×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

میراث باقیہ کارنامہ سید ابن طاؤوس

دی 26, 1392 621

حلہ کے اس مرد مجاہد نے

بہت سی علمی میراثیں چھوڑی ہیں متقی و پرہیز گار اولاد ، فاضل و عالم شاگروں کے علاوہ آپ نے علمی کتابیں چھوڑی ہیں جن کی طرف معمولی اشارہ کرنے سے آپ کی زندگی بہتر طور پر سمجھی جا سکتی ہے۔

الف: شاگرد

حلہ اور دوسرے شہروں میں بہت کثیر تعداد میں شاگردوں نے سید ابن طاؤوس سے علمی استفادہ کیا جن میں سے درج ذیل اسماء نمایاں حیثیت رکھتے ہیں :

          شیخ سدید الدین یوسف بن علی بن مطہر حلی، آپ علامہ حلی کے والد تھے۔

          آیت اللہ جمال الدین حسن بن یوسف جو علامہ حلی کے نام سے مشہور ہیں۔

          شیخ جمال الدین یوسف بن حاتم شامی

          شیخ تقی الدین حسن بن داؤد حلی

          شیخ محمد بن احمد بن صالح القسینی

          شیخ ابراہیم بن محمد بن القسینی

          شیخ جعفر بن محمد بن احمد القسینی

          شیخ علی بن محمد بن احمد القسینی

          سید غیاث الدین عبدالکریم بن ابی الفضائل احمد بن طاؤوس (سید ابن طاؤوس کے بھتیجے)

          سیداحمد بن محمد علوی

          سید نجم الدین محمد بن الموسوی

          شیخ محمد بن بشیر

          آپ کے بیٹے صفی الدین محمد

          آپ کے دوسرے بیٹے رضی الدین علی

یہ حضرات اوران کے علاوہ دوسرے بہت سے ایسے افراد ہیں جنہوں نے سید ابن طاؤوس کے علمی دستر خوان سے استفادہ کیا اور سید سے نقل روایت کا اجازہ حاصل کیا ہے۔

ب: تالیفات

حلہ کے اس مرد مجاہد نے بہت سی کتابیں تالیف کی ہیں جن میں سے بعض واقعا بے نظیر ہیں۔ آپ نے اعتقادی اختلافات کے سلسلہ میں کتاب لکھی ہے ایسا وصیت نامہ مرتب کیا جو مکمل تجربہ تھا بچوں کے لئے محبت و ایمان بھری کتاب لکھی ، دعا اور معصومین  سے توسل پر آپ نے بہت زیادہ توجہ دلائی ہے۔ آپ کی بہت سی کتابیں موجود ہیں ان سے شیعہ ، سنی دونوں فرقے کے لوگوں نے کافی استفادہ حاصل کیاہے۔

اس مختصر کتاب میں سید ابن طاؤوس کی کتب کی تمام خصوصیات کو ذکر کرنا ممکن نہیں ہے لیکن ہم کچھ کتب کی فہرست درج کررہے ہیں جو بہت مفید ہیں ۔

۱۔       الامان من اخطار الاسفار و الزمان

اس کتاب کو”امان الاخطار فی وظائف الاسفار “ کے نام سے بھی ذکر کیا گیا ہے یہ کتاب ، احکام سفر سے مربوط ہے مثلا سفر میں کیسا لباس پہنا جائے ، بیماریوں اور خطروں سے کس طرح بچا جائے ، زادراہ مہیا کرنا اور سفر کے ناگوں مراحل میں دعاؤں کا پڑھنا وغیرہ مذکور ہے۔

۲۔       انوار اخبار ابی عمرو الزاہد

اس کتاب کو کئی نا م سے پیش کیا گیا ہے جیسے ”المختار من اخبار ابی عمرو الزاہدیا“ اختیارات من کتاب ابی عمرو الزاہد المطرز “ یا”اختر تہ من کتاب ابی عمرو الزاہد “ اس کتاب میں ابی عمر زاہدکی کتاب سے خاص حدیثوں کو منتخب کیا ہے۔

