×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن نے سائنسی علوم میں ہماری رہنمائی کی

خرداد 20, 1393 711

انسان نے پتھر کی زندگی سے نکل کر اپنے لئے مہذب معاشرے میں رہتے ہوئے نئی نئی ای جاد کی اور ان ای جادات کے ذریعہ آنے والی

نسلوں کے لئے زندگی کو بہت آسان کر دی ا - آج کا انسان ہوا کے دوش پر سوار، چاند کی دنی ا می ں گامزن اور ستاروں کی محفلوں می ں خی مہ زن ہے- ی ہ انسان کے وہ تصورات ہی ں جو ان کی ضرورتوں نے جنم لئے- ی ا انسان نے اپنی آسائش و آرام کی خاطر ان اشی اءکو سوچا جس کا تصور پچھلے زمانے کے لوگ صرف خوابوں می ں کرتے تھے اور آج ان کے وہی خی الات ، تصورات اور ذہنی اخترامات، منصہ شہود پر ہے- عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہی ں---کہ ی ہ ٹوٹا ہوا تارہ مہ کامل نہ بن جائے --- خدا کری م نے انسان کو جستجو و تلاش کا جذبہ و دی عت کی ا ہے- اور قرآن نے مختلف صی غوں سے تقری با 565 مرتبہ کائنات کے رموز، فکر و سوچ کی جلد، عقل استعمال کرنے کا تکرار کی ا ہے- اس دنی ا کے خزانوں کی تلاش کا تذکرہ قرآن نے بار بار کی ا- کی ونکہ جب ی ہ بندہ خاکی اپنے نفس اور کائنات کے ہر مظہر پر غور کرتا ہے تو وہ اپنے رب کے قری ب تر ہو جاتا ہے- کی ونکہ ی ہ سوچ اسے رب کائنات کا تعارف کر ا دی تی ہے- کائنات کی ہر شے اپنے اندر حقائق و معارف کی ای ک دنی ا لئے ہوئے ہے ذرے سے لی کر آفتاب تک ای سی سچائی اں بکھری ہوئی ہی ں جو ای ک سلی م الفطرت انسان کو رب کے قری ب تر کر دی تی ہے- قرآن سائنس کی کتاب نہی ں مگر قرآن نے سائنسی مضامی ن کا بھی احاطہ کی ا ہوا ہے- ی ہ وہ تصورات اور خی الات ہی ںجو 1400سال بعد حقی قت می ں بدل گئے- چند ای ک مثالی ں درج ذی ل ہی ں- قرآن می ں الفاظ و آواز کی ری کارڈنگ کے بارے می ں آج سے 1400سال قبل ذکر کی ا گی ا تھا-مگر آج انسان ذہن ، عروج و ارتقاء کے ان مراحل می ں ہے کہ ی وں محسوس ہوتا ہے کہ ی ہ ارتقاءاپنے کمال کو محو رہا ہے انسان کے منہ سے نکلی ہوئی ہر بات ری کارڈ ہو جاتی ہے اور وہ اس بات کو جب چاہے سن سکتا ہے- ہم جانتے ہی ں کہ جب کوئی شخص بولنے کی لئے اپنی زبان کو حرکت دی تا ہے تو اس حرکت سے ہوا می ں لہری ں پی دا ہوتی ہیں- جس طرح ساکن پانی می ں پتھر پھی نکنے سے لہری ں پی دا ہوتی ہے- ی ہی لہری ں ہی ں جو آواز کی صورت می ں ہمارے کان کے پردے سے ٹکراتی ہی ں- اور کان کے آلات انہی ں اخذ کرکے ان کو ہمارے دماغ تک پہنچا دی تے ہی ں ان لہروں کے سلسلے می ں ی ہ ثابت ہو چکا ہے کہ وہ ای ک مرتبہ پی دا ہونے کے بعد مستقل طور پر فضا می ں رہتی ہی ں- اور ی ہ ممکن ہے کہ کسی بھی وقت انہی ں دہرای ا جا سکے - اگرچہ سائنس ابھی اس قابل نہی ں ہوئی ہے- کہ ان آوازوں ی ا صحی ح تر الفاظ می ں ان لہروں کو گرفت کر سکے جو قدی م تر ی ن زمانے سے فضا می ں حرکت کر رہی ہے- الغرض ہر حال می ں ای ک کائناتی انتظام کے تحت اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کا مکمل ری کارڈ تی ار کی ا جا رہا ہے- اور ی ہی ری کارڈ آخرت کی عدالت می ں حساب کی لئے نہی ں ہوگا-
