×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

خدا كی بارگاہ میں مناجات كا فلسفہ

تیر 21, 1393 427

خدا كی بارگاہ میں مناجات كا كیا فلسفہ ہے؟ دعا اور مناجات بہت ہی قیمتی سرمایہ اور اسلام اورقرآن كے مسلم حقائق میں سے ہے كہ

جس كے صحیح طریقے سے استفادہ كرنے سے روح و جسم كی پرورش ہوتی ہے۔ الكسیس كارل (مشہور انسان شناس) كہتا ہے: ""كوئی بھی اور قوم نابود نہیں ہوئی مگر اس نے دعا كو ترك كیا ہواور اپنے آپ كو موت كیلئے تیار كیا ہو"" (یعنی جس قوم نے بھی دعا كو ترك كیا ہو اس كا زوال اور نابودی قطعی اور یقینی ہے) دعا انسان كی روح اور فطرت پر بہت ہی عمیق اور گہرے آثار مترتب كرتی ہے اور اس كی اس طرح تربیت كرتی ہے كہ اس معاشرے، ماحول اور وراثت كو وہ اپنے لئے محدود سمجھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے كہ اگر دعا ومناجات كرنے والا تمام شرائط كے ساتھ دعا مانگے تو وہ جو كچھ بھی طلب كرے اسے مل سكتا ہے اور جس دروازے كو بھی كھٹكھٹائے وہ اس پر كھل جاتاہے"" 1
مناجات، كمال، سعادت، مقام اور حیثیت كیلئے درخواست ہے بلكہ یہ ایك ایسی چیز ہے جو دعا كرنے والے كی لیاقت اور شائستگی سے حاصل ہوتی ہے اور دعا ومناجات كی تكرار ایسا شیوہ اور فریاد ہے كہ جس سے انسان كے روح پہ اثر ہوتا ہے اور اس كے وجود میں امید، عشق اور محبت كی قوت و طاقت پیدا ہوتی ہے جو اسے ہدف كو پانے اور اس تك پہنچانے كیلئے حركت میں لاتی ہے۔
جو انسان یہ درك كرلے اور جان لے كہ جو كچھ اس كے پاس ہے، اس كیلئے كافی نہیں ہے اور اسے قانع نہیں كرسكتا، دعا كرتا ہے تا كہ جو اس كچھ اس كے پاس ہونا چاہیے اسے مل جائے اور جیسا اسے ہونا چاہیے، اس مقام تك پہنچ جائے۔ ایسا ہی انسان ہمیشہ ایك بہتر مستقبل اور آئیڈیل كیلئے تمنا كرتا ہے اور اس تك پہنچنے كیلئے دعا كرتا ہے۔ یہ ہے دعا اور اس كے فلفسہ كے بارے میں مختصر سا خلاصہ، اب ہم تفصیل سے اس كے بارے میں گفتگو كریں گے۔
دعا كا مفہوم
لغت میں دعا، بلانے، سوال كرنے، كسی كو پكارنے اور كسی چیز كو كسی چاہنے یا مانگنے كو كہا جاتا ہے۔ 2
اصطلاح میں دعا یعنی خدا وند متعال سے اس كے فضل وعنایت كی درخواست اور اسی سے مدد مانگنا اور سرانجام اس كی بارگاہ میں نیازمندی اور عجز وانكساری كا اظہار كرنا اور انسان كے خالق كائنات سے معنوی رابطہ اور مناجات كا نام دعا ہے۔
قرآن اور مناجات
قرآن بعض آیات میں صریح طور پہ دعا اور مناجات كی دعوت دیتا ہے اور اجابت كا وعدہ بھی كرتا ہے۔ خدا وند متعال فرماتا ہے: ""واذا سئالك عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان فلیستجیبوا لی۔۔۔"" (بقرۃ:186) اور جب میرا بندہ تجھ سے میری دوری اور نزدیكی كے بارے میں سوال كرے تو جان لیں كہ میں ان سے نزدیك ہوں جو بھی مجھے پكارے میں اس كی دعا كو مستجاب كروں گا۔
دوسری جگہ دعا كے بارے میں امر كرتے ہوئے فرماتا ہے: ""ادعونی اسستجب لكم ان الذین یستكبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم داخرین"" (غافر:62) تمھارے پروردگار نے فرمایا كہ مجھے پكارو تاكہ میں تمھاری دعا مستجاب كروں اور وہ لوگ جو مجھ سے دعا اور میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں اور بغاوت كرتے ہیں بہت ہی جلد ذلت كے ساتھ جہنم میں ہوں گے۔
روایات اور مناجات
1۔ امام باقر(ع) سے پوچھا گیا: كون سی عبادت افضل ہے؟ حضرت نے فرمایا: كوئی بھی چیز خدا كے نزدیك اس سے بڑھ كر نہیں ہے كہ اس كی ذات پاك سے مانگا جائے اور دعا كی جائے اور جو كچھ اس كے پاس ہے طلب كیا جائے، اور جوانسان اس كی عبادت ودعا میں تكبر كرے اور نہ مانگے تو اس سے بڑھ كر كوئی بھی چیز اس كے پاس مبغوض نہیں ہے۔ 3
2۔ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: عاجز ترین انسان وہ لوگ ہیں جو دعا نہ كرتے ہوں اور اس سے محروم ہوں۔ 4
3۔ امام علی (ع) فرماتے ہیں: خدا كے نزدیك سب سے محبوب اور پسندیدہ عمل دعا اور مناجات ہے۔ 5
حوالہ جات:
1. الكسیس كارل: نیایش.
2. قاموس المحیط، مادہ دعا.
3. كافی: ج2، ص267.
4. عدۃ الداعی: ص24.
5. كافی: ج2، ص267.

Login to post comments