۳۔       انوار الباہرہ فی انتصار العترة الطاہرہ

جیسا کہ نام سے واضح ہے اس کتاب میں سید ابن طاؤوس نے محمد و آل محمد علیہم السلام کے افضل ہونے کو ثابت کیا ہے اوربیان کیا ہے کہ خلافت کے منصب کے حقدار یہی حضرات ہیں۔ شروع میں آپ نے کتاب کا نام ”التصریح بالنص الصریح(الصحیح) من رب العالمین و سید المرسلین علیٰ علی ابن ابی طالب  بامیر المومنین “ رکھاتھا لیکن بعدمیں کتاب کا نام ”انوار الباہرہ فی انتصار الطاہرہ“ رکھا ۔ آپ نے یہ کتاب ستر سال کی عمر کے بعد تحریر کی یعنی تقریبا ۶۵۹ھ میں جب بغداد میں سکونت پذیر تھے۔

۴۔       الاسرار المودعتہ فی ساعات اللیل والنہار

اس کتاب میں آپ نے شب و روز ہر وقت کی دعا تحریر کی ہے بعض مورخوں کے مطابق یہ وہی کتاب ہے جو ”ادعیہ الساعات “ یا کتاب الساعات “ کے نام سے مشہور ہے۔ کفعمی نے اپنی بعض کتب میں اس کتاب کی نسبت سید ابن طاؤوس کی طرف دی ہے۔

۵۔       اسرار الصلوة وانوار الدعوات

۶۔       الہجتہ لثمرات المہجتہ : (فی مہمات الاولا د و ذکراولادی)

یہ کتاب اولاد کے سلسلہ میں لکھی گئی ہے آپ نے اس کتاب میں شادی کے شرائط،آغاز زندگی کے حادثات ، تدریس و مطالعات اور بارگاہ خدا وندی سے اولاد طلب کرنے کا طریقہ وغیرہ ذکر کیا ہے۔

۷۔       البثارات بقضاء الحاجات علی ید الائمتہ علیہم السلام بعد الممات

جیسا کہ کتاب کے عنوان سے روشن ہے اس کتاب میں آپ نے تحریر کیا ہے کہ ائمہ  معصومین علیہم السلام مومنین کی حاجات برطرف کرتے ہیں یہاں تک کہ ظاہری موت کے بعد بھی افادہ کا سلسلہ منطقع نہیں ہوتا ہمارے ائمہ  کا سلسلہ ہمیشہ بارگاہ خدا وندی سے برقرار رہتا ہے تاکہ مومنین ان ذوات مقدسہ کے وسیلہ سے مستفید ہوتے رہیں۔

۸۔       الدروع الواقعیہ من الاخطار فیما یعمل مثلہ کل شہر علی التکرار

یہ کتاب ان دعاؤں کے بارے میں ہے جو ہر ماہ مخصوص ایام میں بصورت تکرار پڑھی جاتی ہیں۔

۹۔       فلاح السائل و نجاح المسائل فی عمل الیوم واللیل

یہ کتاب دو حصوں اور ۴۳فصلوں پر مشتمل ہے پہلے حصے میں ۳۰ فصلیں ہیں جس میں ظہر سے شب تک کی دعائیں تحریر ہیں ۔ دوسرے حصہ میں ۱۳فصلیں ہیں جن میں نماز شب کے لئے بیداری سے لے کر ظہر کے وقت تک کی دعائیں موجود ہیں۔

۱۰۔     فرج المہموم فی مغرفتہ نہج الحلال و الحرام من علم النجوم

سید ابن طاؤوس نے اس کتاب کو ۲۰ محرم ۶۵۰ھ کربلائے معلیٰ میں ختم کیا اگرچہ بعض محققین نے اس تاریخ سے انکار کیا ہے لیکن اس کی صحت کا بھی امکان ہے اس کتاب میں مولف نے ثابت کیا ہے کہ ستارہ شناسی کا علم صحیح علم ہے ہاں! اس کی دونوں صورتوں کو بھیبیان کیا ہے کہ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے۔

۱۱۔     فرحتہ الناظر و بہجتہ الخواطر

یہ کتاب آپ کی اوائل تالیفات میں سے ہے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے کہ آپ کے والد بزرگوار نے جومسودے چھوڑے تھے انہیں آپ نے چار جلدوں میں مرتب کیا ہر جلد سے پہلے خطبہ تحریر کیا چاروں جلدوں کا نام ”فرحتہ الناظر و بہجتہ الخواطر“ رکھا ۔

