×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

سورۂ بقره کي آيات نمبر 23-22 کي تفسير

February 15, 2014 529

خداوند قرآن کي

حمد و نيائش اور محمد و آل محمد عليہم السلام پر درود و ستائش کے ساتھ کلام نور ليکر حاضر ہيں سورۂ بقرہ کي بائيسويں آيت ميں جو اس سے قبل کي آيت کا ہي تتمہ ہے خداوند عالم نے کچھ آفاقي آيات کے قالب ميں اپني ربوبيت کي وضاحت کي ہے اور انسانوں کو اپني توحيد ربوبي کي طرف توجہ دلاتے ہوئے اس سلسلے ميں ہر قسم کے ظاہر و پوشيدہ شرک سے بچنے کا حکم ديا ہے تا کہ يہ انسان جو " الي اللہ " کي راہ کا مسافر ہے عبادت و ومعرفت کے پرتو ميں توشۂ سفر يعني " تقوے" سے خود کو مزين کرے اور ياد رکھے تمام چھوٹے بڑے جزئي اور کلي امور کا انتظام و انصرام اور کائنات کي تخليق کے تمام اسباب و محرکات اور مخلوقات عالم کي پرورش و حفاظت کي ذمہ داري اللہ کے ہي ہاتھ ميں ہے دنيا اور دنيا کي کوئي بھي شے اپنا کوئي مستقل وجود اور اثر نہيں رکھتي لہذا کوئي بھي خدا کي خالقيت يا ربوبيت ميں اللہ کا شريک نہيں قرار ديا جا سکتا چنانچہ اللہ نے انسان کو اسي توحيدي فطرت پر پيدا کيا ہے اگر وہ اپني فطرت پر باقي رہے يا فطرت کي طرف بازگشت اختيار کرلے تو يہ آواز توحيد خود اس کے اپنے وجود ميں پيدا ہوگي اور آفاق کائنات کي آواز سے ہم آہنگ ہوجائے گي- ارشاد ہوتا ہے :

" اَلّذي جَعَلَ لَکُمُ الاَرضَ فِراشًا وَ السّمَاءَ بِنَاءً وَ اَنزَلَ مِنَ السّمَاءِ مَاءً فَاَخرَجَ بِہ ، مِنَ الثّمَرَاتِ رِزقًا لّکُم فلا تجعَلُوا ِللّہِ اَندَادًا وَ اَنتُم تعلَمُون "

( يعني) وہي ( اللہ ) جس نے تمہارے لئے زمين کا فرش بچھايا اور آسمان کي وسيع بنا ( شاميانے کي صورت ميں ) قرار دي اور آسمان سے پاني برسايا اور اس سے تمہارے لئے ( قسم قسم کے ) پھلوں ( اور پھولوں ) کي صورت ميں روزي پيدا کي پس خدا کے لئے کسي کو شريک و ہمتا قرار نہ دينا اب جبکہ تم کو معلوم ہوچکا ہے ( کہ تمہارے خودساختہ معبود نہ تمہارے خالق ہيں نہ رازق ہيں بلکہ يہ سارے کلام خدا کے ہيں )

عزيزان محترم! اس سے قبل خداوند عالم نے " يا ايّہا النّاس " کے ذريعے تمام انسانوں کو مخاطب بناکر اپنے خالق و مدبر پروردگار کي عبادت کي دعوت دي اور اب اس آيت ميں تمام انسانوں کے شامل حال، اللہ کي طرح طرح کي نعمتوں کا ذکر کيا ہے کہ انساني زندگي کے لئے مناسب ترين منزل، زمين اللہ نے ہي پيدا کي ہے اور چونکہ زمين خود اپني جگہ تنہا انسانوں کي پيدائش و پرورش اور حيوانات و نباتات و جمادات کي حيات اور نشو و نما کے لئے کافي نہيں ہے اللہ نے شاميانے کي صورت ميں سروں پر تنے آسمان قرار دئے جس کے سينے سے طلوع ہونے والي خورشيد کي تابش سينہ زمين پر بہنے والے پاني کو بھاپ ميں تبديل کرتي اور بھاپ بادلوں کي صورت ميں پاني کي چھاگليں ايک جگہ سے دوسري جگہ ليجاکر پياسي زمينوں کو سيراب کرديتے ہيں اور زمين سے طرح طرح کے پھل پھول اگتے اور انسانوں کي روزي کا سامان فراہم کرتے ہيں اور انسان آرام و سکون کي زندگي بسر کرتا ہے يہ سب کچھ اللہ نے ہي مہيا کيا ہے کرۂ خاکي پر پھيلے کوہ و دشت ، آب و خاک اور زمين کے اندر پھيلے رنگارنگ معادن اور تيل و گيس کے ذخيرے انسان کي حيات اور روزي کي فراہمي ميں کس قدر موثر ہيں اللہ کي ان تمام نعمتوں کے باوجود بھلا ايک انسان کے لئے کہاں زيب ديتا ہے کہ وہ خود ساختہ معبود قرار ديکر " شرک باللہ " کا ارتکاب کرے جبکہ وہ جانتا ہے کہ اس کي تخليق اور پرورش ميں غير اللہ کا کوئي کردار نہيں ہے -

