×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سورۂ یوسف کی آیت نمبر 71-72 کی تفسیر

بهمن 01, 1392 476

سورۂ یوسف (ع)

کی آیات اکہتر اور بہتر میں قرآن کہتا ہے :

 " قالوا و اقبلوا علیہم مّا ذا تفقدون ! قالوا نفقد صواع الملک و لمن جاء بہ حمل بعیر وّ انا بہ زعیم "

[ یوسف ( ع ) کے بھائیوں نے کارندوں کی طرف ] رخ کرکے کہا : تمہاری کیا چیز غائب ہے ( جو اس طرح تلاشی لے رہے ہو ) ؟ کارندوں نے کہا : شاہی پیمانہ نہیں مل رہا ہے ( پھر خزانہ دار نے کہا ) : جو بھی اسے ڈھونڈ کر لائے گا اس کو ایک اونٹ کا بار انعام میں ملے گا ، میں اس کی ذمہ داری لیتا ہوں ۔

عزیزان محترم ! لوگوں کو جس پیمانے سے ناپ کر غلہ دیا جاتا تھا اور جس میں لوگ پانی بھی پیتے تھے وہ ناپ کا پیالہ غائب تھا لہذا حکومت کے کارندوں نے وہاں موجود کاروانوں کے تمام مسافروں کے سامان کی تلاشی لینا شروع کردی اور یوسف (ع) کے بھائیوں کے سامان کی طرف بھی تلاشی کے لئے بڑھے اس وقت ان لوگوں نے سوال کیا کہ آخر تمہاری کون سی چیز گم ہوگئی ہے کہ اونٹ کے بار اتار کر اس طرح تلاشی لی جا رہی ہے ؟ انہوں نے بتایا : غلہ کی پیمائش کا شاہی پیالہ گم ہوگیا ہے ہمیں اسی کی تلاش ہے اور اسی درمیان یوسف (ع) نے بھی اعلان کروادیا کہ جو شخص وہ پیالہ ڈھونڈ کر دے گا اس کو غلہ کا ایک " بار شتر " انعام میں ملے گا ۔ میں اس کی ضمانت لیتا ہوں ۔

Last modified on سه شنبه, 01 بهمن 1392 13:57
Login to post comments