انسانی  ذہن کے عروج فکر نے رسل و رسائل کے ذرائع اس قدر آسان کر دی ئے کہ مہی نوں کا سفر منٹوں می ں طے ہونے لگا- آج کے مسافر کو نہ راستے کی  صعوبتوں کا کوئی  خوف ہے اور نہ ذاد راہ کا کوئی  اندی شہ ، ہوائی  جہاز نے کائنات کے وسعتوں کو سمی ٹ کر رکھ دی ا ہے - خلائی  شٹل کے ذری عے انسان نے چاند اور مری خ پر کمند لگائی  - انہی  راکٹوں اور خلا کے بارے می ں سب سے پہلے تصور قرآن نے دی ا- ی مشعر الجن والانس--- گوی ا جنات اور انسان نے گروہ کو خدا نے دعوت دی  کہ اگر دنی ا سے نکلنا ہے تو تی ر کی  طرح کوئی  چی ز بنالو اسی  کے ذری عے ی ہی  آپ اس زمی ن سے نکل سکتے ہی ں اور آج کے راکٹ اس کی  مصداق ہی ں- اس کے علاوہ قرآن نے مزی د ی ہ تصور بھی  دی ا کہ خلا سے نکلنے کی لئے ضروری  ہے کہ آپ کے مرکب کی  رفتار بہت زی ادہ ہو ورنہ کشش ثقل کی  وجہ سے اس کو آگ لگ سکتی  ہے اور آپ کبھی  بھی  اس زمی ن سے نہ نکل پائے گے- قرآن ای ک مکمل کتاب ہے زندگی  کے ہر موڑ اور ہر منزل کی لئے اس می ں ای سے واضح احکام موجود ہی ں کہ ان می ں نہ کسی  ترمی م کی  ضرورت ہے نہ اضافے کی  کی ونکہ وہ مکمل اور اکمل ہی ں- انسان کی  خلقت اور ازل سے لی کر موت اور ابد تک کے زندگی  کے بارے می ں قرآن نے واضح تصور پی ش کی ا ہے جس پر حل کر سائنسدانوں نے اس وقت کے تصورات کو اور خی الی  دنی ا کو آج کے دور می ں کی  حقی قتوں می ں بدل دی ا ہے- 0041 سال پہلے دی ئے گئے قرآنی  تصورات (انسان ذہن کے لحاظ سے) اور خی الی  دنی ا کی  باتی ں جس کو آج ہم حقی قت می ں دی کھ سکتے ہی ں- قانون بقائے مادہ کے بارے می ں خدا تعالی ٰ نے فرمای ا- اور اس نے ہر موجود چی ز کو پی دا کی ا پھر سب کا الگ الگ اندازہ رکھا- جانوروں کو مختلف گروہوں می ں تقسی م کرنے کا پہلا تصور خدا تعالی ٰ نے پی ش کی ا- واï·² خلق کل دابة من--- اور خدا تعالی ٰ نے ہر ای ک چلنے والے جاندار کو پانی  سے پی دا کی ا ہے- پھر ان می ں بعض تو وہ جانور ہی ں جو کہ اپنے پی ٹ کے بل چلتے ہی ں- بعض ان می ں وہ ہی ں، جو دو پاوں سے چلتے ہی ں اور بعض ان می ں وہ ہی ں جو کہ چار پاو پر چلتے ہی ںخدا جو چاہتا ہے بناتا ہے- انسانی  ابتداءکے بارے می ں اï·² نے فرمای ا - ولقد خلقنا الانسان من ---( پارہ14سورة مومنون آی ت 41) ہم نے انسان کو متی  کے خلاف (ی عنی  غذا) سے بنای ا- پھر ہم نے اس کو نطفہ سے بنای ا جو کہ ای ک موت معی نہ تک ای ک محفوظ مقام (رحم) می ں رہا- پھر ہم نے اس نطفہ کو خون کا لوتھڑا بنا دی ا- پھر ہم نے اس خون کے لوتھڑے کو گوشت کی  بوٹی  بنای ا پھر ہم نے اس بوٹی  کے بعض اجزاءکو ہڈی اں بنا دی ا- پھر ہم نے ان ہڈی وں پر گوشت چڑھا دی ا- پھر ہم نے اس می ں روح ڈال کر اس کو ای ک ہی  طرح مخلوق بنا دی ا- ی ہ بات جدی د تری ن طبی  