×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیخ مفید شیعہ دانشمندوں کی نظر میں

تیر 20, 1393 579

آپ نے اپنی تصانیف میں شیخ مفید کی عظمت کا ذکر کیا ہے ۔ اپنی ایک تصنیف میں لکھتے ہیں کہ " محمد بن محمد بن نعمان ایک عظیم اور

قابل اعتبار دانشمند ہیں (1) اور کتاب کی فہرست میں لکھتے ہیں کہ محمد بن محمد بن نعمان ابوعبدالله مفید المعروف " ابن معلم " طائفہ امامیہ کے حق میں بات کرنے والے ہیں ۔ ان کے زمانے میں شیعوں کی علمی و دینی ریاست ان پر آ کر ختم ہوتی تھی ۔ فقہ و کلام میں وہ سب پر مقدم تھے ، ان کی سوچ بہت اچھی تھی ، عقل دقیق اور ایک حاضر جواب دانشمند تھے ۔ ان کی دو سو کے قریب چھوٹی بڑی کتابیں ہیں اور اس کی کتابوں کی فہرست معروف ہے "(2)
ان کا ایک شاگرد لکھتا ہے کہ " ہمارا استاد رضی الله عنه ہے ۔ ان کا فقہ ، کلام ۔ روایت و وثاقت و دانش میں مقام اس سے بھی اعلیٰ ہے جسے بیان کیا جاتا ہے ۔ پس شیخ طوسی کی طرح ان کی کتابوں کا نام لیا جاتا ہے ۔
ابن شهرآشوب
آپ نے شیخ مفید کے بارے میں کچھ یوں کہا ہے کہ
" شیخ مفید ، ابوعبدالله محمد بن نعمان حارثی بغدادی عكبری :۔۔۔۔۔ ابوجعفر ابن قولویه، و ابوالقاسم علی بن محمد رفاء، و علی بن ابی الجیش بلخی کے شاگرد تھے ۔ حضرت صاحب الزمان صلوات الله علیه نے انہیں " شیخ مفید " کا لقب دیا اور میں نے اس کی وجہ کتاب " مناقب آل ابی طالب "  میں بیان کی ہے ۔ وہ تقریبا دو سو کے قریب چھوٹی بڑی کتابوں کے مؤلف ہیں ۔ " (4)
علامه حلی نے شیخ مفید کے بارے میں بہتر اور روشن انداز میں بات کی اور لکھتے ہیں کہ " محمدبن محمدبن نعمان کا لقب " مفید " ہے ۔ ان کے اس نام (مفید ) کے رکھے جانے کے بارے میں ایک حکایت ہے جسے ہم نے اپنی بڑی کتاب رجال میں بیان کیا ہے ۔ مفید " ابی المعلم " کے نام سے بھی معروف تھے اور بڑے شیعہ مشائخ و رہنما اور ان کا استاد ہے ۔ ہمارے تمام دانشمند جو ان کے بعد آئے وہ ان کی دانش و عقل سے مستفید ہوتے رہے ۔ فقہ ، کلام و حدیث میں ان کا مرتبہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو بیان کیا جاتا ہے ۔ وہ اپنے زمانے کے دانا ترین اور قابل اعتبار ترین عالم تھے ۔ (5)
  حوالہ جات :
1۔ "رجال" شیخ طوسی، ص 514.
2۔ "فهرست" شیخ طوسی، ص 157.
4۔ معالم العلماء، ص 112.
5۔ "مجالس المومنین" جلد 1، ص 436.

Login to post comments