×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اسارائے اہل بیت کی دمشق میں آمد

تیر 21, 1393 628

صبر و استقلال اور عزم و ہمت کی تاریخ رقم کرنے کے ساتھ ساتھ لشکر یزیدی کے بے حد و انتہا ظلم و جور کو آزمائش خداوندی تسلیم

کرتے ہوئے یہ کاروان حسینی، جو کہ اب کرب و بلا کی شیر دل خاتون کی قیادت میں آکر کاروان زینبی کی شکل اختیارکرچکا تھا ، شہر شام میں داخل ہوا۔ کرب و بلا سے لے کر کوفہ اور کوفہ سے لے کر شام تک اس قافلہ پر کیا کیا مصائب و آلام ڈھائے گئے ؟ اس کارواں کو کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ؟ ظلم و بربریت کے پہاڑ کس قدر توڑے گئے؟ تشدد و حیوانیت کی کیا کیا مثالیں قائم کی گئیں ؟ اور اس بے یار و مددگار اور مظلوم و مقہور قافلہ کے افراد نے کس کمال پامردی اور حوصلہ کے ساتھ ان کا سامنا کیا ؟ یہ تمام واقعات و حالات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ کربلا سے لے کر کوفہ اور کوفہ سے لے کر شام تک کے راستہ میں بہت سے چھوٹے چھوٹے مزارات شہداء، جن کی وجہ سے وہاں شہر آباد ہو چکے ہیں، ان سوالات کے واضح جواب لئے ہوئے ہیں اور ارباب سیر و مقاتل نے نہایت صراحت و وضاحت کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔
مختصراً شام کے لوگوں نے اسلامی دستور اور تعلیمات کو خالد بن ولید، معاویہ، زیاد اور ان جیسے افراد کی رفتار و کردار کے آئینے میں دیکھا تھا۔ انہیں سیرت پیغمبر (ص)  اور مہاجرین و انصار کے طرز عمل کا کچھ پتہ نہ تھا۔ 61 ہجری میں شام میں چند افراد تھے جن کی عمریں ساٹھ سال سے اوپر تھیں۔ ان کی ترجیح یہی تھی کہ وہ ایک کونے میں بیٹھ جائیں اور جو کچھ ہو رہا ہے، اس سے آنکھیں بند کر لیں۔ شام کے لوگ یہ بات سننے پر آمادہ نہ تھے کہ حضرت محمد (ص) کے رشتہ دار اور قریبی بنی امیہ کے علاوہ کوئی اور بھی ہیں۔
اکثر مقتل کی کتب میں یہ لکھا ہے کہ اسیروں کے شہر دمشق میں داخل ہونے کے موقع پر لوگوں نے شہر کو سجایا ہوا تھا۔ یزید نے اپنے دربار میں یہ اشعار پڑھے :
کاش ! آج میرے جنگ بدر میں مارے جانے والے بزرگ موجود ہوتے تو دیکھتے کہ میں نے کس طرح محمد (ص) کی آل سے ان کا انتقام لیا ہے۔
کیونکہ اس دن یزید کی مجلس میں اس کے اردگرد ایسے افراد بیٹھے تھے کہ جنہوں نے اسلام اور پیغمبر (ص) کو اقتدار و حکومت تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا ہوا تھا نہ کہ قربتِ خدا کا ذریعہ۔
آپ ملاحظہ فرمائیں کہ دونوں محفلیں ایک طرح کی ہیں اور باتیں بھی ایک جیسی ہیں۔ کوفے میں ابن زیاد بھی خوشی سے پھولا نہیں سماتا تھا کہ اس نے اپنا فرض پورا کر دیا ہے اور عراقیوں کے ہاتھوں سے ان کی قوت چھین لی ہے۔ شام میں یزید افتخار کر رہا ہے کہ جنگ بدر میں اس کے مقتول بزرگوں کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ اگر یہ معاملہ یہیں پر ختم ہو جاتا ہو تو کامیاب تھا، لیکن جناب زینب نے اسے اس کی کامیابی کا پھل کھانے نہ دیا۔وہ جسے اپنے لئے شیریں سمجھ رہا تھا جنابِ زینب عالیہ نے اس کا مزہ حد سے زیادہ کڑوا کر دیا اور اس کے لئے تلخ بنا دیا۔جناب زینب نے پابرہنہ اور بے مقنعہ و چادر اپنی مختصر گفتگو میں اہل مجلس کو سمجھا دیا کہ ان پر حکومت کرنے والا کون ہے اور کس کے نام پر حکومت کر رہا ہے۔ اور رسیوں میں جکڑے اس کے سامنے کھڑے قیدی کون ہیں۔
جب کبھی غیرتِ انساں کا سوال آتا ہے
بنت ِ زہرا تیرے پردے کا خیال آتا ہے

Login to post comments