تحقی قات کے مطالعہ سے بالکل واضح ہو جاتی  ہے- کہ سکلر و ٹوم (ہڈی وں کا سسٹم بننا ) مائبو ٹوم سے (پٹھوں کا نظام) سے پہلے معرض وجود می ں آتا ہے- جس کا تصور ابتدائی  تصوی ر قرآن نے دی ا- معجزات سلی مانی  کو اکثر طور ای ک عقل سے ماورا جس تصور کی ا جاتا تھا مگر آج اس تصور کو حقی قت می ں ہارپ ٹی کنولوجی  نے سچ کی ا کہ ہارپ ٹی کنولوجی  سے کسی  بھی  علاقے کی  آب و ہوا کو بدلا جا سکتا ہے- مثلا کسی  جگہ پر پانی  سے مصنوعی  سی لاب ی ا علاقے کو گرم کرکے آگ لگائی  جا سکتی  ہے- ماہری ن کا خی ال ہے کہ حالی ہ سی لاب اور ماسکو می ں جنگلات کے چلنے کا عمل دراصل ہارپ ٹی کنولوجی  کا نمونہ ہے- اور آج کل تمام ی ورپی ن ممالک اور ترقی  ی افتہ ممالک اس ٹی کنولوجی  کو جنگی  ہتھی ار کے طور پر استعمال کرنے کی  کوشش کر رہے ہی ں-ہارپ دراصل ہائی  ای مپلی ٹی وڈری کٹی فائر پاور کا مخفف ہے- سطحی  تناو کا قرآنی  تصور جو آج ای ک حقی قت ہے-
قرآن مجی د نے بہت سے سائنسی  اصولوں اور موضوعات کا تصورچودہ سو سال قبل پی ش کی ا تھاجو آج کے دور کی  حقی قت ہی ں- قرآن نے ابتدائی  طور پر ان کے موضوعات کا ٹھی ک ٹھی ک تصور پی ش کی ا اس کا تذکرہ کی ا اور انکی  تشری ح کی  مثلا علم کائنات، فلکی ات، علم الاعضائ، ارضی ات، معدنی ات وغی رہ وغی رہ- زراعت زندگی  کی  ساخت اور نوعی ت، مچھر، ٹڈی اں، چی ونٹی اں، مکھی اں (علم الحشرات) آج کی  جدی د سائنس اور ٹی کنولوجی  جس سائنس پر مغرور ہے- وہ دراصل قرآن و حدی ث کے دی ئے گئے تصورات کا ہی  مرہون منت ہے- ای سے ہزار ی ا تصورات قرآن حدی ث نے پی ش کئے ہی ں- جس کو آج کی  سائنس نے حقی قت می ں بدل دی ا ہے- قرآ ن کی  بہت سی  سورتوں می ں اللہ نے ہماری  توجہ تخلی ق ِانسان کی  جانب مبذول کروائی  ہے - وہ لوگوں کو اس تخلی ق پر غوروفکر کرنے کی  دعوت دی تاہے -سورہ الانفظار می ں ارشاد ہوتا ہے '' اے انسان کس چی زنے تجھے اپنے اس رب کری م کی  طرف سے دھوکے می ں ڈال دی ا جس نے تجھے پی داکی ا -تجھے نک سک سے درست کی ا -تجھے متناسب بنای ا اور جس صورت می ں چاہا تجھ کو جوڑ کر تی ا رکی ا ''(الانفطار :6-8) سورة ی ٰس می ں انسان کو خبردار کرتے ہوئے فرمان الہی  جاری  ہوتا ہے: ''کی ا انسان دی کھتا نہی ں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پی داکی ا اور پھر وہ صری ح جھگڑالو بن کر کھڑا ہو گی ا ؟اب وہ ہم پر مثالی ں چسپاں کرتا ہے اور اپنی  پی دائش کو بھول جاتا ہے ،کہتا ہے کون ان ہڈی وں کو زندہ کرئے گا جبکہ ی ہ بوسی دہ ہوچکی  ہوں؟