×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قیام عاشوراء کا اہم پیغام امر بالمعروف و نھی عن المنکر

تیر 20, 1393 620

ہم یہاں پر امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کی اہمیت کے سلسلہ میں معصومین علیھم السلام سے منقول چند احادیث کو بیان کرتے ھیں،

تاکہ اس کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکے، کیونکہ ہمارے معاشرہ کے بعض ذمہ دار حضرات بھی اس فریضہ الٰہی کی نسبت کم توجہ دیتے ہیں، جبکہ ہمارے یہاں جس طرح فروع دین میں نماز واجب ہے، اسی طرح امر بالمعروف و نھی عن المنکر بھی واجب ہے، ہم خود تو نیکیاں انجام دیتے رھیں اور جنت میں جانے کی کوشش کرتے رھیں لیکن اپنے بھائی بہنوں کے سلسلہ لاپرواہی کریں، ہم خود تو برائیوں سے دور رھتے هوں اور خود جہنم کی جلتی هوئی آگ سے ڈرتے هوئے برائیوں سے دور رہیں لیکن اپنے رشتہ داروں اور اپنی قوم والوں کے بارے میں توجہ نہ کریں!!
ہمیں معصومین کے کلام پر توجہ کرنا هوگی، تاکہ ہمیں معلوم هوجائے کہ امر بالمعروف و نھی عن المنکر کی کتنی زیادہ اہمیت ہے، چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام نے اس سلسلہ میں فرمایا:
”‌ان الامر بالمعروف والنھی عن المنکر سبیل الانبیاء، ومنھاج الصالحین، فریضة عظیمة بھا تقام الفرائض، و تامن المذاھب، وحل المکاسب، وترد المظالم وتعمر الارض، وینتصف من الاعداء ویستقیم الامر، فانکروا بقلوبکم، والفظوا بالسنتکم، وصکّوا بھا جباھھم، ولا تخافوا فی الله لومة لائم۔۔۔“
”‌امر بالمعروف اور نھی عن المنکر انبیاء (علیھم السلام) کا راستہ اور صالحین کا طریقہ کارہے، یہ ایسا عظیم فریضہ ہے جس کے ذریعہ دوسرے تمام واجبات برپا هوتےہیں، ان دو واجبوں کے ذریعہ راستہ پُر امن، درآمد حلال اور ظلم و ستم دور هوتا ھے، ان کے ذریعہ زمین آباد هوتی ہے اور دشمنوں سے انتقام لیا جاتا ہے اور صحیح امور انجام پاتے ہیں، لہٰذا اگر تم کسی برائی کو دیکھو تو (پہلے) اس کا دل سے انکار کرو اور پھر اس انکار کو اپنی زبان پر لاؤ ، اور پھر اپنے ہاتھوں سے (برائیوں سے باز نہ آنے والے کے) منھ پر طمانچہ ماردو، اور راہ خدا میں کسی طرح کی سرزنش اور ملامت سے نہ گھبراؤ“
اسی طرح امام باقر علیہ السلام معاشرہ میں پھیلتی هوئی برائیوں کے سامنے خاموش رہنے والے افراد کو متنبہ کرتے هوئے فرماتے ہیں:
”‌اوحی الله تعالیٰ الی شعیب النبی(ع) اظنی لمعذب من قومک مائة الف: اربعین الفا من شرارھم، وستین الفاً من خیارھم، فقال یارب ھولاء الاشرار، فما بال الا خیار؟
فاوحی الله عزّ وجلّ الیہ: انھم داھنوا اھل المعاصی، ولم یغضبو الغضبی“۔
”‌خداوندعالم نے جناب شعیب نبی علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ میں تمہاری قوم کے ایک لاکھ آدمیوں پر عذاب نازل کروں گا، جس میں چالیس ہزار بُرے لوگ هوں گے، اور ساٹھ ہزار اچھے لوگ، یہ سن کر حضرت شعیب (علیہ السلام) نے خداوندعالم کی بارگاہ میں عرض کی: بُرے لوگوں کا حال تو معلوم ہیں لیکن اچھے لوگوں کو کس لئے عذاب فرمائے گا؟
خداوندعالم نے دوبارہ وحی نازل فرمائی کہ چونکہ وہ لوگ اہل معصیت اور گناہگاروں کے ساتھ سازش میں شریک رہے، اور میرے غضب سے غضبناک نھیں هوئے“۔
یعنی برے لوگوں کو برائی کرتے دیکھتے رہے اور ان خدا کے قہر و غضب سے نہ ڈرایا۔
تحریر: اقبال حیدر حیدری

Last modified on جمعه, 20 تیر 1393 17:22
Login to post comments