×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عباس کی رپورٹ

بهمن 02, 1392 400

عباس کی رپورٹ

جس وقت سپاہیوں نے کوچ کا ارادہ کیا اس وقت عباس بن عبدالمطلب رسول کے چچا جنہوں نے اپنا اسلام چھپا رکھا تھا اور بہت قریب سے ان کے کوچ کے نگراں اور ان کی تیاریوں کے شاہد تھے۔ ایک خط رسول کو لکھا اور مشرکین سے سپاہیوں کی جنگی حالت کی اطلاع دی۔

عباس نے قبیلہ بنی غفار کے ایک معتمد شخص کے ذریعے وہ خط بھیجا۔ اس فرستادہ نے اتنی تیزی سے راستہ طے کیا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیانی فاصلہ کو صرف تین دن میں طے کرلیا۔

جب یہ سوار مدینہ پہنچا تو اس وقت پیغمبر اسلام مقام ”قبا“ میں تھے۔ وہ حضرت کے پاس پہنچا اور اس نے خط دیا۔ رسول خدا نے وہ خط ایک شخص کو دیا تاکہ وہ اسے حضرت کو سنائے پھر آپ نے اس سے فرمایا کہ اس کا مضمون کسی کو بتایا نہ جائے۔

مدینہ کے یہودی اور منافقین اس نامہ بر کے آنے سے آگاہ ہوگئے۔ اور یہ مشہور کر دیا کہ محمد کے پاس بری خبر پہنچی ہے۔ تھوڑی ہی دیر میں لوگ قریش کی لشکر کشی سے باخبر ہوگئے۔

سپاہ قریش راستہ میں

سپاہ قریش کے ساتھ جو عورتیں تھیں وہ جس منزل پر قیام کرتیں گانا، بجانا شروع کر دیتیں، مقتولین قریش کی یاد دلا کر سپاہیوں کو بھڑکاتی رہتی تھیں، قریش کے سپاہی جہاں کہیں بھی پانی کے کنارے رکتے اونٹوں کو کاٹ کر ان کا گوشت کھاتے۔

(مغازی ج۱ ص ۲۰۵، ۲۰۶)

عمرو بن سالم خزاعی نے مکہ اور مدینہ کے راستہ کے درمیان مقام ”ذی طویٰ“ میں قریش کو خیمہ زن دیکھا، وہ مدینہ آئے اور انہوں نے جو کچھ دیکھا اس کی خبر پیغمبر کو دی۔ (مغازی ج۱ ص ۲۰۵)

اطلاعات کی فراہمی

شب پنجشنبہ ۵ شوال سنہ ۳ھ،ق، کو دو گشتی سراغ رساں ”انس اور مونس‘و فضالہ کے بیٹوں کو دشمنوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کرنے کے لیے بھیجا۔ ان دونوں نے قریش کو مقام ”عمیق “ میں دیکھا اور ان کے پیچھے ہو لیے۔ یہاں تک کہ انہوں نے مقام ”وطاء“ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا۔ یہ لوگ وہاں سے پیغمبر کی خدمت میں رپورٹ پیش کرنے کے لیے واپس آگئے۔(مغازی ج۱ ص ۲۰۶)

Last modified on چهارشنبه, 02 بهمن 1392 12:49
Login to post comments