اس سے کہو انہی ں وہ زندہ کرے گا جس نے پہلے انہی ں پی د اکی ا تھا اور وہ تخلی ق کا ہر کام جانتا ہے ''- (ی ٰس : 77-79) اللہ تعالی ٰ نے قرآن مجی د می ں انسان کی  تخلی ق اور پی دائش کے ان مراحل کو بڑی  تفصی ل کے ساتھ بی ان کی اہے جو ماں کے رحم می ں حمل ٹھہرنے کے بعد وقوع پذی ر ہوتے ہی ں-اللہ تعالی ٰ سورة المءومنون می ں فرماتاہے: (وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِی ْنٍ - ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَةً فِی ْ قَرَارٍ مَّکِی ْنٍ - ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَاالْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا ق ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِی ْنَ) '' اور ہم نے انسان کو مٹی  کے سَت سے پی داکی ا-پھر ہم نے اسے ای ک محفوظ مقام (رحم مادر)می ں نطفہ بنا کر رکھا-پھر نطفہ کو لوتھڑا بنای ا پھر لوتھڑے کو بوٹی  بنای ا پھر بوٹی  کو ہڈی اں بنای ا پھر ہڈی وں پر گوشت چڑھای ا،پھر ہم نے اسے ای ک اور ہی  مخلوق بنا کر پی دا کر دی ا- پس بڑا بابرکت ہے ،اللہ جو سب بنانے والوں سے بہتر بنانے والا ہے''( 23:12-14)
آی ئے اب جدی د سائنس کی  روشنی  می ں ی ہ معلوم کرتے ہی ں کہ ماں کے پی ٹ می ں بچہ کس طرح پر ورش پا تاہے اور ا س می ں اللہ تعالی ٰ کی  عظی م الشان قدرت کا جلوہ کس قدر جلوہ گرہے -نطفہ جو ای ک نئے انسان کی  تخلی ق کی  جانب پہلاقد م ہے ،مرد کے جسم کے ''باہر''پی دا ہوتا ہے-اس کا سبب ی ہ ہے کہ سپرم ی ا مادہ منوی ہ کا پی دا ہونا صرف اس وقت ممکن ہو تا ہے جب جسم کے عام درجہ حرارت سے دو درجے زی ادہ سرد ماحول می سر ہو- درجہ حرارت کو اس سطح پر قائم رکھنے کے لی ے خصی وں کے اوپر ای ک خا ص قسم کی  کھال ہوتی  ہے- ی ہ سر د موسم می ں سکٹرتی  اور گرم موسم می ں پھی لتی  ہے جس سے درجہ حرارت غی ر متغی ر ہو جاتا ہے-کی ا مرد اس نازک توازن کو خود قائم رکھتا ہے اور اس می ںباقاعدگی  وہ خود لاتاہے ؟ی قی نانہی ں ...مرد کو تو اس کی  خبر بھی  نہی ں ہوتی -تو پھر اس چی ز کا انتظام کس نے کی ا ؟ہم کہہ سکتے ہی ں کہ وہ ذات باری  تعالی ٰ کے سو اور کوئی  ہو ہی  نہی ں سکتا- نطفہ خصی وںمی ں 1000فی  منٹ کی  شرح سے پی د اہوتاہے-ای ک اوسط درجے کے آدمی  کا ای ک بار خارج شدہ مادہ تولی د اپنے اندر تقری باً 30 تا 40کروڑ سپرم رکھتاہے جس سے تی س سے چالی س کروڑ عورتوں کے حمل واقع ہو سکتے ہی ں- مگر اللہ کی  قدرت کا کرشمہ ی ہ ہے کہ عموماً ای ک ہی  سپرم کو عورت کے بی ضہ دان کے ساتھ ملاپ کا موقع دی ا جاتاہے -سپرم کی  لمبائی  0.004سے 0.005 ملی  می ٹر جبکہ چوڑائی  0.002 سے 0.003ملی  می ٹر تک ہوتی  ہے -سپرم کو عورت کے بی ضہ دان تک پہنچنے کے لی ے اسے ای ک خا ص شکل دی  جاتی  ہے- ی ہ سپرم کا ای ک ای سا سفر ہوتا ہے جو ی وں طے ہوتاہے جی سے وہ اس جگہ سے ''واقف 'ہے جہاں اسے پہنچنا ہے- سپرم کا ای ک سر ،ای ک گردن اور ای ک دم ہوتی  ہے- اس کی  دم رحم مادر می ں داخل ہونے می ں مچھلی  کی  مانند اس کی  مدد کرتی  ہے-اس کے سر والے حصے می ں بچے کے جنی نی  کوڈ کا ای ک حصہ ہوتاہے اسے ای ک خا ص حفاظتی  ڈھال سے ڈھانپ دی ا جاتا ہے-اس ڈھال کا کام اس وقت ظاہر ہوتاہے جب نطفہ رحم مادر می ں داخل ہونے والے راستے پر پہنچتا