×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شیخ مفید کا وظیفہ انجام دینا

تیر 21, 1393 456

مرحوم آیت اللہ نجفی مرعشی رحمۃ اللہ علیہ جو کہ ایک محقق عالم تھے، فرماتے تھے کہ: ” شیخ مفید نے خود کو مباحثہ و مناظرہ کے لئے

وقف کر رکھا تھا اور مختلف مناظرے دوسرے تمام ادیان و مذاہب کے علماء سے انجام دیتے تھے ، یہاں تک کہ ایک بار ایک گروہ مناظرہ کے لئے آیا اور شیخ مفید سے وقت مانگا ، شیخ مفید نے فرمایا : ”‌میرے پاس وقت نہیں ہے “ ۔ ان لوگوں نے کہا: اے شیخ ! ہم بڑی دور سے آئے ہیں اور واپس جانا چاہتے ہیں ، شیخ مفید نے تھوڑاسا سوچ کر کہا : ” میرے پاس صرف صبح کی اذان سے پہلے دوگھنٹے وقت ہے اور اس وقت جتنے دن بھی چاہو آسکتے ہو ، ان لوگوں نے بھی کہا کہ کوئی چارہ نہیں ہے ، دن میں سوئیں گے اور رات میں مناظرے کے لئے آئیں گے ۔
کیا شیخ مفید سوتے نہ تھے ؟
آپ کے حالات میں لکھا ہے کہ آپ کی مجلس درس میں ابو العلاء معرّی ( جو کہ اہل سنت کے علماء میں سے ہے ) سے لیکر صوفیوں تک شرکت کرتے تھے آپ اس قدر حضور ذہن اور حاضر جوابی کے مالک تھے کہ خاص و عام کے لئے ضرب المثل تھے ، کسی وقت جلسہ درس میں کتاب سے شاہد و دلیل نہ لاتے تھے اور کبھی کبھی جو لغوی استدلالات آپ سے نقل ہوئے ہیں کسی لغوی کتاب میں پائے نہیں جاتے ۔ خلاصہ یہ کہ اپنی عمر اہل بیت (ع) کے نقش قدم پر گزاری اور آیہ ”‌ یہدون بامرنا “ (12) یعنی ”‌ وہ لوگ ہماری طرف ہدایت کرتے ہیں “ کا نمونہ عمل تھے ، اور ائمہ علیہم السلام کی تمام روایتیں بھی اسی محور ” یھدون “ ( ہدایت بسوئے حق ) کے اردگرد گھومتی ہیں ۔
عالم کی فضیلت عابد پر
ایک روایت معاویہ بن عمار سے نقل ہوئی ہے کہ :
”‌قلت لابی عبد اللہ علیہ السلام رجل راویۃ لحدیثکم یبث ذالک فی الناس و یشدہ فی قلوبھم و قلوب شیعتکم و لعلّ عابداً من شیعتکم لیست لہ ہٰذہ الراویۃ ایھا افضل قال الرّاویۃ لحدیثنا یشدّ بہ قلوب شیعتنا افضل من الف عابد “ (13) راوی نے امام علیہ السلام سے عرض کیا :
”‌آیا جو عابد حضرات اہل بیت علیہم السلام سے روایت نہیں کرتا ( آپ حضرات کی روایتیں نقل کرنے کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت نہیں کرتا ) وہ افضل و برتر ہے یا جو آپ حضرات کی روایات کو نقل کرتا ہے اور اس کے ذریعہ آپ کے شیعوں کے قلوب و عقائد کو محکم و مضبوط کرتا ہے ؟ حضرت نے فرمایا کہ ہماری احادیث کا راوی ہزار عابد سے افضل و برتر ہے “ ۔
یہ روایت معاویہ بن عمار سے نقل ہوئی ہے جو کہ زرارہ اور محمد بن مسلم کے مانند اصحاب ائمہ علیہم السلام کے بزرگوں میں سے اوثقات میں سے ہیں ۔
