×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیخ مفید کا مرتبہ

تیر 21, 1393 383

حضرت امام زمانہ (عج) نے غیبت صغریٰ کے زمانے میں اسی طرح غیبت کبریٰ میں بھی بہت سے خطوط و توقیعات شیعوں اور بزرگان شیعہ

کے لئے تحریر فرمائی ہیں ، اسی طرح حضرت (عج) اپنے نمائندوں کو خطوط تحریر فرماتے تھے ، اور کبھی کبھی بعض افراد کو جواب لکھتے تھے ، البتہ افسوس ہے کہ ان خطوط و توقیعات میں سے کچھ ہی ہمارے ہاتھوں تک پہونچی ہیں ، لیکن جو عبارتیں شیخ مفید کے متعلق اس خط میں آئی ہیں وہ کسی دوسرے کے متعلق نہیں آئی ہیں شاید ان تمام خطوط میں جو حضرت نے تحریر فرمائے ہیں کسی کی اس حد تک تعریف و تائید نہیں فرمائی ہے ۔ جیسا کہ ایک دوسرے خط میں جو کہ حضرت (عج) کی جانب سے شیخ مفید کو پہونچا ہے ، تحریر فرمایا ہے کہ :
” ادام اللہ توفیقک لنصرۃ الحق و اجزل مثوبتک علیٰ نطقک عنا بالصدق “ اس خط کا لفظ لفظ مفصل بحث کا طالب ہے ، حضرت امام زمانہ (عج) نے شیخ مفید کے علاوہ کسی اور کے لئے اس انداز سے اخلاص کی شہادت نہیں دی ہے ، حضرت شیخ مفید سے فرماتے ہیں کہ : ” اللہ نصرت حق کے لئے تمہاری توفیق کو قائم و دائم رکھے ، اور جو کچھ ہم سے روایت کی ہے سچ کہا ہے ، خداوند تعالیٰ تمہاری باتوں کے سبب تمہارے ثواب کو زیادہ کرے “ ۔
ایک وقت ایک عام شخص کسی دوسرے کے صالح و نیک ہونے کی گواہی دیتا ہے ، اور ایک وقت امام معصوم ایسی گواہی دیتے ہیں اس بات کی قیمت و عظمت تمام دنیا کی قیمت و عظمت سے زیادہ ہے ، کیونکہ دنیا تمام ہوجائے گی لیکن یہ قیمت و عظمت تمام ہونے والی نہیں ہے ۔ شیخ مفید کے انتقال کو ہزار سال سے زیادہ ہوگئے لیکن روز بروز پہلے سے زیادہ زندہ ہوتے جارہے ہیں ۔ آپ علامہ اقبال کے اس شعر کے مصداق کامل تھے :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس مرتبہ و منزلت کے باوجود کوئی جگہ ایسی نہیں ملتی کہ شیخ مفید حضرت امام زمانہ (عج) کی خدمت با برکت میں پہونچے ہوں لیکن اپنے وظائف کو اسی طرح انجام دیتے تھے جیسا کہ امام چاہتے تھے اور اسی وجہ سے حضرت (عج) ان پر عنایت فرماتے تھے۔
شیخ مفید غیبت صغریٰ کے ختم ہونے کے بعد غیبت کبریٰ کے زمانہ میں پیدا ہوئے ہیں ، غیبت صغریٰ 327 ھ ق یا 329 ھ ق میں ختم ہوئی اور شیخ مفید 336 ھ ق یا 337 ھ ق میں پیدا ہوئے ہیں ، اور کسی وقت کوئی خط بھی حضرت امام زمانہ (عج) کو نہیں لکھا ہے بلکہ خود حضرت (عج) نے ایسا خط تحریر فرمایا ہے ، اور وہ بھی اس تفصیل کے ساتھ ایسا خط ، کہ جس سے یہ نتیجہ سمجھ میں آتا ہے کہ حضرت امام زمانہ (عج) شیخ مفید سے کلام و گفتگو کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ کتابوں میں نقل ہوا ہے اس کی بناپر حضرت (عج) نے تین خطوط شیخ مفید کو تحریر فرمائے ہیں کہ ان میں سے دو خط دستیاب ہیں ، اور گویا تیسرا خط ظاہرا کتب خانوں کے جلانے کے واقعہ میں ناپدید ہوگیا ہے۔

Login to post comments