ہے- ی ہاں کا ماحول بڑا تی زابی  ہوتا ہے-ی ہ بات بالکل واضح ہے کہ سپرم کو حفاظتی  ڈھال سے ڈھانپنے والا''کوئی  '' ہے جسے اس تی زاب کا علم ہے (اس تی زابی  ماحول کا مقصد ی ہ ہے کہ ماں کو خوردبی نی  جرثوموں سے تحفظ دی ا جائے)- نطفے ی ا منی  کے اندر ان سی ال مادوں می ں شکر شامل ہوتی  ہے جو اسے مطلوبہ توانائی  فراہم کرتی  ہے- اس کے علاوہ اس کی  بنی ادی  ترکی ب می ں کئی  ای ک کام کرنے کے ہوتے ہی ں- مثلاً ی ہ رحم مادر کے داخلی  راستے کے تی زابوں کو بے اثر بناتی  ہے اور سپرم کو حرکت دی نے کے لی ے درکار پھسلن کو برقرا ر رکھتی  ہے- (ی ہاں ہم پھر دی کھتے ہی ں کہ دو مختلف اور آزاد چی زی ں ای ک دوسرے کے مطابق تخلی ق کی  گئی  ہی ں)-منی  کے جرثومے ماں کے جسم کے اندرای ک مشکل سفر طے کرتے ہی ں ی ہاں تک کہ وہ بی ضے تک پہنچ جاتے ہی ں- بی ضہ گو سپرم کا نمونہ بی ضہ کے مطابق تی ا ر کی ا جاتا ہے مگر دوسری  طرف اسے با لکل مختلف ماحول می ں زندگی  کے بی ج کے طور پر تی ا ر کی ا جاتا ہے- عورت اس بات سے جس وقت بے خبر ہوتی  ہے اس وقت سب سے پہلے ای ک بی ضہ جسے بی ضہ دان می ں بلوغت تک پہنچای ا جاتاہے ، عورت کی  شکمی  جوف می ں چھوڑ دی ا جاتا ہے- پھر رحم مادر کی  فی لوپی  نالی وں کے ذری عے جو دو بازؤوں کی  شکل می ں رحم مادر کے کنارے پر موجود ہوتی  ہی ں اسے پکڑ لی ا جاتا ہے- اس کے بعد بی ضہ فی لوپی  نالی وں کے اندر ای ک باری ک سے بال (Cilia)کی  مدد سے حرکت شروع کر دی تا ہے-ی ہ بی ضہ نمک کے ذرّے کے نصف کے برابر ہوتا ہے- وہ جگہ جہاں بی ضہ اور نطفہ ملتے ہی ں اسے فی لوپی  نالی  کہتے ہی ں- ی ہاں ی ہ بی ضہ ای ک خا ص قسم کا سی ال مادہ ی ا رطوبت خارج کرنا شروع کر دی تا ہے اور اس رطوبت کی  مدد سے منی  کے جرثومے ی ا سپرم بی ضہ کے محل وقوع کا پتہ لگا لی تے ہی ں، ہمی ں ی ہ جاننے کی  ضرورت ہے :جب ہم ی ہ کہتے ہی ں کہ بی ضہ ''رطوبت خارج کرنا شروع کردی تا ہے''تو ہم انسان کے بارے می ں ی ا ای ک باشعور وجود کے بارے می ں بات نہی ں کر رہے ہوتے- اس بات کی  وضاحت اس طرح کرنا ی قی نا غلط ہو گا کہ اتفاقاً ای ک خوردبی نی  لحمی ے کی  کمی ت اس قسم کا کام از خود کرلی تی  ہے- اورپھر ای ک کی می ائی  مرکب تی ارکرتی  ہے جس می ں رطوبت بھی  موجود ہو جو منی  کے جرثوموں کو خود ہی  اپنی  طرف کھی نچ لے-ی قی نای ہ کسی  ہستی  کی  صناعی  کا کرشمہ ہے- مختصر ی ہ کہ جسم می ں تولی د کا نظام اس طرح بنای ا گی ا ہے تاکہ بی ضہ اور نطفہ ی کجا کی ے جا سکی ں…اس کا مطلب ی ہ ہوا کہ عورت کا تولی دی  نظام منی  کے جرثوموں کی  ضروری ا ت کے مطابق بنای ا گی ا ہے اور ی ہ جرثومے عورت کے جسم کے اندر کے ماحول کی  ضرورتوں کے مطابق تخلی ق کی ے جاتے ہی ں- سپرم اور بی ضہ کے ی کجا ہونے کی  خبر اللہ تعالی ٰ نے درج ذی ل آی ت کری مہ می ں دی  ہے -
