×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآنِ کریم اور نورِ الہی

بهمن 02, 1392 439

الله نور السماوات و الأرض

مثل نوره كمشكواة فيها مصباح المصباح في زجاجة الزجاجة كأنها كوكب دري يوقد من شجرة مباركة زيتونة لا شرقية و لا غربية یکاد زيتها يضيئ و لو لم تمسسه نار نور على نور يهدي الله لنوره من يشاء و يضرب الله الأمثال للناس و الله بكل شيئ عليم.

"خدا نور ہےآسمانوں اور زمین کا۔ اُس کے نور کی مثال یوں ہےجیسے ایک طاق ہوجس میں ایک چراغ رکھا ہو، اور چراغ قندیل میں ہو، اور قندیل موتی کا سا چمکیلا ستارہ ہو، اُسے ایک مبارک درخت کا تیل روشن کرتا ہو، زیتون کا درخت، جو نہ شرقی ہے، نہ غربی، اور جس کا روغن خوب تجلّی آمیز ہے، اگرچہ آگ اُسے نہ چھو ئے۔نور پر نور: خدا جسے چاہتا ہےہدایت دیتا ہےاپنے نور سے۔ اور خدا انسانوں کی رہنمائی کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے،اور خدا تمام باتوں کا جاننے والا ہے۔"

*ألر كتاب أنزلناه إليك لتخرج الناس من الظلمات إلى النور بإذن ربهم إلى صراط العزيز الحميد.

"الٓر، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے آپ پر نازل فرمایا ہے تاکہ آپ تمام لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف یعنی خداے غالب و ستودہ صفات کی راہ کی طرف لائیں۔"

*عرفان کا ہدف خودشناسی اور اپنے وجود کی حقیقت کی معرفت ہے، جو خداوندِ یکتا کی معرفت پر منتج ہوتی ہے۔ اس معرفت کا حاصل نور الٰہی ہے۔ حضرت مولانا المعظّم شاہ مقصود صادق عنقا فرماتے ہیں: "اپنے غیب و شہود کی دنیا کو دل کی بےکراں وسعتوں میں عینِ ناداری کے ساتھ جستجو کرو تاکہ وجود کے نور کا مطلع پا سکو اور جان کی ہدایات کے انوار کو اُس کے جمال میں محو رکھو تاکہ تم وہ سکون پاسکو ، جس کی تمھیں تلاش ہے۔ جان لو، باہر باہر باطل اور تمھارے اندر اندرحق ہے۔ 

الله ولي اللذين آمنوا يخرجهم من الظلمات إلى النور.

"اللہ دوست ہے اُن لوگوں کا جو ایمان لائے، اُنھیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے ۔

*يهدي به الله من اتبع رضوانه سبل السلام و يخرجهم من الظلمات إلى النور بإذنه و يهديهم إلى صراط مستقيم.

ہدایت کرتا ہےاُس کے ذریعے سے اللہ تعالٰی ہر اّس شخص کو جو رضاے حق کا طالب ہو، سلامتی(آشتی اور سکون) کی راہیں دکھاتا ہے اور اُنھیں اپنی توفیق سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آتا ہے اور اُنھیں راہِ راست پر قائم رکھتا ہے۔"

*عرفان میں تحقیق کی بنیاد، الفاظ اور قوّتِ فکری کے ذریعے نہیں، بلکہ یہ دونوں اس راستے میں حجاب ہیں اور حقیقت کو ڈھانپ لیتے ہیں۔ صرف خداوند کے لطف و ہدایت اور پیرِ راہ کی عنایات اور رہنمائی میں حقیقت الٰہی کی دریافت اور شناخت ہر قسم کے شک و شبہے اور ظنّ و گمان سے ماورا میسّر ہوتی ہے۔ پیر کی ہدایت گویا معرفت کے راستے کا نور ہے جو سالک کے لیے چراغِ راہ ہے اور اُس کے لیے راستے کھول دیتی ہے۔ سالک کو قادر بناتی ہے کہ وہ اپنے باطنی سیر و سفر کی مشکلات اور رکاوٹوں پر قابو پائے۔ خودشناسی اور سلوک کے راستے میں سچّائی کی زبان، صاف قلب، عقیدت کا اخلاص، لقمۂ حلال اور ثابت قدمی ہونی چاہیے تاکہ حق کی عنایات حقیقی ارادہ سفر طے کرنے کے لیے پیر کی پیروی کی توفیق سالک کےشاملِ حال ہوجائے ، اور باطنی غیبی الطاف، جن پر کوئی شک و شبہہ نہیں کیا جاسکتا، ربّانی حقیقی شہود تک پہنچے اور اُس کا عین الیقین حق: الیقین سے ثابت ہوجائے۔

يأيها اللذين آمنوا اتقوا الله و ءامنوا برسوله يؤتيكم كفلين من رحمته و يجعل لكم نورا تمشون به و يغفر لكم و الله غفور رحيم.

"اے ایمان رکھنے والو! تم اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اللہ تعالٰی تم کو اپنی رحمت سے دو حصّے دے گا اور تم کو ایسا نور عنایت کرے گا کہ تم اُسے لیے ہوئے چلتے پھرتے ہو گے اور تم کو بخش دے گا اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور نہایت مہربان ہے۔"

Last modified on چهارشنبه, 02 بهمن 1392 10:37
Login to post comments