×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید رضی اور ایك بے موقع غروب

بهمن 17, 1392 302

اس دن شہر بغداد

ہیجان و اضطراب كے عالم میں تھا لوگوں كی معنی خیز اور پریشان حال نگاہیں ان كے اندر كے اضطراب كی كیفیت كو بیان كر رہی تھیں جو كہ انھیں بے قرار كیے ہوئے تھا ۔ یہ ایك ایسا تلخ حادثہ تھا جس كا كسی كو یقین نہیں ہو رہا تھا اور نہ ہی ان كو ایسی توقع تھی ۔ ہرگز كسی كا ذہن اس بات كو قبول نہیں كر رہا تھا كہ اتنی جلدی اس قدر المناك اور رقت انگیز حادثہ كو اپنی آنكھوں سے دیكھیں گے لیكن اب تو جو بھی تھا سب ختم ہو گیا تھا قبول كرنے كے علاوہ كوئی چارہ نہیں تھا، جو بھی كسی كے پاس پہونچتا آہستہ اور غیر یقینی صورت میں كہتا كہ شریف رضی وفات پا گئے - ” انا للہ و انا الیہ راجعون “ ۔

سید رضی نے ماہ محرم ۴۰۶ میں سینتالیس ۴۷ سال كی عمر كے ساتھ دارفانی سے راحل فرمائی اور عالم تشیع و دنیائے علم كو سوگوار بنا گئے ۔ لكھا ہے كہ پیكرِعلم و تقوی اور سیاست سید مرتضیٰ بھائی كی مرموز اور ناگہانی موت سے اس قدر مغموم و متاٴثر تھے كہ جنازہ دیكھنے كی تاب نہ لاسكے اور فرط غم و اندوہ سے حرم مقدس كاظمین میں پناہ لی ۔ لوگوں كے جمع غفیر نے آپ كے جنازہ میں شركت كی اور وزیر فخر الملك نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ كے پیكر كو آپ ہی كے دولت كدہ میں امانتاً دفن كیا گیا اور اس كے بعد امام حسین علیہ السلام كے حرم مبارك میں منتقل كردیا گیا ۔؟

سید مرتضیٰ پر اپنے بھائی كے فراق كا غم اس قدر سخت تھا كہ تنہائی میں فرط غم سے سر كو زانو پر ركھے ہوئے بھڑكتے دل سے جانسوز آہیں بھرتے اورفرقت كا مرثیہ پڑھ رہے تھے ۔ وا مصیبتاہ ! ہائے اس ناگوار حادثہ نے میرے بازو توڑ دیے ! كاش میری جان بھی لے لیتا ۔

مولف: محمد ابراھیم نژاد

مترجم: زهرا نقوی

Last modified on چهارشنبه, 24 ارديبهشت 1393 10:56
Login to post comments