×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سورۂ یوسف ( ع) کی آيت نمبر 78-79 کی تفسیر

بهمن 02, 1392 620

سورۂ یوسف (ع)

کی آیات اٹھتر اور اناسی میں ارشاد ہوتا ہے

" قالوا یا ایّہا العزیز انّ ابا شیخا کبیرا فخذ احدنا مکانہ انّا نریک من المحسنین قال معاذ اللہ ان ناخدالا من وجدنا متاعنا عندہ انّا اذا لظالمون "

[ یوسف (ع) کے بھائیوں نے ] کہا: اے عزیز مصر ! اس کے باپ بہت بوڑھے ہوچکے ہیں لہذا ہم میں سے کسی کو اس کی جگہ اپنے پاس روک لیجئے ہم کو آپ احسان کرنے والوں میں نظر آتے ہیں ۔

یوسف (ع) نے کہا : خدا کی پناہ اگر ہم اس کے علاوہ کہ جس کے پاس ہمارا گم شدہ سامان ملا ہے کسی اور کو پکڑیں تو ایسی صورت میں ہم ظالموں میں ہو جائیں گے ۔

عزیزان محترم ! آیات کے انداز سے صاف پتہ چلتا ہے کہ گمشدہ پیالہ بنیامین کے سامان میں نکل آنے کے بعد سرکاری ملازمین نے بنیامین کو پکڑ لیا ہو گا کہ خود تم لوگوں کے بیان کردہ قانون کے مطابق اب ہم بنیامین کو نہیں چھوڑیں گے اب بھائیوں نے عزیز مصر سے درخواست کی کہ ہمارے باپ کافی بوڑھے ہیں اور اس سے بہت محبت کرتے ہیں اس کے بغیر نہیں رہ سکیں گے آپ کو روکنا ہے تو اس کے بدلے میں ہم بھائیوں کے درمیان سے کسی اور کو پکڑ لیجئے ہم اپنے باپ کے سامنے اس کو حفاظت کے ساتھ واپس لانے کی قسم کھا کر آئے ہیں اس کے بغیر گئے توان کا سامنا نہیں کرسکیں گے ۔ظاہر ہے ان کی یہ درخواست صرف ایک دکھاوا تھی کہ وہ اپنے باپ کے سامنے کہہ سکیں کہ ہم نے بنیامین کی نازیبا حرکت کے باوجود آپ سے کئے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کی غرض سے عزیز مصر کے سامنے کہا تھا کہ بنیامین کے بجائے ہم میں سے کسی کو روک لیجئے کہ آپ کو تکلیف نہ ہو مگر عزیز مصر نے ہماری پیشکش قبول نہيں کی کیونکہ وہ جانتے تھے عزيز مصر ان کی یہ خلاف قانون بات قبول نہیں کریں گے اگر ان میں اخلاص ہوتا تو وہ بنیامین کا دفاع کرتے کہ اس نے چوری نہیں کی ہے غلہ ناپنے والے نے ہی بھولے سے غلہ کے بوجھ میں پیالہ چھوڑ دیا ہوگا مگر چوری کا الزام قبول کرلینا اور اس کے بعد بنیامین کے بدلے کسی اور بھائی کو پکڑ لینے کی پیشکش صرف دکھاوا نہیں تو اور کیا ہو سکتی ہے اس لئے جناب یوسف (ع) نے ان کی پیشکش نامنظور کر دی ۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر ان کی بات مان لی تو یہ سب واپس جا کر باپ کے سامنے بنیامین پر چوری کا الزام لگاکر ان کا دل دکھانے کے ساتھ ہی ساتھ اپنی مظلوم نمائی بھی کریں گے ۔

Last modified on چهارشنبه, 02 بهمن 1392 10:49
Login to post comments