×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امّ ايمن

بهمن 21, 1392 607

رسول اکرم (ص) کي دائي

يہ رسول (ص) کي دائي تهيں، رسول (ص) انهيں ماں کہتے تهے۔ کنيزي سے آزاد ہوئي تهيں۔ عبيدبن زيد سے شادي ہوئي اور ايمن پيدا ہو۔ اس لئے انهيں ام ايمن کہتے ہيں، ان کا اصلي نام برکہ بنت ثعلبہ تها۔

جنگ خيبر ميں شوہر شہيد ہوگئے تو رسول (ص) کے آزاد کرده غلام زيدبن حارثہ نے ان سے نکاح کرليا، دوسرے عقد کا ثمره اسامہ ہيں۔  تاريخ اسلام ميں ان کا کردار حساس اور سبق آموز ہے۔ جب ان کے پہلے شوہر نے شہادت پائي تو رسول (ص) نے فرمايا: جو شخص جتني عورت سے نکاح کرنا چاہتا ہے۔  وه ام ايمن سے عقد کرلے۔ رسول (ص) کي اسي تشويق پر زيد بن حارثہ نے ان سے نکاح کر ليا اور اپنے ساتهيوں پر سبقت لے گئے اور عظيم سعادت حاصل کر لي۔

رسول (ص) کي وفات کے بعد عمرو ابوبکر انهيں ديکهنے کيلئے، ان کے پاس پہنچے تو ديکها کہ وه رو رہي ہيں، رونے کا سبب معلوم کيا، کہا: رسول (ص) کي وفات کے بعد آسماني وحي کا سلسلہ منقطع ہوگيا۔ يہ کہ کر اور زياده رونے لگيں۔ ابوبکر و عمر بهي رونے لگے! ام ايمن جنگ احد و جنگ خيبر ميں شريک ہوئيں اور جنگ خيبر ميں شريک ہوئيں اور زخميوں کي مرہم پٹي کي اور سپاہيوں کو پاني پلايا۔ عثمان کے عہد خلافت ميں وفات پائي۔

ام ايمن کي دلاوري اور شجاعت کا ثبوت يہ ہے کہ جب فاطمہ زہراء نے اپنے اثبات حق کيلوے مسجد ميں جاکر اپنں آتشين خطبہ سے فدک غصب کرنے والوں کي مذمت کي تهي ام ايمن آپ (س) کے ہمراه تهيں اور اس نئي حکومت سے خوف نہيں کهايا تها کہ جس نے اسلام کي ڈگر بدل دي تهي ? رسول (ص) کے داماد و چچا زاد بهائي کي جانشيني و قيادت سے چشم پوشي کر لي تهي۔

Last modified on شنبه, 20 ارديبهشت 1393 11:55
Login to post comments