×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

حضرت امام زمانہ (عج) کی نظر میں شیخ مفید کا مرتبہ

تیر 21, 1393 420

شیخ مفید کا مرتبہ و منزلت اس حد تک بلند ہے کہ حضرت ولی عصر (عج) آپ کی وفات پر مرثیہ پڑھتے ہیں : لا صوت الناعی بفقدک انہ یوم علیٰ آل

الرسول عظیم
یعنی تمہاری وفات کی مصیبت آل رسول (ص) کے لئے بہت بڑی مصیبت ہے ۔
آپ کے لئے اس سے بڑھ کر فخر کی بات کیا ہوسکتی ہے کہ حضرت امام مہدی (عج) آپ کو خطاب کرکے فرماتے ہیں :
” سلام علیک ایہا العبد الصالح الناصر للحق الداعی بکلمۃ الصدق “ سلام ہو تم پر اے خدا کے نیک بندے ، حق کی مدد کرنے والے اور راہ راست کی طرف دعوت دینے والے۔
شیخ مفید کا نمونہ
یہ جملے امام معصوم کی طرف سے ایک غیر معصوم شخص کے لئے بہت اہم ہیں ، شیخ مفید کیا کام کرتے تھے کہ حضرت امام زمانہ (عج) کی طرف سے ان جملون کے ساتھ توصیف کے لائق ہوگئے ؟ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اس خطبہ میں کہ جس کا ایک حصہ حضرت رسول اکرم (ص) کی تعریف و توصیف میں ہے ، اس بات کے بیان میں کہ حضرت رسول خدا (ص) کے آخری زمانہ حیات میں حالات کیسے پیدا ہوگئے کہ لوگ فوج در فوج دین اسلام میں داخل ہوگئے اور بقول قرآن ” و رایت الناس یدخلون فی دین اللہ افواجاً “ آپ نے دیکھا کہ لوگ دین خدا میں فوج در فوج داخل ہورہے ہیں ، ارشاد فرماتے ہیں :
”‌ وثقوا بالقائد فاتّبعوہ “ یعنی لوگوں نے پیغمبر اسلام (ص) پر اعتماد و اطمینان پیدا کرلیا پس ان کی پیروی کی ۔
شیخ مفید نے اس نکتہ کو درک کیا تھا اور ایسا کام کیا کہ لوگ ان پر اعتماد و اطمینان پیدا کریں ، جو لوگ ، لوگوں کی ہدایت کرنا چاہتے ہیں انہیں اس نکتہ سے غافل نہ ہونا چاہئے اور دوسروں کے لئے قابل اعتماد و اطمینان ہونا چاہئے ۔
شیخ مفید اور امام زمانہ (عج) کا خط دریافت کرنا
سید بحر العلوم اس بحث کے ضمن میں کہ شیخ مفید نے حضرت امام زمانہ (عج) کو نہیں دیکھا تھا اور اس زمانے میں کوئی نائب بھی نہ تھا کہ یہ خط اس کے واسطے سے شیخ مفید کے ہاتھ میں پہونچے پس یہ خط کیسے شیخ مفید کے ہاتھ میں پہونچا ہے ؟ کہتے ہیں :
”‌چونکہ خط دریافت کرنے کا زمانہ غیبت کبریٰ کا زمانہ تھا ، اور طے نہیں تھا کہ اس زمانہ میں کوئی شخص واسطہ اور خاص نائب کے عنوان سے حضرت امام زمانہ (عج) کی خدمت میں پہونچے اور جس شخص نے خط شیخ مفید کو دیا ہے اس نے بھی نہیں کہا کہ امام زمانہ (عج) نے یہ خط مجھے دیا ہے ، ان تمام اوضاع و احوال کے ساتھ شیخ مفید کا مرتبہ باعث ہوا کہ یہ استثناء ( فضیلت ) انہیں کے بارے میں صورت پذیر ہو “ ۔
خلاصہ یہ کہ شیخ مفید امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد کے بموجب حضرت رسول اکرم (ص) کے وصف کے حامل تھے ، وہ یہ کہ ” آپ سچے اور امین و معتمد تھے “
ایک سنی عالم جو کہ شیخ مفید سے بہت خار رکھتا تھا ، کہتا ہے کہ:
با وجودیکہ شیخ مفید کا مرتبہ اتنا بلند تھا کہ بادشاہ ، تاجر افراد اور مختلف شخصیتیں ان کے سامنے تواضع کرتی تھیں اور ان کے دیدار کی کوشش کرتی تھیں ، پھر بھی ”‌کان یلبس الخشن “ شیخ مفید ہمیشہ خشن اور موٹے لباس زیب تن کرتے تھے ۔ مشہور ہے کہ جملہ فعلیہ استمرار میں ظہور رکھتا ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک بار یا دوبار دکھاوے کے طور پر موٹے لباس پہن لیں ، بلکہ وہ ہمیشہ ایسا ہی پہنتے تھے ۔

Login to post comments