×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سورۂ یوسف کی آیت نمبر 69 کی تفسیر

بهمن 01, 1392 444

بسم اللہ الرّحمن الرّحیم

خدا کے آخری رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلّم اور ان کے اہلبیت علیہم السلام پر درود و صلوات کے ساتھ الہی تعلیمات پر مشتمل پیام قرآن میں آج ہم اپنی یہ آسان و عام فہم سلسلہ وار تفسیری گفتگو سورۂ یوسف کی آیت 69  سے شروع کر رہے ہیں ۔ خدا فرماتا ہے :

" و لمّا دخلوا علی یوسف اوی الیہ اخاہ قال انّی انا اخوک فلا تبتئس بما کانوا یعملون "

یعنی : جس وقت وہ سب [ یوسف (ع) کے بھائی ] یوسف کے ( دربار میں ) داخل ہوئے انہوں نے اپنے بھائی ( بنیامین) کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا : میں تمہارا بھائی ہوں ، پس یہ لوگ ( تمہارے ساتھ ) جو کچھ کرتے رہے ہیں اس کا غم نہ کرو ۔

عزیزان گرامی ! آپ کے پیش نظر ہے کہ جناب یعقوب (ع) کی فرمائش کے مطابق ان کے گیارہ بیٹے مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوئے اور اپنے حصے کا اناج لینے کے لئے حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس گئے چنانچہ آيت کے مطابق جناب یوسف (ع) نے اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس بٹھایا اور اپنا تعارف کراتے ہوئے اطمینان دلایا کہ اب تم اپنے بھائی یوسف کے پاس آ گئے ہو لہذا دوسرے بھائیوں نے اب تک جو ناگوار برتاؤ رکھا ہے اس کو بھول جاؤ ۔ ظاہر ہے بنیامین نے کنعان سے باہر مصر کا پہلا سفر کیا تھا اور وہ بھی ان بھائیوں کے ساتھ جو ان کے بھائی یوسف (ع) کو باپ سے جدا کر چکے تھے اور خود ان سے بھی باپ کی بے پناہ محبت دیکھ کر حسد کرتے تھے ۔ ایسے میں بنیامین کے احساسات ان کے چہرے سے اندازہ لگا کرہی جناب یوسف (ع) نے انہیں مطمئن کرنے کےلئے ان سے اپنا تعارف ضروری سمجھا ہوگا چنانچہ روایات کے مطابق یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں کو دو دو کرکے ایک ساتھ بٹھایا اور جب بنیامین اکیلے بچے تو انہیں اپنے ساتھ بٹھا کر بات چیت کی اور یہ واضح کردیا میں تمہارا گمشدہ بھائي راحیل کے ذریعے یعقوب کا فرزند یوسف (ع) ہوں اور پھر رات میں بھی دونوں ایک ساتھ ایک ہی کمرے میں رہے اور انہیں اپنے پاس رکھنے پر راضی کر لیا اور جیسا کہ بعض نے لکھا ہے جناب یوسف (ع) نے بنیامین کو اپنے پاس روکنے کے لئے جو منصوبہ بنایا تھا اس سے بھی آگاہ کردیا کہ کسی مرحلے میں بنیامین پریشان و مضطرب نہ ہوں ۔

Last modified on سه شنبه, 01 بهمن 1392 13:46
Login to post comments