يہاں ايک لطيف پہلو کي طرف اشارہ کردينا مناسب معلوم ہوتا ہے اور وہ يہ کہ خداوند عالم نے قرآن حکيم ميں جہاں تمام انسانوں کو مخاطب بنايا ہے اپني ربوبيت کا بيان، اپني ظاہري نعمتوں کے قالب ميں کيا ہے اور وہ نعمتيں ذکر کي ہيں جن ميں انسان کے ساتھ دوسرے حيوانات و غيرہ بھي شريک ہيں جيسا کہ ذکر شدہ آيت کے علاوہ سورۂ عبس کي بتيسويں آيت ميں فرمايا ہے : " مَتَاعًا لّکُم وَ لِاَنعَامِکُم " ( چوبيسويں آيت سے اکتيسويں آيت تک تمام ذکر شدہ نعمتيں اے انسانو! تمہيں ديکھنا چاہئے کہ ) تمہارے اور تمہارے چوپاğ کے فائدے اور استعمال کے لئے ہيں يا سورۂ طہ کي چونويں آيت ميں ہے : " کُلُوا وَارعَوا اَنعَامَکُم" کہ (پچھلي دو آيتوں ميں ذکر شدہ نعمتوں کي پيداوار) تم خود بھي کھاؤ اور چوپاğ کو بھي ان ميں چراؤ - ليکن جہاں اللہ کے مخاطب خصوصي طور پر مومنين ہيں خدا نے اپني ربوبيت کے ذيل ميں معنوي اور باطني نعمتوں کا ذکر کيا ہے اور رسولوں کي بعثت کتابوں کا نزول اور نبوت و امامت اور خلافت کا مرکز قرار ديکر انسانوں کا فرشتوں کي منزل ميں قرار ديا جانا ذکر کيا ہے جيسا کہ سورۂ آل عمران کي اٹھارہويں آيت ميں خدا فرماتا ہے : " خود اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئي اللہ نہيں ہے اور اس بات کے ملائکہ اور صاحبان علم گواہ ہيں " گويا وحدانيت کي گواہي ہيں انسان کو فرشتوں کي صف ميں رکھا ہے؛ اور اب سورۂ بقرہ کي 23 ويں آيت / ارشاد ہوتا ہے:

" وَ اِن کُنتُم فِي رَيبٍ مِّمّا نَزّلنَا عَلي عَبدِنَا فَاتُوا بِسُورَۃٍ مِّن مِّثلِہِ وَ ادعُوا شُہَدَاءَ کُم مِن دُونِ اللہِ اِن کُنتُم صَادِقِينَ "

اور ( اے انسانو!) اگر تم کو اس ( قرآن کي باتوں) ميں شک و شبہ ہے جو ہم نے اپنے بندے (محمدص) پر نازل کيا ہے تو اس کے جيسا ايک سورہ ہي لے آؤ اور خدا کے علاوہ( خود ساختہ معبودوں يا اپني ہاں ميں ہاں ملانے والے معين و مددگار) گواہوں کو بھي ملالو، اگر تم اپنے دعوے ميں سچے ہو -

عزيزان محترم! اسلام کے بنيادي ترين اصول، خداوند عظيم کي " توحيد" ربوبيت و عبوديت کا اعلان کرنے کے بعد اس آيت ميں اسلام کے ايک اور بنيادي اصول نبوت و رسالت اور قرآن و شريعت کي حقانيت کا اعلان چيلنج کے انداز ميں کيا گيا ہے کہ اگر کسي کو مرسل اعظم حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم کي رسالت اور ان کے زندہ معجزے قرآن کريم کي حقانيت کے بارے ميں شک و شبہ ہے تو اس قرآن کے ايک سورے کا ہي جواب لے آئے اور خدا کے علاوہ جس کسي کو چاہے اپنا مددگار بنالے، تم کبھي اس کا جواب نہيں لاسکوگے کيونکہ يہ خدا کا کلام ہے جس کو تم فکر انساني کا نتيجہ سمجھ کر نبي(ص) کي رسالت ميں شک و شبہ ايجاد کررہے ہو- اگر ايسا ہے تو اس کے جيسا تم بھي پيش کرسکتے ہو، مل جل کر اس کے جيسا ايک سورہ بھي پيش کردو تو ہم تمہارے دعوت کو سچا مان ليں گے ليکن اس سلسلے ميں تمہاري عاجزي اور ناتواني ہي قرآن کريم کے کلام اللہ ہونے اور محمد عربي صلي اللہ عليہ و آلہ و سلّم کے " رسول اللہ " ہونے کي واضح دليل ہے -

