×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حج کی منتخب حدیثیں (حصّہ دوّم)

بهمن 18, 1392 591

حج کا فلسفہ

قال علی (ع):

”جَعَلَہُ سُبْحَانَہُ عَلاٰمَةً لِتَوَاضُعِھِمْ لِعَظَمَتِہِ و َاِذعانَھُمْ لِعِزَّتِہِ“۔

حضرت علی (ع) نے فرمایا:

”خدا وند عالم نے کعبہ کے حج کو علامت قرار دیا ھے تاکہ لوگ اس کی عظمت کے سامنے فروتنی کا اظھار کریں اور پروردگار عالم کے غلبہ نیز اس کی عظمت و بزرگواری کا اعتراف کریں “۔

قال علی (ع):

”جَعَلَہُ سُبْحَانَہُ لِلْإِسْلاٰمِ عَلَماًوَلِلْعَائِذِینَ حَرَماً“۔

حضرت علی (ع)نے فرمایا:

”خدا وند عالم نے حج اور کعبہ کو اسلام کا نشان اور پرچم قرار دیا ھے اور پناہ لینے والے کے لئے اس جگہ کو جائے امن بنایا ھے“۔

دین کی تقویت کا سبب

قال علی (ع):

”۔۔۔وَالْحَجَّ تَقْوِیَةً لِلدِّینِ “

حضرت علی (ع) نے فرمایا:

”۔۔۔ اورحج کو دین کی تقویت کا سبب قرار دیاھے“۔

دلوں کا سکون

قال الباقر (ع):

”الحَجُّ تَسْکِین القُلُوبُ“

امام محمد باقر (ع)فرماتے ھیں:

”حج دلوں کی راحت وسکون کا سبب ھے“۔

حج ترک کرنے والا

قال رسول اللہ (ص):

”مَنْ مَاتَ وَلَمْ یَحُجَّ فَلْیَمُتْ إِنْ شَاءَ یَھُودِیّاً وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِیّاً“۔

پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:

”جو شخص حج انجام دیئے بغیر مر جائے (اس سے کھا جائے گا کہ ) تو چاھے یہودی مرے یا نصرانی “۔

یھی مضمو ن ایک دوسری روایت میں امام جعفر صادق (ع) سے بھی نقل هوا ھے۔

حج و کامیابی

”لوگوں نے امام محمد باقر (ع) سے دریافت کیا کہ حج کا نام حج کیوں رکھا گیا ھے ؟

تو آپ نے فرمایا:

”قَالَ حَجَّ فُلاٰنٌ اٴَيْ اٴَفْلَحَ فُلاٰنٌ“۔

” فلاں شخص نے حج کیا یعنی وہ کامیاب هوا “۔

حج کی اھمیت

محمد بن مسلم کھتے ھیں کہ :

امام محمد باقر (ع) یا امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا:

”وَدَّ مَنْ في الْقُبُورِ لَوْ اٴَنَّ لَہُ حَجَّةً وَاحِدَةً بِالدُّنْیَا وَمَا فِیھَا“۔

”مُردے اپنی قبروں میں یہ آرزو کرتے ھیں کہ اے کاش!وہ دنیا، اور دنیا میں جو کچھ بھی ھے دیدیتے اور اس کے عوض انھیں ایک حج کا ثواب مل جاتا “۔

Last modified on سه شنبه, 23 ارديبهشت 1393 10:20
Login to post comments