×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سميہ، عمار ياسر کي والده، اسلام ميں اولين شہيد عورت

بهمن 21, 1392 604

راه اسلام ميں مسلمانوں ميں سے

آپ سب سے پہلے شہيد ہوئيں۔حق طلبي اور حقيقت جوئي کے جرم ميں ابوجہل نے انهيں شکنجہ ديا اور دل پر شديد چوٹ لگ جانے سے شہادت پائي۔ يہ ياسر کي شريک حيات اور عمار کي والده تهي۔ اس خاندان نے ظہور اسلام کي ابتدا ہيي ميں اسلام کے حقيقي آئين کو تہہ دل سے قبول کر ليا تها۔ رسول (ص) کو اطلاع ملي کہ انهيں شکنجہ ديا جا رہا ہے۔ فرمايا : " صبر کرو تمهاري وعده گاه جنت ہے "۔ صدر اسلام ميں مسلمانوں کو بہت تکليفيں دي جاتي تهيں رسول (ص) اور بوبکر کے علاوه  جو کہ اپنے قبيلہ کي حمايت ميں تهے۔ کسي کو کسي کي حمايت حاصل نہ تهي۔ شديد گرمي ميں انهيں زره پہنا کر دهوپ ميں کهڑا کر ديا جاتا تها۔

جب جنگ بدر ميں ابوجہل مارا گيا تو رسول (ص) نے عمار سے فرمايا: خدا نے تمهارے والد کے قاتل کو کيفر کردار کو پہنچايا۔" اسلام دشمن طاقتوں کے مقابلہ ميں عمار کے خاندان نے صبر و استقامت سے کام ليا۔ عمار نے رسول (ص) کے سامنے دشمنوں کي شکايت کي تو آپ (ص) نے فرمايا: "صير کرو، خدا ياسر کے خاندان ميں سے کسي کو بهي آگ ميں نہيں جلائے گا۔" مشرکين نے منصوبہ بنايا کہ مسلمانوں کو اتني ايذائيں اور تکليفيں دي جائيں کہ جس سے وه اسلام سے دست کشي ہوجائيں يا ان شکنجوں کي تاب نہ لاکر جان دے ديں۔ آخر کار عمار کے والدين ظالموں کي ايذائوں کي تاب نہ لاکر چل بسے۔ عمار نے ان سے جان بچانے کي خاطر سے مسلمان نہ ہونے کا اظہار کر ديا اور چهوٹ گئے۔

خدا نے عمار کے بارے ميں فرمايا:

"سوائے ان لوگوں کے جو کہ زبردستي زبان سے مسلمان نہ ہونے کا اظہار کرتے ہيں اور ان کا قلب مطمئن ہے۔

Last modified on شنبه, 20 ارديبهشت 1393 11:12
Login to post comments