×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت علي (ع) کي نگاہ ميں اصلاح

بهمن 03, 1392 337

دوسرا نکتہ ’’صلاح ذات بینکم ‘‘ ہے ،

آپس ميں اصلاح کرنے سے امیرالمومنین (ع) کي مراد اور خصوصاً اپنے اہم وصیت نامے ميں اس کا تذکرہ کرنا صرف اس وجہ سے نہيں ہے کہ ظاہري اتحاد ہوجائے یا دو گروہ آپس ميں حلیف ورفيق بن جائيں یا ان کا کسي موضوع پر متحد ہو کر آپس ميں قرارداد کا طے کر لينا و غيرہ و غیرہ، نہيں! بلکہ ان امور سے امام (ع) کي مراد بہت بلند ہے ،اس طرح کہ ایک دوسر ے سے صاف دلي سے ملاقات کريں ، ایک دوسرے کیلئے ذہنیت بالکل پاک ہوجائے، کسي کے حقوق سے تجاوز اور اذیت وآزار پہنچانے کا خیال بھي دلوں ميں نہ آئے اور افراد آپس ميں ایک دوسرے کیلئے اپنے فکر و خيال ميں بھي برا تصوّرنہ لائيں۔

اس عبارت یعني ’’ صلاح ذات بینکم‘‘ کے فرمانے کے بعد امیرالمومنین (ع) نے گواہ کے طور پر پیغمبر اکرم (ص) کا قول نقل کیا وانّي سمعتُ جدّ کما صلي اللہ علیہ وآلہ و سلم یقول’’ صلاح ذات البین افضل من عامۃ الصلاۃ والصیام‘‘کہ ميں نے تم دونوں کے جد  سے سنا کہ انہوں نے فرمایا کہ’’ آپس ميں دلوں کا قریب کرنا ہر نماز اور روزے سے افضل ہے‘‘ یعني لوگوں کو قریب کرنا اور انکے فکر و خيال کو ایک دوسرے کیلئے اچھا بنانا (مستحب) نماز اور روزے سے افضل ہے يعني اگر کوئي مستحبي نماز پڑھتا اور روزہ رکھتا ہے یادلوں کو نزدیک کرنے والا کوئي بھي عمل انجام دیتا ہے تو يہ دوسرا کام پہلے کام پر فضليت رکھتا ہے ۔ یہ ہے وہ چیز کہ جسکي ہميں آج سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔

Last modified on پنج شنبه, 03 بهمن 1392 11:05
Login to post comments