×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

محافظ کربلا امام سجاد علیہ السلام

تیر 21, 1393 406

تاریخ کے صفحات پر ایسے سرفروشوں کی کمی نہیں جن کے جسم کو تو وقت کے ظالموں اور جلادوں نے قیدی تو کردیا لیکن ان کی عظیم روح،

ان کے ضمیرکو وہ قیدی بنانے سے عاجز رہے، ایسے فولادی انسان جو زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی اپنی آزاد روح کی وجہ سے وقت کے فرعون و شداد کو للکارتے رہے، تلواروں نے ان کے سر، جسم سے جدا تو کردئیے لیکن لیکن ایک لمحہ کے لئے بھی ان کی روح کو تسخیر نہ کرسکے، ایسے انسان جن کی آزادروح، آزادضمیر، اور آزادفکر کے سامنے تیزوتند اسلحے بھی ناکارہ ثابت ہوئے … جب ان کی زبانیں کاٹی گئیں توان لوگوں نے نوک قلم سے مقابلہ کیا اور جب ہاتھ کاٹ دئیے گئے اپنے خون کے قطروں سے باطل کو للکارا جب وقت کے فرعون جن کی ہر زمانیں میں شکلیں بدلتی ہوتی ہیں اور مقصد ایک ہوتا ہے ان کو یوں ڈراتے ہیں کہ ”‌اآمنتم لہ قبل ان آذن لکم… فلاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ولاصلبنکم“ (سورہ طہ71) ہماری سرپرستی قبول نہ کرنے کی سزا کے طور پر تمہارے ہاتھ پیرکاٹے جائیں گے اور پھانسی کا پھندا تمہارے لیے آمادہ ہے تو  تاریخ کے تسلسل میں ان سر فروشوں کا جواب ایک ہی رہا کہ ”‌فاقض ماانت قاض“ (طہ72) تم وقت کے فرعون جو کچھ کرنا چاہو کرو، لیکن ہماری روح کو قیدکرنا تمہارے بس کی بات نہیں، تم موت کی دھمکی دیتے ہو اور ہم اسی موت کو اپنی کامیابی تمہاری شکست سمجھتے ہیں۔
کاٹی زبان توزخم گلوبولنے لگا
چپ ہوگیا قلم تو لہو بولنے لگا
شہادت حسین (ع) کے بعد بھی خاندان نبی کو اسیر کرکے کوفہ لے جایاگیا تو یزید نے امام سجاد (ع) اور دیگر افراد کو زنجیروں اور ہتھکڑیوں میں ضرور جکڑا، ان پر مصائب کے پہاڑ توڑے لیکن یزید اور یزیدیت کے سامنے سر تسلیم نہ کر سکے، ان کی روح و ضمیر کو قید نہ کر سکے، یزید اسیروں سے یہ توقع رکھتا تھا کہ اب ان میں احساس ندامت ہوگا وہ شہیدوں کی طرح بیعت ٹھکرائیں گے نہیں بلکہ معافی طلب کے کے بیعت پرآمادہ ہوں گے، لیکن جوں جوں زنجیروں میں جکڑے ہوئے آزاد انسانوں کا یہ قافلہ آگے بڑھتا گیا یزید کی شکست اور حسین کی کامیابی کے آثا رروشن ہوتے گئے، حالات یزید کی منشاء کے مطابق نہیں امام حسین کی طرف سے ترتیب دئے گئے پروگرام کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے، قافلہ کی باگ ڈور ابن زیاد کے ہاتھ میں نہیں، امام سجاد (ع) کے ہاتھوں میں تھی، حسین (ع) کی اسیر بہن اور بیٹے کا حالات پر پورا کنٹرول تھا، وہ اپنی روحانی طاقت و شجاعت کی بنیاد پر اپنی روحانی آزادی و حریت کی بنیاد پر یزیدیت کا دائرہ حیات تنگ کرتے جا رہے تھے۔
تحریر: غلام حسین متو

Login to post comments