×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام محمد باقر علیہ السلام زندان ہشام میں

بهمن 02, 1392 388

اگر چہ امام باقر علیہ کی روش یہ نہ تھی

کہ ظالم بادشاہ ھشام کی علانیہ مخالفت کریں لیکن آپ کا ہر کام اس طرح سے تھا کہ جس سے ظالم حکومت کی مخالفت ظاہر تھی اس لئے ہشام نے یہ فیصلہ کیا کہ آپ کو شام کی جانب شہر بدر کر دے ۔

ہشام کے کارندے امام باقر علیہ السلام کو آپ کے فرزند امام صادق علیہ السلام کے ہمراہ مدینہ سے شام لے گئے اور آنحضرت کی توہین کرنے کے لئے تین دن آپ کو دربار میں داخلے کی اجازت نہ دی اور آپ کو غلاموں کے ساتھ رکھا ۔

ہشام نے اپنے درباریوں سے کہا کہ جب محمد بن علی (امام باقر علیہ السلام ) دربار میں داخل ہوں گے تو میں پہلے ان کی سرزنش کروں گا اور جب میں خاموش ہو جاؤں تو تم لوگ مل کی ان کی سرزنش کرنا ۔

ہشام کے حکم سے امام کو دربار میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی ،حضرت دربار میں داخل ہوئے اور ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : السلام علیکم ، تمام درباریوں کو سلام کیا ۔

ہشام نے دیکھا کہ امام نے اسے خصوصی سلام نہیں کیا اور اس کی اجازت کے بغیر بیٹھ گئے ، اسے اور غصہ آیا اور کہنے لگا : ہمیشہ تمہارے خاندان کا ایک آدمی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرتا ہے اور لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دیتا ہے اور خود کو امام سمجھتا ہے ، اس طرح اس نے امام کی سرزنش شروع کی ۔

جب وہ خاموش ہوا تو تمام درباریوں نے پہلے سے طے سازش کے تحت آنحضرت کی سرزنش شروع کر دی ، جب وہ سب خاموش ہو گئے تو امام کھڑے ہوئے اور فرمایا : اے لوگو! کدھر جا رہے ہو ،تمہیں کہاں لے جایا جا رہا ہے ،خداوند عالم نے تم سے پہلے والوں کو ہمارے ذریعہ ہدایت بخشی اور تمہارے بعد والوں کی ہدایت بھی ہمارے ہاتھوں ہوگی ۔ تم اس چند روزہ بادشاہی سے وابستہ ہو جبکہ ابدی بادشاہت ہمارا حق ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے : والعاقبۃ للمتقین ،"بہترین انجام متقین کے لئے ہے " (سورہ قصص ،آیت/ ۸۳ )

اس واقعے کے بعد ہشام کے حکم سے امام علیہ السلام کو قیدخانہ میں ڈال دیا گیا لیکن زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ آنحضرت نے تمام قیدیوں کو اپنا محب بنا لیا ، داروغہ زندان نے یہ خبر ہشام کو دی تو ہشام نے مجبور ہو کر امام کو آزاد کرنے کا حکم دے دیا لیکن اس بات کی تاکید کی کہ آپ پر کڑی نظر رکھی جائے ۔

سر انجام ہشام نے اپنی خفت اور ذلت کا انتقام لینے کے لئے آپ کے قتل کی سازش رچی اور والی مدینہ کو لکھا کہ امام کو زہر دغا کے ذریعہ شہید کر دے لیکن اس سے پہلے ہی ہشام واصل جہنم ہوگیا ۔ معتبر روایات کے مطابق آپ کی شہادت ۷ ذی الحجہ سن ۱۱۴ میں واقع ہوئی اور آپ کو آپ کے والد بزرگوار امام سجاد علیہ السلام کے پہلو میں دفن کیا گیا ۔

Last modified on چهارشنبه, 02 بهمن 1392 11:14
Login to post comments