۱۲۔     فتح الابواب بین ذوی الالباب و رب الارباب فی الاستخارہ و مافیہا من وجوہ الصواب

اس کتاب کو آپ نے ۲۴/رجب المرجب ۶۴۲ھ بروز منگل شروع کیا اور ۵/جمادی الاول ۶۴۸کو ختم کیا اس کتاب میں آپ نے استخارہ کا دفاع کیا ہے او راستخارہ سے صحیح استفادہ کے طریقوں کو بیان کیا ہے۔

۱۳۔     فتح الجواب الباہر فی خلق الکافر

۱۴۔     غیاث سلطان الوری لسکان الژی

فقہی نقطہ نظر سے میت کی قضا نمازوں کے بارے میں یہ کتاب تالیف کی ہے۔

۱۵۔     الابانتہ فی معرفتہ کتب الخزانہ

اس کتاب میں آپ نے اپنے کتب خانہ میں موجود تمام کتابوں کی فہرست تیار کی ہے۔

۱۶۔     اغاثتہ الداعی و اعانتہ الساعی

اس کتاب میں وہ دعائیں ہیں جو حضرت امام عصر  نے انشاء فرمائی ہیں۔

۱۷۔     الاحتساب علی الالباب

کفعمی نے اس نام کی کتاب کی نسبت ابن طاؤوس کی طرف دی ہے لیکن یہ معلوم نہیں کہ ابن طاؤوس سے کون مراد ہے چونکہ کتاب دعا کے بارے میں ہے لہٰذا قوی احتمال ہے کہ سید ابن طاؤوس ہی کی کتاب ہوگی۔

۱۸۔     اجازہ(خاندان قسینی کے لئے)

یہ اجازہ جا دی الاول ۶۶۴ھ میں لکھا گیا ہے اس میں شمس الدین محمد بن احمد ابن صالح القسینی اوران کے بیٹے جعفر، علی ، ابراہیم اور محمد بن حاتم الشامی ، احمد بن محمد العلوی النسابہ ، نجم الدین ابو نصر محمدالموسوی و صفی الدین محمد بشیر العلوی الحسینی کو کتاب ”الاسرار المودعتہ فی ساعات اللیل و النہار “ کے نقل کرنے کا اجازہ دیا گیا ہے۔

۱۹۔     الاجازات فیما یخصنی من الاجازات

اس کتاب میں ابن طاؤوس نے کتب روائی کے طرق کو بیان کیا ہے۔

۲۰۔     الاقبال بالاعمال الحسنتہ فیما یعمل مرة فی السنتہ

یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے پہلی جلد میں شوال سے ذی الحجہ تک کی دعائیں ہیں۔ دوسری جلد میں محرم سے شعبان تک کی دعائیں ہیں ۔ یہ کتاب ۱۳/جمادی الاول ۶۰۵ھ رووز دو شنبہ کربلائے معلی میں تمام ہوئی البتہ بعد میں بھی بعض مناساب سے کتاب میں اضافہ کیا گیا ہے۔

۲۱۔     الاصطفاء فی اخبار الملوک والخلفاء

یہ کتاب عمومی تاریخ خلفاء اورسید ابن طاؤوس کے آباء و اجداد کی جزئیات کے بارے میں ہےٴ

۲۲۔     جمال الاسبوع فی کمال العمل المشروع

یہ کتاب ۴۹ ابواب پر مشتمل ہے شر وع کے ۱۹ ابواب میں ایام ہفتہ کی دعائیں ہیں اس کے بعد اصل کتاب روزجمعہ اور مختلف دعاؤں پر مشتمل ہے۔

۲۳۔     کتاب الکرامات

یہ بہت عظیم کتاب ہے اس میں علمائے دین و بزرگان دین کے کرامات کا ذکر ہے، حالت نماز و کربلائے معلی کی زیارت کے وقت مومنین کرام کو موذی حیوانات ضرر نہیں پہنچاتے وغیرہ بیان کیا گیا ہے۔