قرآن سے متعلق ايک جگہ " لاريب فيہ " کہ اسميں شک کي کوئي گنجائش نہيں اور يہاں " اِن کُنتُم فِي رَيبٍ" اگر تم کو اس ( کتاب کے بارے ) ميں شک ہے کا جملہ کوئي غلط فہمي پيدا نہ کرے دونوں کا مطلب ايک ہي ہے کہ قرآن کريم ميں ، قرآن نازل کرنے والے خدا کي طرف سے شک کي کوئي گنجائش نہيں ہے اب اگر قرآن جنکے ہاتھوں ميں ہے انہيں اس کتاب کے بارے ميں شک ہے تو يہ ان کے کفر، نفاق يا جہالت کا نتيجہ ہوسکتا ہے خود قرآن شک و شبہ کا باعث ہو، ايسا نہيں ہے قرآن تو سراسر ہدايت اور شفاؤ رحمت ہے - چنانچہ سورۂ ص کي اٹھويں آيت ميں خدا فرماتا ہے : " کيا ہم سب کے درميان صرف ان ( کفار) پر ہي کتاب الہي نازل ہوئي ہے دراصل يہ ( کافر) ميري وحي کي طرف سے شک ميں ہيں -" يعني شک کفار کے کفر کا نتيجہ ہے -

يہ کفار و منافقين کبھي تو کہتے تھے " يہ کلام ، اللہ کا کلام نہيں ہے " اور کبھي کہتے تھے " اگر يہ خدا کا کلام ہے اور محمد عربي پر نازل ہوا ہے تو ہم پر نازل کيوں نہيں ہوتا " جواب ميں خدا فرماتا ہے اگر قرآن کے کلام اللہ ہونے ميں شک ہے اور کہتے ہو " لَو نَشَاءُ لَقُلنَا مِثلَ ہذَا " (انفال/31) ہم خود بھي چاہيں تو ايسا ہي کلام کہہ سکتے ہيں، تو ٹھيک ہے" فاتُوا بِسُورَۃٍ مِّن مِّثلِہ" اس کے جيسا ايک سورہ ہي لے آؤ اور اگر محمد (ص) عربي پر قرآن کيوں نازل ہوا ، تم پر کيوں نہ ہوا، اس پر اعتراض اور شک ہے تو سنو" اَللہُ اَعلَمُ حَيثُ يَجعَلُ رِسَالَتَہ " ( انعام/ 124) ہر شخص کلام اللہ کا حامل نہيں بن سکتا " اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ اپني رسالت کو کہاں قرار دے"

عزيزان محترم! يہاں ايک دلچسپ بات يہ ہے کہ خدا نے قرآن کے مخالفين کو کافي چھوٹ دي ہے پھر بھي وہ قرآن کا جواب لانے سے عاجز رہے ہيں ايک جگہ کہا قرآن کا مثل لاؤ ، نہ لاسکے تو کہا اس کے مثل دس سورے لاؤ وہ بھي ممکن نہ ہوا تو کہا کم از کم ايک ہي سورہ لے آؤ اور مخالفين يہ بھي نہ کرسکے -دوسري طرف قرآن نے ايک اور سہولت دي کہ اگر اکيلے نہيں بنتا تو خدا کے سوا جس کو چاہو اپنا مددگار بنالو مگر آج تک مخالفين قرآن سے يہ بھي ممکن نہيں ہوسکا ہے اور يہ قرآن کے اعجاز کي ايک اور محکم دليل ہے -

چنانچہ معجزے تو خدا نے دوسرے نبيوں کو بھي دئے ہيں مگر خدا کے آخري رسول (ص) کے معجزے قرآن حکيم کي خصوصيات ميں سے يہ ہے کہ قرآن کا معجزہ ہونا باہر سے کسي دليل کا محتاج نہيں ہے خود قرآن اپنے اعجاز ہونے کا بولتا اعلان ہے يعني قرآن قانون بھي ہے اور قانون الہي ہونے کا ثبوت بھي ہے؛ قرآن ہر دور اور ہر زمانے کے ہر ملک و قوم کے لئے معجزہ ہے اس کا اعجاز کسي دور اور کسي قوم ميں محدود نہيں ہے ، وقت کے ساتھ قرآني معارف اور زيادہ روشن اور شگوفہ آور ہوتے جارہے ہيں-

معلوم ہوا: خدا کي نعمتوں پر توجہ خدا کي معرفت اور عبادت و بندگي کي بہترين راہ ہے اور آسمان و زمين اور ان کے درميان موجود تمام مخلوقات ميں پائي جانے والي ہماہنگي اور نظم کائنات خدا کے خالق و پروردگار ہونے کے ساتھ اس کے ايک اور لاشريک ہونے کي بھي دليل ہے -

- "خدا کا بندہ ہونا "کوئي ذلت نہيں ہے بلکہ بندگي عظمت کي حامل ہے اور ايک انسان کے يہاں حامل وحي و قرآن ہونے کي لياقت پيدا کرديتي ہے اسي لئے خدا نے نزول قرآن کي منزل ميں "عبدنا" کے ذريعے اپنے نبي کا تعارف کرايا ہے -

- قرآن خدا کا کلام اور خدا کا قانون ہے اس لئے اس ميں کسي شک و شبہ کي کوئي گنجائش نہيں ہے -

- قرآن اللہ کي وہ جاوداں کتاب ہے جو ہر دور اور ہر قوم کے لئے معجزہ ہے اور سراسر ہدايت ہے -

Last modified on Friday, 02 May 2014 13:35
Login to post comments