×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت فاطمہ زہرا کا حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ عقد

دی 30, 1392 839

اسلام کی واحد عظیم خاتون

حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کا عقد ہجرت کے دوسرے سال بدر کی لڑائی کے دو ماہ بعد حضرت علی علیہ السلام سے ہوا۔

شادی کے مراسم نہایت سادہ مگر معنوی شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوئے، حضرت فاطمہ زہراء کا مہر ۵۰۰ درہم تھا۔ حضرت علی نے اپنی زرہ چار سو درہم میں فروخت کی اور مہر کے ایک حصہ کے عنوان سے رسول کی خدمت میں درہم پیش کیے۔

حضرت نے اس میں سے کچھ پیسے اپنے اصحاب کو دیئے تاکہ وہ بازار سے حضرت زہراء کے جہیز کا سامان خرید لائیں۔

انہوں نے بازار سے مندرجہ ذیل چیزیں جہیز کے لیے خریدیں:

سات درہم کا ایک پیراہن

ایک اوڑھنی ”روسری“

ایک کالی چادر ”قطیفہ“

ایک عربی چارپائی جو لکڑی اور لیف خرمہ کی بنی ہوئی تھی۔

دو تشک جس کا اوپری حصہ کتان مصری کا بنا ہوا تھا اور اس میں سے ہر ایک توشک میں لیف خرما اور اون بھرا ہوا تھا۔

چار تکئے جس میں دو پشمی اور دوسرے دو تکئے خرمے کی چھال سے بھرے گئے تھے۔

پردہ

چٹائی

چکی (ہاتھ سے چلانے والی)

ایک بڑا طشت

کھال کی ایک مشک

ایک لکڑی کا پیالہ (دودھ کے لیے)

ایک مشک

لوٹا

چند بڑے برتن

چند مٹی کے کوزے

چاندی کا دست بند

رسول کے اصحاب جب بازار سے لوٹے تو انہوں نے سامان حضور کے سامنے رکھا آپ نے جب اپنی بیٹی کا جہیز دیکھا تو فرمایا ”خدایا ان لوگوں کی زندگی کو مبارک قرار دے جن کے زیادہ تر ظروف مٹی کے ہیں۔ (کشف الغمہ ج۱ ص ۳۵۹)

اس بابرکت شادی کا پہلا ثمرہ حرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ہیں آپ ۱۵ رمضان المبارک تیسری ہجری کو جنگ احد سے پہلے متولد ہوئے۔

(کشف الغمہ ج۱ ص ۳۷۴)

Last modified on دوشنبه, 30 دی 1392 11:47
Login to post comments