×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید رضی اور عظیم ذمہ داری

بهمن 17, 1392 344

جیسے جیسے دن گزر رہے

 

سید رضی كے باصلاحیت ہاتھوں سے اسلام كی روشن اور درخشاں تاریخ میں زرّین اوراق كا اضافہ ہوتا جا رہا ۔ انھوں نے اپنے روان قلم اور فراوان علم سے اسلام كی بہترین خدمات انجام دی ہیں ۔ آپ نے كتاب وحی كی تفسیر، فقہی احكام كی تالیف، فصیح اشعار اور اعلیٰ قصائد كے ذریعہ معرفت كا سیلاب جاری كیا اورحتیٰ الامكان دینی، سیاسی اور سماجی ذمہ داریوں كو قبول فرمایا ان سب كے باوجود اپنے كام كو ناتمام ہی سمجھتے تھے اور ایك خلا كا ہمیشہ احساس كرتے تھے گویا دوسری ذمہ داری بھی ہے جو اس سے زیادہ اہمیت ركھتی ہے ۔

وہ آزاد فضا سے كماحقہ استفادہ كرنے كو اپنے لیے واجب و لازم جانتے تھے وہ اسلام كے واقعی چہرے اور شیعیت كی اصلی تصویر كو دنیا والوں كے سامنے پیش كرنا چاہتے تھے ۔ سید رضی اچھی طرح جانتے تھے كہ امامت كے بغیر رسالت ناقص ہے، پیغمبر اسلام كے علم كا شہر حضرت علی علیہ السلام كے وجود كے بغیر بے در كے ہے اور معصوم كے بغیر قرآن بے مفسر كے ہے، لہٰذا لازم ہے كہ میدان عمل میں قدم ركھیں اور ان كاموں كو جنہیں دوسرے لوگ انجام نہ دے سكے انہیں پایہٴ تكمیل تك پہونچائیں ۔

شریف رضی نے اس الٰہی فكر كے ذریعہ ایك عظیم كام كا آغاز كیا ۔ یہ وہی كام ہے جس كا شریں ثمرہ مولا علی علیہ السلام كے بلند مرتبہ كلام كے طور پر ملا اور ہمیشہ كی باقی رہنے والی كتاب نہج البلاغہ كو تحفہ كے طور پر لایا ۔ اس نے سید رضی كے نام كو ہمیشہ كے لیے محفوظ كرلیا، در حقیقت آپ ہی سب سے پہلے وہ عالم ہیں جنھوں نے امیر المومنین علیہ السلام كے فصیح و بلیغ خطبات اور كلمات كی تدوین و تالیف كی ہے ۔

مولف: محمد ابراھیم نژاد

مترجم: زهرا نقوی

Last modified on چهارشنبه, 24 ارديبهشت 1393 11:01
Login to post comments