×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شہادتِ مسلم بن عوسجہ

بهمن 01, 1392 556

( امام زین العابدین کا آوازِ استغاثہ

سن کر میدانِ جنگ کی طرف جانا،امام حسین کا کہنا کہ بیٹا! واپس چلے جاوٴ، ابھی تم نے اس سے بھی بڑا جہاد کرنا ہے )

آج ساتویں تاریخ ہوگئی۔ آج کربلا میں نہر کے گھاٹ پر پہرے بٹھا دئیے گئے کہ کافر اگر پانی پینا چاہیں تو پلا دینا مگر رسول کی اولاد کو پانی نہ دینا۔ یہ غالباً آج ہی تاریخ ہے سات محرم کہ جب فوجوں کے ہجوم ہونے لگے تو مسلم ابن عوسجہ نے امام زین العابدین علیہ السلام سے یہ کہا کہ آقا زادے! ذرا آپ کچھ ادھر آئیں تو میں کچھ بات کروں۔ آپ چلے گئے۔ مسلم ابن عوسجہ نے کہا: شہزادے ! دیکھ رہے ہیں آپ، یہ فوجیں چلی آرہی ہیں اور یہ صرف ہمارے امام کے ایک سر کیلئے آرہی ہیں۔ آپ ہم میں موجود ہیں اور آپ کے رگ و پے میں علی کا خون دوڑ رہا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ آپ کے ہوتے ہوئے ہم بغیر امام نہ ہوں گے۔ یہ جو مسلم نے کہاتو امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک انگڑائی لی اور فرماتے ہیں کہ:
مسلم! مجھے شجاع بنانا چاہتے ہو، ارے کس کی مجال ہے کہ میں موجود ہوں اور میرے باپ کو کوئی میلی نظر سے دیکھ سکے۔ خون کی ندیاں بہہ جائیں گی۔

امام حسین علیہ السلام کا گھر بھی ایسا گھر تھا کہ کبھی چشم فلک نے نہ دیکھا ہوگا۔ امام زین العابدین اپنے دادا امیرالموٴمنین علیہ السلام سے مشابہ تھے۔ بائیس سال کی عمر تھی جب کربلا میں آئے تھے۔ جب کبھی گھوڑے پر سوار ہوکر گزر جاتے تھے تو یہی گمان ہوتا تھا کہ علی جارہے ہیں۔ دوسرا بیٹا نانا کا ہم شکل ، سر سے پاؤں تک معلوم ہوتا تھا کہ رسول ہیں۔ کیسا پُر رونق گھر تھا ۔ کربلا میں سارا گھر تباہ ہوگیا۔

جب امام زین العابدین علیہ السلام نے مسلم سے یہ کہا تو جنابِ مسلم ابن عوسجہ چپ ہو  گئے۔ امام زین العابدین آئے خیمے کی طرف اور غلام کو آواز دی کہ گھوڑے پر زین رکھ کر لے آؤ۔ آپ اندر چلے گئے۔ پھر واپس آئے تو خَود تھا سر پر۔ جسم مبارک پر زرہ تھی اور مسلح تھے۔ غلام نے گھوڑا آگے بڑھایا۔ آپ سوار ہوئے، میدانِ کربلا میں ٹہلنا شروع کیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ علی آئے ہیں اور ٹہل رہے ہیں۔ کبھی فوجوں کی طرف نگاہِ غیظ کہ میرے باپ کے قتل کیلئے جمع ہوئے ہیں اور کبھی اپنے مظلوم باپ کی طرف نظر۔ جب تھوڑی دیر ہوگئی اور امام حسین نے یہ طور دیکھے تو آواز دی: بڑی دیر سے ٹہل رہے ہو، آؤ نا گھر میں چلے آؤ۔ باپ کا جو حکم ہواتو گردن جھکائے ہوئے واپس ہوئے اور خیمے میں داخل ہوگئے۔ خیمے میں داخل ہونا تھاکہ اس کے بعد اس وقت نہ نکل سکے کہ جب تک ہاتھوں میں ہتھکڑیاں نہ پڑ گئیں۔ ایک مرتبہ ذرا نکلے تھے اور جنابِ اُمّ کلثوم پھر لے گئی تھیں۔ جاتے ہی بخار چڑھا اور بخار شدید ہوتا گیا، یہاں تک کہ صبح ہوئی ہے آٹھویں کی تو آپ اٹھ کر بیٹھ نہیں سکتے تھے۔ قدرت کو منظور تھا یہی کہ سلسلہٴ امامت قائم رہے اور پھر یہ بھی تو تھا کہ یہ شہزادیاں تنہا کس طرح جائیں گی! کوئی تو ہو جو کبھی اُن سے بات کرسکے۔ اس لئے یہ بخار چڑھا اور ایسا چڑھا کہ آپ اٹھ بھی نہیں سکتے تھے۔ صبح کے وقت کچھ افاقہ ہوتا تھا، پھر آنکھیں بند ہوجاتی تھیں۔ نویں تاریخ کو کمزوری بہت بڑھ گئی۔ ذرا رات کو آنکھ کھلی تھی تو پھوپھی سے کچھ باتیں کرلیں۔

