×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیخ صدوق كے شاگرد

بهمن 18, 1392 440

شیخ صدوق نے یہ بات

اچھی طرح درك كرلی تھی كہ اقوال معصومین علیھم السلام كہ جو كسی بھی زمانے میں خائنوں كی تحریف و خراب كاری كی زد میں آسكتے ھیں ان كی حفاظت كا بھترین راستہ ان كی تدوین، تحریر اور حفظ كے علاوہ عاشقان مكتب اھل بیت علیھم السلام كے سینوں میں منتقل كرنا ھے اسی بنا پر جھاں كھیں كسی حدیث كو سنتے تھے فورا ھی اسے ذھن نشین كرلیا كرتے، لكھتے اور دوسروں كو بھی سناتے تھے، اس طرح اس زمانے كے بھت كم ھی ایسے علماء تھے جن سے آپ نے استفادہ نہ كیا ھو اور بھت كم ھی ایسے طلاب تھے جن كو آپ نے علوم وحی و عصمت سے كچھ نہ بخشا ھو ۔ آپ جس شھر میں بھی تشریف لے گئے وھاں كے اكثر دانشوروں نے آپ كے خرمن دانش سے خوشہ چینی كی اور فیضیاب ھوئے ھیں اس طرح آپ كے شاگردوں كی تعداد سیكڑوں میں لكھی گئی ھے ۔ آپ كے شاگروں میں سے ممتاز شاگرد كے طور پر عالم تشیع كے صاحب نام عالم دین محمد بن محمد بن نعمان المعروف بہ شیخ مفید كا نام لیا جا سكتا ھے كہ جو واقعاً اس لقب كے لائق تھے اور دین و دیانت كے سلسلہ میں بھت زیادہ خدمات كی ھیں ۔ آپ كے آثار آپ كی وسعت علم كی واضح دلیل ھیں ۔

شیخ مفید كے علاوہ آپ كے شاگردوں میں سے ان معزز علمائے كرام كے نام لئے جا سكتے ھیں : آپ كے بھائی حسین بن علی بن بابویہ قمی، ھارون بن موسی تلعكبری، حسین بن عبید اللہ غضائری، حسن بن محمد قمی (تاریخ قم كے موٴلف )، علی بن احمد بن عباس نجاشی، علم الھدیٰ سید مرتضیٰ، سید ابو البركات علی بن حسین جوزی حسینی حلی ۔

مولف : محمد حسین فلاح زادہ

مترجم : ذیشان حیدر زیدی

Last modified on دوشنبه, 22 ارديبهشت 1393 13:02
Login to post comments