×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تفخيم و ترقيق

بهمن 24, 1392 424

تفخيم کے معني ھيں حرف کو موٹا بنا کر ادا کرنا -

ترقيق کے معني ھيں حرف کو ھلکا بنا کر ادا کرنا -

ايسا صرف دو حرف ميں ھوتا ھے -ل- ر

" ر"  ميں تفخيم کي چند صورتيں

ر- پر زبر ھو جيسے " رحمن "

ر- پر پيش ھو جيسے"  نصر اللہ "

ر - ساکن ھو ليکن اس کے ماقبل حرف پر زبر ھو جيسے"  وانحر "

ر - ساکن ھو ليکن اس کے ماقبل حرف پر پيش ھو جيسے " کُرھا "

ر - ساکن اور اس کے ماقبل زير ھو ليکن اس کے بعد حروف استعلاء (ص-ض- ط- ظ- غ- ق- خ) ميں سے کوئي ايک حرف ھو جيسے " مرصادا "

ر- ساکن ھو اور اس کے پھلے کسرہ عارض ھو جيسے"  ارجعي "

" ر " ميں ترقيق کي چند صورتيں

ر- ساکن ھو اور اس کے ماقبل پر زير ھو جيسے"  اصبر "

ر- ساکن ھو اور اس سے پھلے کوئي حرف لين ھو جيسے خير -"  طور"

" ل" - ميں تفخيم کي چند صورتيں

ل- سے پھلے حرف استعلاء ميں سے کوئي حرف واقع ھو جيسے " مطلع الفجر "

ل- لفظ "  اللہ "  ميں ھو اور اس سے پھلے زبر ھو جيسے"  قالَ اللّہ "

ل- لفظ "  اللہ " ميں ھو اور اس سے پھلے پيش ھو جسيے " عبدُ اللّہ "

" ل" - ميں ترقيق کي صورتيں

ل- سے پھلے حروف استعلاء ميں سے کوئي حرف نہ ھو جيسے " کلم "

ل- سے پھلے زير ھو جيسے"  بسمِ اللہ "

Last modified on چهارشنبه, 17 ارديبهشت 1393 09:59
Login to post comments