×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شہیدوں کی میت پر

بهمن 17, 1392 313

لشکر مشرک کے میدان جنگ سے

نکل جانے کے بعد رسول خدا لشکر اسلام کے مجاہدین کے ساتھ شہیدوں کی میت پر حاضر ہوئے تاکہ ان کو سپرد خاک کر دیں۔ جب حضرت نے شہیدوں کے مثلہ اجسام، خصوصاً سید الشہداء حضرت حمزہ کے پارہ پارہ بدن کو دیکھا تو ان کا دل غم سے پاش پاش ہوگیا اور مشرکین کی طرف سے آپ کے دل میں مزید غصہ اور نفرت کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ وہاں مسلمانوں نے یہ عہد کیا کہ اگر دوسری لڑائی میں وہ مشرکین پر فتح پائیں گے تو ایک آدمی کے بدلے میں کافروں کے تیس اجسام کو مثلہ کریں گے۔ لیکن درج ذیل آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں نے اس خیال کو ترک کر دیا۔

اگر تم چاہتے ہو کہ ان کو سزا دو تو اپنی سزا میں میانہ روی اختیار کرو اور حد اعتدال سے خارج نہ ہو جاؤ اور اگر صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے۔

(شرف النبی ص۳۴۷)

پھر رسول خدا حضرت حمزہ کے پاکیزہ جسم پر نماز پڑھتے ہیں اور ان کے پہلو میں ایک ایک کو لٹا کر ہر ایک پر الگ الگ نماز پڑھتے ہیں اس طرح ستر نمازیں پڑھیں گئیں۔

(مغازی)

حضرت حمزہ کی بہن ”صفیہ“ اپنے شہید بھائی کا جنازہ دیکھنے آئیں۔ تو ان کے بیٹے زبیر نے ان کو روکنا چاہا۔ (تاکہ بہن اس حال میں بھائی کو نہ دیکھے) لیکن جناب صفیہ نے فرمایا کہ ”مجھے معلوم ہے کہ میرے بھائی کو مثلہ کیا گیا ہے۔ بخدا اگر میں ان کے سرہانے پہنچوں گی تو اپنے غمگین ہونے کا اظہار نہیں کروں گی اور راہ خدا میں اس مصیبت کو برداشت کروں گی، لوگوں نے ان کو چھوڑ دیا وہ اپنے بھائی کے سرہانے آئیں اور ان کے لیے خدا سے دعائے مغفرت کی۔

رسول اکرم نے حکم دیا کہ قبریں کھودی جائیں اور ان اجسام کو ان میں دفن کر دیا جائے شہدا اپنے لباس کے ساتھ دفن ہوئے اور جس کے پاس مناسب لباس نہ تھا ان کے جسم کو ایک پارچہ سے ڈھک دیا گیا۔ اکثر شہدا کو اسی میدان جنگ میں سپرد خاک کیا گیا کچھ لوگ اپنے شہداء کو مدینہ لے گئے اس طرح سے پہلا شہیدوں کا قبرستان مدینہ کے نزدیک کوہ احد کے دامن میں بنا۔

(مغازی و اقدی ج۱ ص ۲۶۷)

Last modified on سه شنبه, 23 ارديبهشت 1393 14:33
Login to post comments