فرماتے ہیں: پھوپھی جان! میرے بابا کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا:اصحاب سے باتیں کررہے ہیں۔ تو سرکتے سرکتے کچھ آگے آئے اور امام حسین کی یہ بات جو سنی کہ میرے ساتھیو! میرے صحابیو! مجھے چھوڑ کر چلے جاؤ۔ میں کل شام تک شہید ہوجاؤں گا۔ یہ آواز جو سنی تو آپ نے ایک چیخ ماری۔ امام حسین کے کانوں میں یہ آواز پہنچی، دوڑتے ہوئے باہر نکل آئے۔ اُٹھا کر اندر لے گئے۔ فرماتے ہیں: بہن زینب ! میرے بیٹے کا خیال رکھنا۔ نمازِ صبح کے وقت افاقہ سا ہوا، نماز پڑھی۔ گھر میں بھائیوں کو دیکھ لیا، چچاؤں کو دیکھ لیا۔ باپ کا دیدار کرلیا۔ سب صحیح و سالم تھے۔ ادھر آفتاب نکلا، اُدھر بخار کی شدت ہوئی اور غشی طاری ہوگئی۔

حبیب ابن مظاہر مارے گئے، زہیر بن قین مارے گئے، مسلم ابن عوسجہ مارے گئے، قاسم کی لاش آگئی اور خیمہ میں بیبیوں کا ماتم ہوگیا۔ مگر امام زین العابدین پر ابھی غشی طاری ہے۔ علی اکبر بھی اُٹھ گئے دنیا سے۔ علی اصغر کی ننھی سی لاش کو سپردِ خاک کیا جاچکا۔علی اصغر کی قبر بناکر امام حسین خیمے کے دروازے پر آئے اور آواز دی: میری بہنو! میراآخری سلام، جنابِ زینب نے عرض کیا:
بھیا!خیمے میں آجائیے۔ خیمے میں آئے تو بہن نے گلے میں بانہیں ڈال دیں اور رونا شروع کیا۔ امام نے فرمایا: بہن! اب رونے کا وقت نہیں۔ میرا امتحان ختم ہورہا ہے۔ تمہارا امتحان شروع ہونے والا ہے۔ بہن! اتنی خواتین کو ساتھ لے کر جانا ہے، صبر سے کام لینا، بددعا نہ کر دینا۔

