×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مدینہ میں منافقین کی ریشہ دوانیاں

بهمن 18, 1392 361

جنگ احد کے سلسلہ میں

عبداللہ بن ابی اور اس کے تمام منافق ساتھیوں نے سرزنش اور شماتت شروع کر دی اور جو مصیبت مسلمانوں کے سروں پر آن پڑی تھی اس پر یہ لوگ خوش تھے۔ یہودی بھی بدزبانی کرنے لگے اور کہنے لگے کہ:
محمد سلطنت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آج تک کوئی پیغمبر اس طرح زخمی نہیں ہوا۔ وہ خود بھی زخمی ہوئے اور ان کے اصحاب بھی مقتول اور زخمی ہیں۔

وہ رات بڑی حساس رات تھی ہر آن یہ خطرہ منڈلا رہا تھا کہ کہیں منافقین اور یہود، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف شورش نہ برپا کر دیں۔ اور اختلاف پیدا کرکے اس شہر کے سیاسی اتحاد و ثبات کو نہ ختم کر دیں۔

مدینہ سے ۲۰ کلومیٹر دور ”حمراء الاسد“ میں جنگی مشق یکشنبہ ۸ شوال سنہ ۳ ہجری قمری۔

ہر طرح کی داخلی و خارجی ممکنہ سازش کی روک تھام اور مکمل طور پر ہوشیار اور آمادہ رہنے کے لیے اوس و خزرج کے سربرآوردہ افراد نے مسلح افراد کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد اور خانہ پیغمبر کے دروازہ پر رات بھر پہرہ دیا۔ یکشنبہ کی صبح کو رسول خدا نے نماز صبح ادا کرکے جناب بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو دشمن کے تعاقب کے لیے بلائیں اور اعلان کریں کہ ان لوگوں کے سوا اور کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے جو کل جنگ میں شرکت کرچکے ہیں۔

بہت سے مسلمان شدید زخمی تھے لیکن فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور جنگی لباس زیب تن کرکے اسلحہ سے آراستہ ہو کر تیار ہو گئے۔ پیغمبر نے پرچم علی کے ہاتھ میں دیا اور عبداللہ بن ام مکتوم کو مدینہ میں اپنا جانشین معین فرمایا:
اس حیرت انگیز روانگی کی وجہ یہ تھی کہ رسول خدا کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ قریش کے سپاہیوں نے مدینہ لوٹ کر (اسلام و مسلمانوں کا) کام تمام کر دینے کا ارادہ کرلیا ہے۔

رسول خدا حمراء الاسد تک پہنچے اور وہاں آپ نے حکم دیا کہ ہمارے سپاہی وسیع میدان میں بکھر جائیں اور رات کے وقت اس وسیع و عریض زمین پر آگ روشن کر دیں، تاکہ دشمن کو یہ گمان ہو کہ ایک بہت بڑا لشکر ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ رسول خدا تین رات وہاں ٹھہرے رہے اور ہر رات اس عمل کو دھرایا جاتا رہا۔

اس جگہ معبد خزاعی نے پیغمبر کی خدمت میں پہنچ کر خبر دی کہ قریش دوبارہ مدینہ پر حملہ کرنے کا قصد رکھتے ہیں۔ پھر معبد نے ابو سفیان سے جا کر کہا کہ میں نے لشکر بے کراں اور غیظ و غضب سے تمتماتے چہرے دیکھے ہیں۔ ابو سفیان اس خبر سے وحشت زدہ ہوگیا اور مدینہ پر حملہ کرنے کے ارادہ سے باز را۔

اس جنگی مشق (پریڈ) نے مجاہدین اسلام اور اہل مدینہ کے حوصلوں کو بڑھایا، ان کے دل سے خوف کو دور کیا اور دشمن کے دل میں اور زیادہ خوف بٹھا دیا اور وہ اس طرح کہ جب تین دن کے بعد مسلمان مدینہ پلٹ کر آئے تو ان کی حالت ایسی تھی کہ گویا ایک بہت بڑی فتح حاصل کرکے لوٹے ہیں۔ (طبقات ابن سعد ج۲ ص ۴۸)

Last modified on دوشنبه, 22 ارديبهشت 1393 13:13
Login to post comments