×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تیسری صدی ھجری کے دوران شیعوں کی حالت

دی 28, 1392 671

تیسری صدی ھجری کے آغاز سے

شیعوں نے سکون کی سانس لی۔ اس کا پھلا سبب یہ تھا کہ یونانی ، سریانی او ردوسری زبانوں سے بھت زیادہ علمی اور فلسفی کتابیں عربی زبان میں ترجمہ ھوگئی تھیں اورلوگ استدلالی و عقلی علوم کوحاصل کرنے کے لئے جمع ھوگئے تھے ۔ اس کے علاوہ عباسی خلیفہ مامون الرشید خود (۱۹۵ تا۲۱۸ ھجری قمری )معتزلہ مذھب کاپیرو تھا اورمذھب میں عقلی استدلال کی طرف مائل تھا لھذا اس نے مختلف ادیان اورمذاھب میں لفظی استدلال کے رواج کی عام آزادی دے رکھی تھی ۔ یھی وجہ تھی کہ علماء اور شیعہ متکلمین نے اس آزادی سے پورا پورا فائدہ اٹھایا اورانھوں نے علمی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مذھب اھلبیت کی تبلیغ میں بھی کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ۔

دوسرے یہ کہ خلیفہ مامون الرشید نے سیاسی حالات کے پیش نظر آٹھویں امام حضرت امام رضا علیہ السلام کو اپنا ولی عھد اور جانشین بھی مقررکررکھا تھا جس کے نتیجے میں علوی خاندان اور اھلبیت (ع) کے دوست اور طرفدار ایک حد تک سرکاری عھدیداروں کے ظلم وتشدد سے محفوظ ھوچکے تھے اورکم وبیش آزاد تھے لیکن زیادہ عرصہ نہ گزرا تھا کہ دوبارہ تلوار کی تیز دھار شیعوں کی طرف پھرگئی اوران کے اسلاف کے حالات ان کے لئے بھی پیدا ھوگئے خصوصا ً عباسی خلیفہ متوکل باللہ (۲۳۲ تا ۲۴۷ ھجری قمری)کے زمانے میں جو حضرت علی (ع) اور آپ کے پیروکاروں سے خصوصی دشمنی رکھتا تھا اور اسی کے حکم سے امام حسین علیہ السلام کا مزار مقدس مٹی میں ملادیا گیا تھا

Last modified on شنبه, 28 دی 1392 11:59
Login to post comments