 (ھَلْ اَتٰی  عَلَی  الْاِنْسَانِ حِی ْنُ مِّنَ الدِّھْرِ لَمْ ی َکُنْ شَی ْئًا مَذْکُورًا - ِانِّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ ٍ نَّبْتَلِی ْہِ فَجَعَلْنٰہُ سَمِی ْعًا بَصِی ْرًا) ''کی ا انسان پر لامتناہی  زمانے کا ای ک وقت ای سا بھی  گزرا ہے جب وہ کوئی  قابل ِ ذکر چی ز نہ تھا؟ ہم نے انسان کو ای ک مخلوط نطفہ سے پی دا کی ا تاکہ اس کا امتحان لی ں اوراس غرض کے لی ے ہم نے اسے سننے اوردی کھنے والابنای ا '' (الدھر، 1-2:76 ) نطفے او ر  بی ضے کا ملاپ جب وہ سپرم، جس نے انڈے کو بارور کرنا ہوتا ہے ، بی ضے کے قری ب پہنچتا ہے تو انڈہ ای ک بار  پھر ای ک خاص رطوبت خارج کرنے کا فی صلہ کر لی تا ہے جسے سپرم کے لی ے بطور خاص تی ا ر کی ا جاتاہے- ی ہ سپرم کے سر کی  حفاظتی  ڈھال کو حل کر دی تی  ہے- اس کے نتی جے می ں سپرم کے سر کے کنارے پر موجود خامروں کی  محلل تھی لی وں کے منہ کھول دی ے جاتے ہی ں جو بی ضے کے لی ے بطور خاص بنائی  گئی  ہی ں- جب سپرم بی ضے تک پہنچتاہے تو ی ہ خامرے بی ضے کی  جھلی  می ں سوراخ کر دی تے ہی ں تاکہ سپرم اندر داخل ہو سکے- بی ضے کے گرد موجود منی  کے جرثومے اندر داخل ہونے کے لی ے مقابلہ شروع کردی تے ہی ں مگر عموماً صرف ای ک سپرم بی ضے کو بارور کرتا ہے- جب ای ک بی ضہ ای ک جرثومے کو اندر داخل ہونے کی  اجازت دے دی تا ہے تواس بات کا امکان موجود ہوتا ہے کہ کوئی  دوسرا جرثومہ بھی  اندر داخل ہوجائے مگر ای سا عموماً ہوتانہی ں ہے - اس کا سبب وہ برقی اتی  می دان ہے جو بی ضے کے گرد بن جاتاہے- جرثومہ (+) مثبت چارج کا حامل ہوتاہے- جبکہ انڈے کے اردگرد کا علاقہ (-) منفی  طور پر چارج ہو تا ہے چنانچہ جونہی  پہلا جرثومہ بی ضے کے اندر داخل ہو تاہے تو بی ضے کا (-) منفی  چارج'مثبت چارج (+) می ں تبدی ل ہو جاتا ہے- اس لی ے وہ بی ضہ جس کا وہی  برقی اتی  چارج ہے جو بی رونی  منی  کے جرثومے کا ہے ، تو ی ہ ای ک دوسرے کو پرے دھکی لنا شروع کر دی تے ہی ں اور نتی جتاً کوئی  دوسرا جرثومہ بی ضے کے اندر داخل نہی ں ہو پاتا- آخری  بات ی ہ ہے کہ منی  می ں مرد کے ڈی  ای ن اے اور عورت کے ڈی  ای ن اے بی ضے می ں ی کجا ہو جاتے ہی ں- اب ی ہ پہلا بی ج ہے، ای ک نئے انسان کا پہلا خلی ہ جو رحم مادر می ں ہے جسے جفتہ (Zygote) کہتے ہی ں- رحم مادر می ں چمٹا ہوا جمے ہوے خون کا لوتھڑا جب مرد کا سپرم عورت کے بی ضے کے ساتھ ملتاہے تو ''جفتہ'' پی دا ہوتا ہے جس سے متوقع بچہ پی دا ہوتا ہے- ی ہ واحد خلی ہ جو حی اتی ات می ں ''جفتہ '' کہلاتا ہے ، فوراً تقسی م ہو کر نشو و  نما پانے لگتا ہے اور بالآخر ''گوشت '' بن جاتا ہے- ی ہ جفتہ اپنی  نشو و نما کی  مدت خلا می ں نہی ں گزارتا- ی ہ رحم مادر سے ان جڑوں کی  مانند چمٹ جاتا ہے جو اپنی  بی لوں کے ذری عے زمی ن سے پی وست رہتی  ہی ں- اس بندھن کے ذری عے جفتہ ماں کے جسم سے وہ مادے حاصل کر سکتا ہے جو اس کی  نشو و نما کے لی ے لازمی  ہوتے ہی ں- جنی ن کے اس طرح چمٹ جانے کا ذکر