×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام باقر کی سیاسی شخصیت

بهمن 02, 1392 303

واقعہ کربلا کے بعد

ائمہ اہلبیت کی ذمہ داریوں کا ایک نیا باب کھلتا ہے ان کی اولین ذمہ داری ان نظریات کا تحفظ اور اشاعت جن کے لئے کربلا میں قربای دی گئی تھی۔ لیکن ائمہ معصومین اپنے آپ کو سیاسی ماحول سے لا تعلق بھی نہیں رکھ سکتے تھے۔ اصلاح اخلاق، عقائد، خاندانی اور اجتماعی تعلقات اور تنازعات اور اقتصادیات ایسے امور ہیں کہ ان کو ملوکیت کے استبداد اور جہل کے سایہ سے محفوظ رکھنا بھی ضروری تھا۔ وقت ضروری جب ان امور میں امام سے مدد یا مشورہ طلب کیا گیا تو امت کے اجتماعی مفاد کے پیش نظر امام وقت نے حکومت کی مدد کی۔

امام باقر کی سیاسی بصیرت سے متعلق ایک اہم واقعہ اسلامی سکہ کی تیاری اور رواج کا ہے۔ مختصر واقعہ یہ ہے کہ عبدالملک بن مروان کے حکومت کے دور میں مسلم ممالک کا اپنا کوئی سکہ نہیں تھا بلکہ رومی سکہ کا رواج تھا ۔ حکومتی استعمال کے لئے کاغذ مصر میں تیار ہوتا تھا جہاں نصرانی حکمراں تھے کاغذوں پر واٹر مارک کا ٹھپہ عام رواج تھا۔ نصرانی بادشاہوں نے واٹر مارک کے طور پر رب، ابن "روح القدس ، کا نشان بنایا جو باپ، بیٹا اور روح القدس کے عقیدہ تثلیث کا پر چار کرتا تھا۔ جب اس امر کی اطلاع عبدالملک کو ملی تو اس نے گو رنر مصر کو لکھا کہ رومی ٹریڈ مارک کی جگہ اسلامی کلمہ ""اشھداً لا الہ الا ھوا"" لکھو۔ یہ فیصلہ قیصر روم کے لئے نا گوار تھا اس نے عبدالملک کو دھمکی دی کہ اگر رومی ٹریڈ مارک دوبارہ رائج نہیں کیا گیا تو تمام سکوں پر رسول اکرم (ص) کے بارے میں ناسزا لکھ کر تمام اسلامی ممالک میں بھیج دیگا۔ جو مسلمانوں کے لئے انتہائی تحقیر اور ہتک آمیز ہوگا۔ اس لئے تعجب نہیں ہونا چاہئے اگر آج خاکوں کے ذریعہ سے آنحضرت کی تحقیر کی جا رہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خاکے بنانا ان کا آبائی پیشہ تھا۔ ٣٠٠ سال پہلے قیصر کے اس فیصلہ پر عبدالملک بیحد پریشان ہوا تو آخر کار مشیروں کے کہنے پر حضرت باقر کی طرف رجوع ہوئے جو ابھی ظاہری امامت پر فائز نہیں ہوتے تھے۔ (اما م سجاد کی شہادت ٩٥ھ) امام نے مشورہ دیا کہ سفیر روم کو شام کے پایہ تخت میں روک لیا جائے اور نئے اسلامی سکہ ڈھال دیئے جائیں جس میں ایک طرف کلمہ توحید ہو، دوسری طرف کلمہ رسالت ہو اور سنہ ایجاد لکھ دیا جائے، یہ علم امامت کی برکت تھی آپ نے تمام سکوں کے نمونہ، وزن اور سائز سب اپنی نگرانی میں بنوا کر رائج کردیا۔ قیصر روم بالکل لا چار ہو گیا، اس طرح امام باقر کی مدد سے اسلامی سکوں کا رواج عمل میں آیا۔

Last modified on چهارشنبه, 02 بهمن 1392 12:13
Login to post comments