×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عقیدے کے اصولوں پر غور کرنا واجب ہے

تیر 21, 1393 400

ہمارا عقیدہ ہے کہ خدا نے ہمیں سوچنے کی قوت اور عقل کی طاقت دے کر ہم پر لازم کر دیا ہے کہ ہم اس کی مخلوقات کے متعلق سوچیں،

بڑے غور سے اس کی خلفت کی نشانیاں دیکھیں اور دنیا کی پیدائش اور اپنے جسم کی بناوٹ میں اس کی حکمت اور تدبیر کی پختگی کا گہرا مطالعہ کریں۔ جیسا کہ خداوند عالم قرآن مجید میں فرماتا ہے۔ سَنُرِیھِم اٰیٰتِنَا فِی الاٰفَاقِ وَفِی اَنفُسِھِم حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَھُم اَنَّہُ الحَقُّ
ہم بہت جلد دنیا کی اور ان (انسانوں ) کی پیدائش میں اپنی عظمت کی نشانیاں دکھائیں گے تاکہ ان پر یہ ظاہر ہوجائے کہ خدا ہی حق ہے۔ (سورہ حَم سجدہ ۔ آیت 53 کا جزو)
ایک اور مقام پر خدا ان لوگوں کو جو اپنے بزرگوں اور پرکھوں کی پیروی کرتے ہیں
ملامت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
قَالُوا بَل نَتَّبِعُ مَااَلفَینَا عَلَیہِ اٰبَاءَنَااَوَلَوکَانَ اٰبَاۆُھُم لاَ یَعقِلُونَ شَیئًا۔۔۔
انہوں نے کہا ، ہم اس طریقے پر چلتے ہیں جس پر ہم نے اپنے بزرگوں کو دیکھا ہے ۔ تو کیا ان کے بزرگ کچھ بھی یہ سمجھتے ہوں پھر بھی (وہ پیروی کے لائق ہیں)؟ (سورہ بقرہ ۔ آیت 170 کا جزو)
اسی طرح خدا ایک دوسرے مقام پر ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو اپنے گمان اور مبہم اندازوں پر چلتے ہیں : اِن یَّتَبِعُونَ اِلَّاالظَّنَّ۔
(گمراہ اور مشرک لوگ) صرف گمان پر چلتے ہیں۔ (سورہ انعام ۔ آیت 117 کا جزو)
حقیقت میں ہمارا یہ عقیدہ ہماری عقل کا حکم ہے جو ہم سے یہ چاہتی ہے کہ ہم اس پیدا ہونے والی دنیا کے متعلق سوچیں اور اس راستے سے خالق کو پہچانیں۔ اسی طرح وہ ہمیں حکم دیتی ہے کہ ہم اس شخص کی دعوت پر غور کریں جو پیغمبر کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے معجزوں کا مطالعہ کریں۔ ان باتوں میں ہمارے لیے دوسرو کی پیروی مناسب نہیں چاہے وہ کتنے ہی اونچے مرتبے کے مالک ہوں۔
قرآن میں علم و معرفت کی پیروی اور غور و فکر کے متعلق جو ترغیب دلائی گئی ہے وہ حقیقت میں سوچ بچار کی اس پختگی اور آزادی کا بیان ہے جس پر تمام عقلمند لوگ متفق ہیں۔ در حقیقت قرآن مجید حقیقتوں کو پہچاننے اور ان کو سمجھنے کی اسی قدرتی صلاحیت سے ہماری روحو کو آگاہ کرتا ہے اور ذہنوں کو تحریک دے کر عقل کے فکری تقاضوں کی طرف ان کی رہنمائی کرتا ہے اس لیے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ انسانی اعتقادی معاملات میں بے پروا رہے اور اپنے لیے کسی ایک راستے کا انتخاب نہ کرے یا اپنے تربیت دینے والوں کی یا ہر شخص کی پیروی کرنے لگے بلکہ عقل کی فطری آواز کے مطابق جس کی تائید قرآن مجید کی واضح آیتوں سے بھی ہوتی ہے، اس پر واجب ہے کہ وہ سوچے سمجھے اور عقیدوں (1) کے اصول کا جنہیں اصول دین کہتے ہیں بہت دھیا سے مطالعہ کرے۔ ان میں سب اہم توحید (2) ، نبوت، امامت اور قیامت ہیں۔
جس شخص نے ان اصولوں میں اپنے بزرگوں یا دوسرے لوگوں کی پیروی کی ہے وہ یقیناً غلطی کر بیٹھا ہے اور سیدھے راستے سے بھٹک گیا ہے اسے ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا۔
اس معاملے میں ہمارے عقیدے کا خلاصہ صرف دو باتیں ہیں:
1:۔ اصول دین کے پہچاننے میں خود تفکر و تدبر کرنا ضروری ہے۔ اس بارے میں کسی شخص کے لیے بھی دوسروں کی پیروی جائز نہیں ہے۔
2:۔ غور و فکر کے ذریعے سے اصول دین کی پہچان۔۔۔۔۔ حکم شروع سے بھی پہلے ۔۔۔۔ عقل کے حکم کے مطابق واجب ہے، زیادہ صاف الفاظ میں یوں کہیے کہ اگرچہ تحریریں اور روایتیں عقلی دلیل کی تائید کرتی ہیں مگر اصول دین کی پہچان کو واجب ثابت کرنے کے لیے ہم دینی کتابوں اور روایتوں کو دلیل کے طور پر پیش نہیں کرتے۔
اصول دین کی پہچان کو عقل کی رو سے واجب کہنے کے معنی یہ ہیں کہ عقل اصول دین کی پہچان کی ضرورت اور اس معاملے میں سوچ و بچار اور غور و خوض کی ضرورت صاف صاف سمجھ لیتی ہے۔
حوالہ جات:
(1) جو کچھ اس کتاب می مذکور ہے ۔ یعنی اصول عقائد ۔ متذکرہ بالامنعوں میں نہیں ہے، بعض عقائد جو اس کتاب میں موجود ہیں مثلاً قضا و قدر اور رجعت وغیرہ ، ان امور میں فکر اور عقلی تحقیق ضروری نہیں ہے بلکہ یہ جائز ہے کہ ایسے علماء کی پیروی کی جائے جو اس قسم کے اعتقادات رسول  (ص)  اور اہلبیت رسول (ص)  کی صحیح روایات سے سمجھ کر ہمیں بتائیں۔
(2) عدالت چونکہ خدائے حکیم سے جدا نہ ہونے والی ایک صفت ہے اس لیے مصنف نے یہاں اس کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کا بیان صرف تقابلی مطالعے کے وقت ضروری ہوتا ہے

Login to post comments