پھر فرماتے ہیں : اچھا بہن!ذرا مجھے میرے بیمار فرزند تک تو لے چلو۔ میں اُس کو آخری مرتبہ دیکھ لوں۔ آپ امام زین العابدین علیہ السلام کے خیمے میں آئے۔ عالمِ غشی میں آنکھیں بند ہیں۔ بیٹھ گئے، آواز دی، زین العابدین بیٹا! باپ آیا ہے، ذرا آنکھیں کھولو،کچھ باتیں کرلو۔آپ کی آنکھ نہ کھلی۔ شانہ پکڑ کر ہلایا، بیہوشی نہ ٹوٹی۔ نبض پرہاتھ رکھا، بخار کی شدت محسوس ہوئی۔ خیال آیا :ارے یہ بخار کی یہ کیفیت! کمزوری کی یہ حالت!اِن ہاتھوں میں ہتھکڑیاں کیسے پڑیں گی؟ پاؤں میں بیڑیاں کس طرح پڑیں گی؟ آخر باپ کا دل تھا۔ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ یہ آنسو بیمار کے چہرے پر پڑے، آپ نے آنکھیں کھول دیں۔ آنکھیں جو کھولیں تو صبح باپ کو دیکھا تھا کہ نہ کوئی زخم ہے، نہ کپڑوں پر خون کا کوئی نشان تھا۔ اب جو آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک شخص سر سے پاؤں تک زخمی، خون میں ڈوبا ہوا سامنے ہے۔

پریشان ہوگئے۔ امام حسین نے فرمایا:

بیٹا! گھبراؤ نہیں، تمہارا مظلوم باپ تمہیں ملنے کیلئے آیا ہے۔

امام حسین کو پہچانا۔ خیال آیا کہ میرے باپ اتنے زخمی ہوگئے۔ اتنے عزیز تھے، دوست تھے، وہ کیا ہوئے؟ تو پوچھتے ہیں: بابا! وہ بچپن کے دوست حبیب کہاں گئے کہ آپ زخمی ہیں؟ فرمایا: بیٹا! وہ مارے گئے۔ کہا: مسلم بن عوسجہ کیا ہوئے؟ بیٹا وہ بھی مارے گئے۔ آخر میں عرض کرتے ہیں: پھر میرے بہادر اور جری چچا عباس کہاں گئے جو آپ زخمی ہوگئے؟ فرماتے ہیں :بیٹا! نہر کے کنارے بازوؤں کو کٹائے ہوئے سورہے ہیں۔

اس کے بعد عرض کرتے ہیں: بابا! میرے بھائی علی اکبر ؟ فرماتے ہیں: سینے پر نیزہ کھا کر دنیا سے اُٹھ گئے۔ بیٹا! اب میں آیا ہوں تم سے رخصت ہونے کیلئے۔ تھوڑی دیر باقی ہے کہ میں بھی نہ رہوں گا۔ یہاں بہنوں کا ساتھ ہے، کمزوری ہے، تکلیف زیادہ ہو تو بددعا نہ کرنا۔

امام حسین میدان میں آئے، اِدھر دیکھا، اُدھر دیکھا۔ کوئی نہ تھا تو ایک مرتبہ آپ نے آواز دی۔ یہ غالباً آخری مرتبہ کا استغاثہ ہے:"ھَلْ مِنْ نَاصِرٍ یَنْصُرُنَا" ۔ "کوئی ہے جو اس عالم بیکسی میں میری فریاد رسی کرے"۔ یہ آواز وہ تھی جو عالم کے ہر ذرّہ تک پہنچی اور تو کسی نے جواب نہ دیا لیکن خیموں سے بیبیوں کے رونے کی آوازیں بلند ہوگئیں۔اب جو امام نے خیموں کی طرف مڑ کر دیکھا تو کیا قیامت دیکھی!امام زین العابدین علیہ السلام ایک تلوار پکڑے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر سرکتے ہوئے چلے آرہے ہیں۔ جنابِ اُمّ کلثوم پیچھے سے قمیص کا دامن پکڑے ہوئے ارے بیٹا! کدھر جا رہے ہو؟ عرض کرتے ہیں: پھوپھی جان! میرا مظلوم باپ فریاد کررہا ہے، مجھے جانے دیجئے۔

نام کتاب:  روایات عزا

 مصنف:  علامہ حافظ کفایت حسین نور اللہ مرقدہ

Last modified on سه شنبه, 01 بهمن 1392 10:49
Login to post comments