×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فیصلہ کن ارادہ

بهمن 03, 1392 337

فیصلہ کن ارادہ

جوانوں کے اصرار کی بنا پر رسول خدا نے اکثریت کی رائے کو قبول فرمایا۔ پیغمبر نے مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھائی اور اپنے خطبہ میں ان کو جہاد کی دعوت دی اور ان کو حکم دیا کہ وہ دشمن سے جنگ کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ پھر آپ نے نماز عصر جماعت کے ساتھ پڑھائی اس کے بعد فوراً گھر کے اندر تشریف لے گئے۔ جنگی لباس زیب تن فرمایا اپنی ٹوپی خود سر پر رکھی تلوار کو کمر سے حمائل کیا جب اس صورت سے آپ گھر سے باہر تشریف لائے تو وہ لوگ جو باہر نکلنے کے سلسلے میں اصرار کر رہے تھے، شرمندہ ہوئے اور اپنے دل میں کہنے لگے کہ جس بات کی طرف پیغمبر کا میلان نہیں تھا ہمیں اس کے خلاف اصرار کرنے کا حق نہیں تھا“ اس وجہ سے وہ رسول خدا کے پاس گئے اور ان سے کہا کہ: اب اگر آپ چاہیں تو مدینہ میں رہیں رسول خدا نے فرمایا: یہ مناسب نہیں ہے کہ پیغمبر لباس جنگ پہن لے اور قبل اس کے کہ خدا دشمنوں کے ساتھ جنگ کی سرنوشت کو روشن کرے وہ لباس جنگ کو اتار پھینکے اب ہم جو کہہ رہے ہیں وہ کرتے جاؤ خدا کا نام لے کر جادہ پیما ہو جاؤ اگر صابر رہو گے تو کامیاب رہو گے۔

لشکر اسلام کی روانگی

روانگی کے وقت رسول خدا نے تین نیزے طلب فرمائے اور ان میں تین پرچم باندھے مجاہدین کا عمومی پرچم تھا جو کہ علی ابن ابی طالب کو دیا۔ قبیلہ ”اوس“ کا پرچم ”اسید بن حضیر“ اور قبیلہ خزرج کا پرچم ”سعد بن عبادة“ کے سپرد کیا۔ رسول خدا جمعہ کے دن عصر کے وقت ایک ہزار افراد کے ساتھ اس حالت میں مدینہ سے باہر نکلے کہ آپ خود گھوڑے پر سوار تھے اور نیزہ ہاتھ میں تھا۔ مسلمانوں کے درمیان صرف سو افراد کے جسم پر زرہ تھی۔

جب لشکر اسلام مقام شیخان پر پہنچا تو ناگہاں ایک گروہ ہمہمہ کرتا ہوا پیچھے سے آن پہنچا، رسول خدا نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے عرض کی کہ اللہ کے رسول یہ ”عبیداللہ بن ابی“ کے ہم پیمان یہودی ہیں آپ نے فرمایا کہ ان تک یہ بات پہنچا دو کہ ہم نصرت سے بے نیاز ہیں اس کے بعد فرمایا کہ ”مشرکین سے جنگ کرنے کے لیے مشرکین سے مدد نہ لی جائے۔“

Last modified on پنج شنبه, 03 بهمن 1392 10:59
Login to post comments