×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

رسول خدا اور جانشین کا تعین

دی 26, 1392 519

مناسک حج مکمل ہو گئے

اور رسول خدا واپس مدینہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن جو فرض آنحضرت پر واجب تھا وہ ابھی ادا نہیں ہوا تھا۔ مسلمانوں نے یہ سمجھ کر کہ کام انجام پذیر ہو چکا ہے اسی لیے ان میں سے ہر ایک شخص نے اس سفر سے معنوی فیض کسب کیا اور اب ہر ایک کی یہی تمنا تھی کہ جس قدر جلد ہوسکے تپتے ہوئے بے آب و ویران ریگزاروں کو پار کرکے واپس وطن پہنچ جائے۔ لیکن رسول خدا نے چونکہ اپنی عمر عزیز کے تئیس سال اول سے آخر تک رنج و تکالیف میں گزار کر آسمانی آئین یعنی دین اسلام کی اشاعت و ترویج کے ذریعے انسانوں کو پستی و گمراہی اور جہالت و نادانی کی دلدل سے نکالنے میں صرف کئے تھے۔ اور آپ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے تھے۔ آپ یہی چاہتے تھے کہ پرگندہ انسانوں کو ایک پرچم کے نیچے جمع کرلیں انہیں امت واحد کی شکل میں لے آئیں مگر اس کے بعد اب دوسرا خیال درپیش تھا کہ اب آنحضرت کے سامنے اسلام کا مستقبل اور رہبر کے انتخاب کا مسئلہ تھا۔ بالخصوص اس صورت میں جبکہ آپ کے روبورو یہ حقیقت بھی تھی کہ اس پر افتخار زندگی کے چند روز ہی باقی رہ گئے ہیں۔

رسول خدا ہر شخص سے زیادہ اپنے معاشرے کی سیاسی اور ثقافتی وضع و کیفیت سے واقف و باخبر تھے۔ آپ کو اس بات کا بخوبی علم تھا کہ آسمانی تعلیمات آپ کی دانشورانہ قیادت و رہبری اور حضرت علی علیہ السلام جیسے اصحاب کی قربانی کے باعث قبائل کے سردار و شرفاء قریش اسلام کے زیر پرچم پہنچا دیا۔

یا ایھا الرسول بلغ ما انزل من ربک وان لم تفعل فما بلخت رسلتہ واللہ یعصمک من الناس

”اے رسول! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچائے گا۔“

گرمی سخت تھی اور کافی طویل قافلہ زنجیر کے حلقوں کے مانند پیوستہ اپنی منزل کی جانب گامزن تھا۔ رسول خدا کے حکم سے یہ قافلہ رک گیا اور سب لوگ یک جا جمع ہوگئے اور سب لوگ یہ جاننے کے متمنی تھے کہ کون سا اہم واقعہ رونما ہوا ہے۔

رسول خدا نے پہلے تو نماز ظہر کی امامت فرمائی اور اس کے بعد ایک اونچی جگہ پر جو اونٹ کے کجاؤں سے بنائی گئی تھی تشریف فرما ہوئے اس موقعے پر آپ نے مختلف مسائل کے بارے میں مفصل خطبہ دیا اور ایک بار پھر لوگوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ کتاب اللہ نے اور اہل بیت رسول کی پوری دیانتداری کے ساتھ پیروی کریں کیونکہ یہی دونوں ”متاع گرانمایہ“ بیش قیمت مال ہیں۔ اس کے بعد آنحضرت نے اصل مقصد کی جانب توجہ فرمائی۔

آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کا دست مبارک اپنے دست مبارک میں لے کر اس طرح بلند کیا کہ سب لوگوں نے رسول نیز حضرت علی علیہ السلام کو ایک دوسرے کے دوش بدوش دیکھا چنانچہ انہوں نے سمجھ لیا کہ اس اجتماع میں کسی ایسی بات کا اعلان کیا جائے گا جو حضرت علی علیہ السلام کے متعلق ہے۔

رسول خدا نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
اے مومنو! تم لوگوں میں سے کون سا شخص سب سے زیادہ برتر و بالا ہے؟ مجمع نے جواب دیا کہ ”خدا اور رسول خدا ہی بہتر جانتے ہیں۔“

اس پر رسول خدا نے فرمایا کہ: میرا مولا خدا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں میں سب سے بہتر ہوں اور سب پر مجھے فضیلت حاصل ہے جس کا مولا میں ہوں یہ علی علیہ السلام اس کے مولا ہیں، اے خداوندا جو علی علیہ السلام کے دوست ہوں انہیں تو عزیز رکھ اور جو علی علیہ السلام کے دشمن ہوں تو ان کے ساتھ دشمنی کا سلوک کر۔ علی علیہ السلام کے دوستوں کو فتح و نصرت عطا فرما اور دشمنانِ علی علیہ السلام کو ذلیل و خوار کر۔
رسول خدا کا خطبہ ختم ہو جانے کے بعد مسلمان حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور رسول خدا کی طرف سے مرتبہ خلافت و قیادت تقویض کئے جانے پر مبارکباد پیش کی اور آپ علیہ السلام سے مولائے مسلمین کہہ کر ہمکلام ہوئے۔ خداوند تعالیٰ نے بھی حضرت جبرئیل کو بھیج کر اور مندرجہ ذیل آیت نازل فرما کر لوگوں کو اس نعمت عظمیٰ کی بشارت دی۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا.

”آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند فرمایا ہے۔“

اس روز سے (۱۸ ذی الحجہ) کو مسلمان اور حضرت علی علیہ السلام کے پیروکار ”عید غدیر“ کے نام سے ہر سال جشن مناتے ہیں اور اس عید کا شمار اسلام کی عظیم عیدوں میں ہوتا ہے۔

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 14:26
Login to post comments