حضرت امام زمانہ (عج) شیعوں سے چاہتے ہیں کہ لوگوں کی ہدایت کے لئے کوشش کریں ، البتہ اس کام کے چند مقدمات ہیں جن میں سے ایک حسن معاشرت ( سماج کے ساتھ اچھا برتاؤ ) اور زیادہ علم کا ہونا ہے ۔ اور پختہ ارادہ رکھیں کہ دوست و دشمن کے ساتھ نرمی و مداوا کریں ۔
ان خطوط میں کئی مرتبہ حضرت امام زمانہ (عج) نے لفظ ” صدق “ ( سچ ) شیخ مفید کو خطاب کرکے استعمال کیا ہے ، وہ ایک ایسا لفظ ہے کہ ہم جیسوں پر صادق آنے کے لئے کئی سال گزر جاتے ہیں ۔
اگر ” میں “ یعنی غرور ختم ہوگیا اور ملاک و معیار ” یہدون بامرنا “ ( ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں ) رہا تو پھر خشن اور غیر خشن لباس ، لذیذ اور سادہ غذا انسان کے لئے کوئی فرق نہیں رکھتا ، واقعاً شیخ مفید ہونا بہت مشکل ہے۔
شیخ مفید یہ سوچتے تھے کہ حضرت امام زمانہ (عج) ان سے کیا چاہتے ہیں اور اس کو انجام دیا۔
آج علماء پر وثوق و اعتماد حاصل نہ ہونے کے سبب بہت سے یہودی اور عیسائی ہیں ، یا یہ کہ شیعہ ہیں لیکن غفلت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔
عالم اگر ثقہ و معتمد ہو تو لوگوں کو فوج در فوج دین خدا میں داخل کرسکتا ہے لیکن ( انسان اس قدر بے معتبر ہوجائے ) یہاں تک کہ اس کے بیوی بچے بھی اس پر اطمینان نہ رکھتے ہوں تو کوئی کام انجام نہیں دے سکتا ۔
اب ہم سب کو چاہئے کہ حضرت ولی عصر (عج) کی ولادت باسعادت کی مناسبت سے یہ دو کام انجام دینے کی کوشش کریں :
1۔ حضرت امام زمانہ (عج) سے عہد باندھیں کہ ہم ایسے ہوں ۔
2۔ خود حضرت امام زمانہ (عج) سے مدد طلب کریں کہ حضرت (عج) ہمارے لئے دعا کریں اور ہماری کمک فرمائیں کہ ہم ایسے ہی بنیں۔
اور ان کی بنیاد تین چیزیں ہیں :
1۔ بہت زیادہ تعلیم و تعلم ، اور ہم جانتے ہیں کہ اس مہینے ( ماہ شعبان ) کے بعد ماہ مبارک رمضان ، ماہ عبادت ہے اور سب سے زیادہ بڑی عبادت تعلیم و تعلم ہے۔
2۔ انسان کو چاہئے کہ اس ” میں ہونے “ یعنی غرور و انانیت پر خط کھینچ دے اور اسے ترک کردے۔
3۔ ہم کوشش کریں کہ حدیث کے ” راویۃ “ ہوں ، وہ راویہ جو کہ ” یشد بہ قلوب شیعتنا “ کا مصداق ہو ، یعنی جو راویت حدیث کے ذریعہ ہمارے شیعوں کے قلوب و عقائد کو محکم کرے ۔ ”‌الرّاویۃ “ کی تاء ، تاءِ مبالغہ ہے یعنی بہت زیادہ روایت کرنے والا۔
میں دعا کرتا ہوں کہ حضرت ولی عصر (عج) کی برکت سے خداوند تعالیٰ ہم سب پر لطف فرمائے اور ہم سب کو ان تین کاموں کے انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے ۔ ( آمین )
و صلی اللہ علیٰ سیدنا محمد و آلہ الطاہرین

Login to post comments