۲۴۔     کشف الحجہ لثمر المہجہ

اس کتاب کا دوسرا نام ”اسعاد ثمرة الفواد علی سعادة الدنیا والمعاد“ رکھا تھا اس کتاب کی تالیف ساٹھویں سالگرہ پر یعنی ۱۵/محرم ۶۴۹ھ کربلائے معلی میں شروع کی اور سال کے آخر میں تمام کر دی۔ اس مجموعہ کو آپ نے اپنے فرزند محمد و علی جو اس وقت چھوٹے تھے ہدیہ کے طور پر دی ان کے لئے اس کتاب میں اجازے بھی شامل ہیں۔

۲۵۔     لباب المسرة من کتاب مزار ابن ابی قرة

آپ کے بھتیجے عبدالکریم نے اس کتاب کی نسبت آپ کی طرف دی ہے یہ کتاب ”المزار ابن ابی قرة“ سے منتخب کی گئی ہے۔

۲۶۔     اللہوف علی قتلی الطواف

واقعہ کر بلا اور روز عاشورہ کے حوادثات کو قلمبند کیا گیا ہے۔

۲۷۔     المنامات الصادقات

وہ خواب جو بیداری کے بعدصادق واقع ہوئے اس کتاب کا موضوع ہیں۔

۲۸۔     مسالک المحتاج الیٰ معرفتہ مناسک الحج

حج کے فرائض کو اس کتاب میں بیان کیا گیا ہے۔

۲۹۔     المصراع الشین فی قتل الحسین

۳۰۔     کتاب المزار

اس کتاب میں ائمہ معصومین کی زیارت کے آداب کو بیان کیا گیا ہے۔

۳۱۔     المضار للسباق واللحاق بصوم شہر اطلاق الارزاق و عتاق الاعناق

ماہ مبارک رمضان کی دعائیں نقل کی گئی ہیں اور دوسرا عنوان ”مضمار السبق فی میدان الصدق“ ہے۔

۳۲۔     مصباح الزائر وجناح المسافر

کتاب تین جلدوں پر مشتمل ہے پیشوایان دین اور متقی و پرہیز گار لوگوں کی قبر پر پڑھی جانے والی زیارتوں کا ذکر ہے جیسے سلمان فارسی ، نواب خاص امام زمانہ ،حکیمہ خاتون وغیرہ

۳۳۔     مہج الدعوات و منہم العنایات

۳۴۔     محاسبتہ النفس

یہ کتاب ”محاسبتہ الملائکتہ الکرام آخر کل یوم من الذنوب والآثام“ کے نام سے بھی مشہور ہے اس کتاب میں حساب خدا وندی کے لئے آمادگی کو بیان کیا گیا ہے۔

۳۵۔     المہمات فی صلاح المتعبد والتتمات لمصباح المتہجد

یہ کتاب درحقیقت ”المہمات والتتمات“ کے عنوان سے مشہور ہے درحقیقت میں یہ کتاب شیخ طوسیٰ کی کتاب مصباح المتہجد کی تکمیل ہے مختلف اوقات کی دعائیں مع اہمیت کے ذکر کی گئی ہیں۔

۳۶۔     المجتنی من الدعاء المجتبی

یہ کتاب مولف کے آخری کارناموں می نسے ہے کیونکہ اس کتاب میں آپ نے اپنے بھائی او ر دوست محمد بن محمد آوی کی وفات کا ذکر کیا ہے محمد آوی کی رحلت ۶۵۴ھ میں ہوئی تھی دوسری کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی دعا سے متعلق ہے۔

۳۷۔     مختصر کتاب ابن حبیب

قوی احتمال ہے کہ مولف نے یہ کتاب ”من استجیب دعوتہ“ کی تلخیص کے طور پر مرتب کی ہے جسے محمدبن حبیب نے تالیف کیا تھا ، ایام جاہلیت او ر بعثت کے بعد کی داستانیں نقل کی ہیں اور اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ذی العقدہ و رجب میں دعاؤں کے مستجاب ہونے کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔

۳۸۔     المنتقی من العوذ والرقی

کلمات الٰہی و تعویذات کے صحیح استفادہ کے جائز ہونے کو اس کتاب میں ذکر کیا گیا ہے۔

۳۹۔     المواسعہ و المضایقہ

یہ رسالہ ۱۸/ربیع الثانی ۶۶۱ھ میں مکمل ہوا دو متضاذ نظریات کے بارے میں یہ تحقیق کی ہے کہ اگر کوئی شخص نماز کو اپنے وقت میں ادا نہ کرتے تو کیا حکم ہے اس کتاب میں مولف کی زندگی کے گوشوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور وہ لوگ جو امام زمانہ  کی زیارت سے مشرف ہوئے ان کے قصے بھی مذکور ہیں۔

۴۰۔     القبس الواضح من الجلیس الصالح

یہ کتاب ابوا لفرج المعافی بن زکریا متوفی ۳۹۰ھ کی کتاب ”الجلیس الصالح الکافی والانیس الناصح الشافی“ کا اقتباس ہے۔

۴۱۔     ربیع الالباب

یہ کتاب کئی جلدوں پر مشتمل ہے اس میں نیکوں و پرہیز گاروں کی داستانیں ہیں۔

۴۲۔     ری الظمآن من مر وی محمد بن عبداللہ بن سلیمان

اس کتاب میں عبداللہ بن سلیمان الحضرمی مشہور بہ ابن مطین کی روایت کے ذریعہ حضرت علی علیہ السلام کی برتری و فضیلت ثابت کی گئی ہے۔

۴۳۔     روح الاسرار و روح الاسمار

سید ابن طاؤوس ا س کتاب کو اپنی شروع کی کتابوں میں بیان کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اس کو محمد بن عبداللہ بن علی بن زہرہ الحلبی کی درخواست پر مکہ معظمہ کی مسافرت پر حلہ یعنی اپنے وطن میں تالیف کیا تھا۔

۴۴۔     السعادات بالعبادات التی لیس لہا اوقات معینات

اس کتاب میں ان عبادات کا ذکر کیا گیا ہے جن کے لئے وقت معین نہیں ہے۔

۴۵۔     سعد السعود للنفوس ، المنضود من کتب وقف علی بن موسی بن طاؤوس

۴۶۔     شرح نہج البلاغہ

۴۷۔     شفاء العقول من داء الفضول فی علم الاصول

اس کتاب کو آپ نے مقدمہ علم کلام کے طور پر تحریر کیا ہے اپنی عادت کے مطابق اسے بہت جلد مرتب کیا ۔ آپ کے قول کے مطابق علم کلام پر یہ آپ کی واحد کتاب ہے اس لئے کہ تمام انبیاء  نے بغیر علم کلام کے کاررسالت انجام دیا ہے ابن طاؤوس نے بھی انہیں کی پیر وی کی ہے۔(واضح رہے کہ سید ابن طاؤوس کا مقصد اس زمانہ میں رائج علم کلام ت ھا جو نہ یہ کہ مفید نہیں تھا بلکہ اصلی مباحثت کے لئے مانع ہوتا تھا اور نہ وہ علم کلام جو لوگوں کے شبہات کا ازالہ کرے ، دشمن کو خاموش کر دے یقینا ضروری علم ہے۔

۴۹۔     التحصین فی اسرار مازادمن اخبار کتب القین

حضرت علی علیہ السلام کی برتری و فضیلت میں ۵۶روایتیں جمع کی ہیں جو کتاب ”الیقین “ کی تکمیل کے عنوان سے ہے۔

۵۰۔     کتاب التما لمہام شہر الصیام

ماہ مبارک رمضان کی دعاؤں کو اس کتاب میں جمع کیا گیا ہے۔

۵۱۔     تقریب السالک الیٰ خدمتہ المالک

۵۲۔     الطرائف فی مذاہب الطوائف

سید ابن طاؤوس نے یہ کتاب ” عبدالمحمود بن داؤد المضری“ کے نام سے لکھی ہے ایسا لگتا ہے کہ اس کتاب کو آپ نے تقیہ کی صورت میں تمام کیا ہے اس کتاب میں غیر مسلم شخص مسلمانوں کے مناظروں کو سنتا ہے اورمذہب شیعہ کا انتخاب کرتا ہے۔