اللہ تعالی ٰ نے قرآن مجی د می ں کئی  مقامات پر کی ا ہے - مثلاً ( اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِی ْ خَلَقَ - خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ ) '' اپنے پروردگار کے نام سے پڑھی ے جس نے (ہر چی ز کو)پی دا کی ا (اور) انسان کو (جمے ہوئے) خون کے  لوتھڑے سے پی دا کی ا ''(العلق -1-2 ) عربی  زبان می ں لفظ ''علقہ ی عنی  خون کے لوتھڑے ''کے معنی  ی ہ ہی ں کہ کوئی  ای سی  چی ز جو کسی  جگہ سے چمٹ جائے-اصطلاحاً اس لفظ کو وہاں استعمال کی ا جاتا ہے جہاں چوسنے کے لی ے جسم کے ساتھ جونکی ں چمٹ جائی ں- رحم مادر کی  دی وار کے ساتھ جفتے کے چمٹنے اور اس سے اس کے پرورش پانے کے لی ے اس سے بہتر کوئی  اور لفظ استعمال نہی ں ہو سکتا تھا-رحم مادر سے پوری  طرح چمٹ جانے کے بعد جفتہ کی  نشوونما شروع ہو جاتی  ہے-اس اثنا می ں رحم مادر ای ک ای سے سی ا ل مادے سے بھر جاتا ہے جسے ''غلافِ جنی ن سی ا ل مادہ''کہتے ہی ں جو جفتے کو گھی رے ہوئے ہوتاہے-اس غلاف جنی ن سی ا ل مادے کا سب سے اہم کام ی ہ ہوتاہے کہ ی ہ اپنے اندر موجود بچے کو باہر کی  ضربوں اورچوٹوں سے محفوظ رکھتا ہے-اس بات کا ذکر اللہ تعالی  ٰ نے درج ذی ل آی ت کری مہ می ں کی ا ہے - (ی َخْلُقُکُمْ فِی ْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْ م بَعْدِ خَلْقٍ فِی ْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ط ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْک ط لَآ اِلٰہَ اِلِّا ھُوَ ج فَاَنّٰی  تُصْرَفُوْنَ) '' وہ تمہی ں تمہاری  ماğ کے پی ٹوں می ں ،تی ن تاری ک پردوں می ں ،ای ک کے بعد دوسری  شکل دی تے ہوئے پی دا کرتا ہے- ی ہ ہے اللہ (ان صفات کا ) تمہارا پروردگار، بادشاہی  اسی  کی  ہے، اس کے سوا کوئی  الٰہ نہی ں ہے-  پھر تم کہا ں سے پھی ر دی ے جاتے ہو ؟'' (39- 6)
اس اثنا می ں وہ جنی ن جو اس سے قبل جی لی  کی  مانند نظر آتا تھا وقت کے ساتھ ساتھ ای ک اور شکل اختی ا ر کرلی تا ہے- اپنی  ابتدائی  نرم ساخت می ں، سخت ہڈی اں بننی  شروع ہو جاتی  ہی ں جو جسم کو سی دھا کھڑا ہونے کے قابل بناتی  ہی ں- وہ خلی ے جو  ابتدا می ں بالکل عام سے تھے اب خا ص بن جاتے ہی ں- کچھ می ں ہلکے حساس آنکھ کے خلی ے متشکل ہو جاتے ہی ں اور کچھ لوگوں کے ای سے خلی ے تشکی ل پاتے ہی ں جو سردی  گرمی  اور درد کے مقابلے می ں حساس ہوتے ہی ں- اور کچھ خلی ے آوازوں کی  لہروں سے بڑے حساس ہوتے ہی ں- کی ا ی ہ سارا فرق ان خلی وں می ں خودبخود پی دا ہو گی ا ہے ؟ کی ا وہ ی ہ فی صلہ خود کرتے ہی ں کہ سب سے پہلے انسانی  دل بنے ی ا انسانی  آنکھ اور پھر وہ ی ہ ناقابل ی قی ن کام خود مکمل کرتے ہی ں ؟ دوسری  طرف سوال پی دا ہوتا ہے کہ کی ا ان مقاصد کے لی ے ان کو موزوں طور پر تخلی ق کی ا گی ا ہے ؟ عقل و دانائی  تو پکار پکار کر کہے گی  کہ ان کا کوئی  خالق ی قی نا ہے- جب جنی ن تخلی ق کے مراحل پورے کر چکتا ہے تب اس می ں روح پھونکی  جاتی  ہے اور تخلی ق کی  تکمی ل رحم مادر می ں نطفہ قرار پانے کے بعد ای ک سو بی س دن می ں مکمل ہوتی  ہے ' جنی ن می ں روح پھونکے جانے سے وہ ای ک دوسری  مخلوق ہو جاتا ہے کی ونکہ وہ حرکت کرنے اور آوازوں کو سننے پر قادر ہوجاتا ہے اور اس کا دل برابر دھڑکنے لگتا ہے پھر وہ اس دنی ا می ں پی دا ہوتاہے- اب ی ہ بچہ اپنے آغاز کے مقابلے می ں 100ملی ن بار بڑا اور 6ملی ن مرتبہ بھاری  ہوتا ہے 'اسی  جانب قرآن مجی د می ں اشارہ کی ا گی ا ہے: ( ثُمَّ اَنْشَاْ نَاہُ خَلْقًا اٰخَرَ ط فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخَالِقِی ْنَ) ''پھر ہم نے اس کو دوسری  مخلوق بنای ا 'لہٰذا اللہ تعالی ٰ ہی  سب سے اچھا پی دا کرنے والا ہے بابرکت ہے'' (المومنون- 23:14") ی ہ تھی  زندگی  می ں ہمارا پہلا قدم رکھنے کی  کہانی - اس می ں دوسرے نامی ا تی  اجسام کا کوئی  ذکر شامل نہ تھا- ای ک انسان کے لی ے اس سے زی ادہ اہم بات اور کی ا ہو سکتی  ہے کہ وہ اس قدر حی ران کن تخلی ق کے مقصد کی  تلا ش کرے ؟ی ہ کس قدر بے وزن اور غی ر منطقی  بات لگتی  ہے کہ ہم ی ہ سوچی ں کہ ی ہ سارے کے سارے پی چی دہ کام ''اپنی  مرضی  اور ارادے سے'' ظہور پذی ر ہو گئے- کسی  می ں اتنی  قوت نہی ں کہ اپنے آپ کو تخلی ق کرلے ی ا کسی  دوسرے انسان ی ا شے کو تخلی ق کرنے می ں کامی اب ہو جائے-اس سے قبل جن واقعات کا ذکر ہو اان می ں ای ک ای ک لمحہ ،ای ک ای ک سی کنڈ اور ہر ای ک مرحلہ اللہ نے تخلی ق کی ا ہے: (وَاللّہُ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَکُمْ اَزْوَاجاً ط وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰی  وَلاَ تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِہ ط وَماَ ی ُعَمِّرُ مِنْ مُّعَمِّرٍ وَّ لَا ی ُنْقَصُ مِنْ عُمُرِہ اِلَّا فِی ْ کِتٰبٍ ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی  اللّٰہِ ی َسِی ْر) ''اللہ نے تمہی ں مٹی  سے ،پھر نطفہ سے پی داکی ا پھر تمہی ں جوڑے جوڑے بنای ا-جو بھی  مادہ حاملہ ہوتی  ی ا بچہ جنتی  ہے تواللہ کو اس کا علم ہوتا ہے- اورکوئی  بڑی  عمر والا جو عمر دی ا جائے ی ا اس کی  عمر کم کی  جائے توی ہ سب کچھ کتاب می ں درج ہے- اللہ کے لی ے ی ہ بالکل آسان بات ہے''(فاطر-35-11) ہمارا جسم جو صرف پانی  کے ای ک حقی ر قطرے سے بننا شروع ہوا ای ک مکمل انسان بن جاتا ہے-جس می ں کئی  ملی ن نازک توازنات ہوتے ہی ں گو ہم اس بات سے باخبر نہی ں ہی ں مگر ہمارے جسموں می ں نہا ی ت پی چی دہ اور نازک نظام کا م کر رہے ہی ں جن کی  مدد سے ہم زندہ رہتے ہی ں- ی ہ تما م نظام انسان کے واحد مالک ،خالق اور آقا ،اللہ نے بنائے ہی ں اور وہی  ان کو چلا رہا ہے- ( 1) حوالہ جات : (1)-اللہ کی  نشانی اں،عقل والوںکے لی ے -صفحہ63-70

Last modified on چهارشنبه, 21 خرداد 1393 09:51
Login to post comments