×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیعوں کا ایک عظیم ستارہ

تیر 20, 1393 517

ہمارے شیعہ معاشرے میں بہت سارے عظیم مفکر اور صاحب علم لوگ گزرے ہیں جو آج بھی ہمارے لئے سرمایۂ افتخار ہیں اور مذھب کے بارے میں

ان کی تحقیقات ہمارے لئے سند کی حیثیت رکھتی ہیں ۔  ماضی کی ان شخصیات میں ہر ایک کی اپنی خاص اہمیت تھی مگر ان سب میں شیخ مفید کو ایک اعلی مقام حاصل ہے جو اسے ہر لحاظ سے دوسروں سے ممتاز بنا دیتا ہے ۔ آپ کے والد محترم بغداد کے قریب " تل عکبری " میں پڑھاتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں نے شیخ مفید کو " ابن المعلم " کہنا شروع کر دیا ۔ اس کے بعد آپ کے والد نے آپ کی تعلیم کے لئے بغداد کا رخ کیا ۔ شیخ مفید بہت ہی قابل احترام انسان تھے اور دوست تو دوست دشمن بھی ان کی تعریف کیا کرتے تھے ۔
شیخ طوسی کی روایت کے مطابق حضرت شیخ مفید سن 338 ہجری میں پیدا ہوئے اور سن 413 میں رمضان کے آخری غشرے میں فوت ہوئے ۔ ان کی وفات کے دن لوگوں کی بہت بڑی تعداد دوست و دشمن سب نے ان کے جنازے میں شرکت کی ۔ (1)
حضرت مفید کے ایک دوسرے شاگرد بنام نجاشی جو کہ بغداد کے رہنے والے تھے ، اس نے بھی یہ حال دیکھا اور نجاشی لکھتے ہیں کہ
" شیخ مفید ماہ رمضان ختم ہونے سے تین راتیں پہلے سن 413 میں وفات پا گئے ۔ ان کی ولادت گیارہ ذی القعدہ سن 336 ہجری میں ہوئی ۔ شریف مرتضی ابوالقاسم علی بن الحسین (سید مرتضی) نے میدان "اشنان" میں ان کی نماز جنازہ ادا کی ۔ میدان اشنان لوگوں سے بھرا پڑا تھا ۔ مفید کو ان کے گھر میں دفن کیا گیا اور چند سال بعد انہیں " مقابر قریش " حضرت امام موسی بن جعفر علیھما السلام کے پہلو میں منتقل کر دیا گیا ۔ ان کی ولادت کے بارے میں ایک اور قول یہ ہے کہ ان کی ولادت سن 338 میں ہوئی تھی " (2)
جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ شیخ طوسی نے حضرت شیخ مفید کی ولادت سن 338 میں بتائی ہے اور نجاشی نے اپنی رجال میں جو کہ شیخ کی فہرست کے بعد تالیف ہوئی ، شیخ مفید کی ولادت سن 336 میں بتائی ہے ۔ اسی طرح شیخ طوسی نے اپنے استاد کی وفات ماہ رمضان اختتام پذیر ہونے سے دو راتیں قبل اور نجاشی نے ماہ رمضان اختتام پذیر ہونے سے تین راتیں قبل بیان کی ہے لیکن شیخ مفید کی وفات کا سال سن 413 ہجری  ہی بیان کیا گیا ہے ۔
اس طرح شیخ طوسی اور ابن ندیم کے قول کے مطابق رحلت کے وقت شیخ مفید کی عمر 75 سال تھی جبکہ نجاشی کے مطابق وفات کے وقت ان کی عمر 77 سال تھی ۔
شیخ مفید کی قبر امام موسی بن جعفر ، امام محمد تقی یعنی کاظمین علیھما السلام کے قریب واقع ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ شیعوں کا ایک عظیم فلسفی خواجہ نصیرالدین طوسی بھی یہیں دفن ہے ۔ ان سب بزرگان دین کی قبریں واضح ہیں اور زائرین کے لئے علامات واضح ہیں ۔
حوالہ جات :
1۔ فهرست شیخ، ص 158.
2۔ رجال نجاشی، ص 287

Login to post comments