۵۳۔     کتاب التراجم فیما نذکرہ عن الحاکم

۵۴۔     کتاب التعریف للمولد الشریف

اس کتاب میں آپ نے رسول اکرم اوراہل بیت  کی تاریخ ولادت و وفات کو بیان کیا ہے۔

۵۵۔     التشیر بالمنن فی التعریف بالفتن

۵۶۔     التشریف بتعریف وقت التکلیف

سید ابن طاؤوس نے یہ کتاب ۹/محرم ۶۵۸ھ کو اپنے فرزند کی پندرہویں سالگرہ کے موقعہ پر تحریر کی ہے اس کتاب میں آپ نے بیان کیا ہے کہ جب بچہ سن بلوغ کو پہنچے تو خوشی منانی چاہیے لیکن اس دن کو زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ۔ آپ اعزاء و اقارب سے کہتے ہیں کہ اس دن شکر خدا بجا لا کر صدقہ دیں اور اس دن کی خاص اہمیت کے قائل ہوں۔

۵۷۔     کتاب التوفیق للوفاء بعد تفریق دارالفناء

۵۸۔     طرف الانباء و المناقب فی شرف سید الانبیاء و عترتہ الاطائب

۵۹۔     الیقین فی اختصاص مولانا علی بامرة المومنین

۶۰۔     زہرة الربیع فی اوعیتہ الاسابیع

بعض محققین کے مطابق اس کتاب میں ایام ہفتہ کی دعائیں جمع کی گئی ہیں حجم کے اعتبار سے یہ ”جمال الاسبوع“ کے برابر ہے ” جمال الاسبوع “ میں جمعہ کے دن کی دعائیں ہیں اور اس میں دوسرے ایام کی دعائیں موجود ہیں۔

اگر سید ابن طاؤوس کی تمام کتابوں پر نظر ڈالیں تو بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ نصف سے زیادہ تالیفات دعاؤں کے سلسلہ میں ہیں یہ (۲) دوچیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہیں :

۱۔ اس دور میں شیعیان علی  پر ایک خاص دور تھا اجتماعی اورسیاسی مشکلات بہت زیادہ تھیں اگرچہ بنی عباس نے ظاہری طور پر سیدابن طاؤوس کے لئے آسائشیں مہیا کی تھیں لیکن شیعیان علی  سے خصوصی دشمنی تھی انھیں کچلنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی تھی۔

ایسے نازک دور میں شیعیان علی  کے لئے دعا اور توسل معصومین  ہی نجات کا ذریعہ تھا لیکن اس دور میں دعاؤں کی کتابیں موجود نہ تھیں لہٰذا سید ابن طاؤوس نے اس مشکل کو درک کیا کہ مومنین کوکتب ادعیہ کی ضرورت ہے لیکن کتابیں موجود نہیں ہیں لہٰذا اگر کتابیں تالیف کی جائیں تو دعاوں کا اثر اور زیادہ بڑھے گا آپ نے ہمت کی اور کتابیں لکھنی شروع کر دیں ورنہ آج بہت سی دعائیں جومعصومین  سے مروی ہیں ہمارے ہاتھوں میں نہ ہوتیں۔

۲۔ ان تالیفات سے خود سید ابن طاؤوس کی علمی شخصیت نمایاں ہوتی ہے اس عارف کامل نے مذہبی شہر وں کا مسلسل سفر کیا قربت خدا وندی اورمعصومین علیہم السلام کے وسیلہ کی پوری لذت حاصل کی لہٰذا بہترسمجھا کہ اس معنوی مٹھاس کو مومنین کرام کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کریں اور مومنین اس سے استفادہ کرکے معنوی مراحل طے کریں۔ نیک بختی اور منزل کمائی تک رسائی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کوئی راستہ نہ تھا۔

انہیں عوامل کے باعث آپ نے دعائیں مرتب کیں جسے مومنین نے خوب پسند بھی کیا قرآن کریم کے ساتھ معنوی غذا کے لئے ایک عرصہ دراز تک یہ کتابیں مسجدوں و گھروں میں موجود رہیں۔

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 13:36
Login to post comments