نامہ دے دیا۔ (اگرچہ اس واقعہ کا تعلق براہ راست سید ابن طاؤوس سے نہیں ہے لیکن ہلاکوخان کے مثبت قدم ، اشارہ ہیں کہ سید ابن طاؤوس بھی اس میں شامل تھے۔)

تاریک شب

سید ابن طاؤوس جب صلح و صفائی میں ناکام ہو گئے تو اللہ کا نام لے کر گھر میں بیٹھ گئے۲۱/محرم۶۵۵ھ کی تاریک شب تھی جب مغلوں نے قلعہ کے شگاف سے استفادہ کرتے ہوئے عباسی حکومت پر حملہ کردیا او ر چھ دن بعد پایہ تخت پر آگئے مغلوں کا حملہ اتنا سخت تھا کہ ابن طاؤوس اوران کے دوستوں نے رات وحشت و اضطراب کے عالم میں بسر کی اس شب کی روداد آپ اس طرح تحریر کرتے ہیں:
”۲۸/ محرم دو شنبہ کے دن یہ واقعہ رونما ہوا میں المقتدیہ بغداد میں اپنے گھر تھا رسول اکرم نے جو خبر دی تھی وہ سچ ثابت ہوئی پوری رات خوف و ہراس سے جاگتارہا خداوند عالم نے اس حادثہ سے ہمیں نجات دی کیونکہ حمایت الٰہی شامل حال تھی۔“

آخرکار پانی سر سے اونچا ہوگیا (اس ناگوار حادثہ میں سید ابن طاؤوس کے بھائی شرف الدین ابوالفضل محمد شہید ہو گئے ۔) مغلوں نے عباسی حکومت پر قبضہ کرلیا ہلاکو خان نے حکم دیا کہ تمام علماء المستنصر یہ کے مدرسہ میں جمع ہو جائیں جب تمام علماء و فضلاء جمع ہوگئے تو سب کے سامنے ایک مسئلہ رکھا کہ عادل کافر کی حکمرانی بہتر ہے یا ظالم مسلمان کی ؟علماء و فقہاء سخت مشکل میں گرفتار تھے پورے مدرسہ میں شک و تردید کا ماحول سایہ فگن تمام لوگ علماء کے فتوے کا انتظار کر رہے تھے سید ابن طاؤوس اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے بے خوف و خطر اپنا فتویٰ سنا دیا کہ ”عادل کافر کی حکومت ظالم انسان کی حکومت سے بہتر ہے ۔“ دوسرے علماء نے بھی آپ کی تائید کی او ر ہلاکو خان کو عدل و انصاف کی دعوت دی۔

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 13:03
Login to post comments