×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

علم قرات قرآن علوم اسلامی میں سے قدیم ترین علم ہے

تیر 25, 1393 780

اس علم کی پیدائش نزول قرآن کے ساتھ ہوئی ۔ نزول قرآن کا وقت قرات میں کوئی اختلاف موجود نہیں تھا۔ یہ اختلاف راویوں کے اجتہاد کے سبب

پیدا ہوا۔ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں "القرآن واحد نزل من واحد ولکن الاختلاف یجی من قبل الرواة“ قرآن ایک ہے اور ایک خدا کی طرف سے ناز ل ہوا ہے لیکن اختلاف قرات، راویوں کی طرف سے ہے۔
قرات قرآن میں اختلاف کا بنیادی سبب صدر اسلام کے رسم الخط میں نقطہ، حرکت، علامت اور شد و جزم کا نہ ہونا ہے۔ چونکہ اس زمانے میں عربوں کے نزدیک رسم الخط ابتدائی مرحلہ طے کر رہا تھا لہٰذا عرب خط کے فنون و رسوم سے آشنا نہ تھے۔
اس بنیاد پر اکثر اوقات ایک کلمہ اپنے اصلی تلفظ کے خلاف لکھا جاتا تھا اور تمام حروف نقطوں کے بغیر لکھے جاتے تھے مثلا سین اور شین کے درمیان کتابت میں فرق نہیں ہوتا تھا لہٰذا یہ پڑھنے والے پر موقوف تھا کہ وہ شواہد کی بنا پر تشخیص دے کہ یہ حر ف سین ہے یا شین، تاء ہے یا ثاء۔ علاوہ از این قرآن مجید کے کلمات حرکات سے خالی تھے۔
ان حروف پر کوئی علامت نہیں لکھی جاتی تھی لہٰذا قاری کلمہ کے وزن اور حرکت کے بارے میں مشکل میں پڑجاتے تھے مثلا قاری نہیں جانتا تھا کہ کلمہ "اعلم “ فعل امر ہے یا فعل مضارع متکلم کا صیغہ ہے اس اختلاف کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عربی رسم الخط سریانی زبان سے لیا گیا تھا۔ اور سریانی زبان میں کلمہ کے درمیان الف نہیں ہوتا اسی لئے کوفی رسم الخط مین کلمات کے درمیان الف ممدودہ نہیں لکھتے تھے۔ ان کے علاوہ ایک اور سبب عرب قبائل کے درمیان لہجہ کا اختلاف تھا مثلا عرب قبائل میں سے بعض نسب العین کو نون کی فتح کے ساتھ اور بعض نون کے کسرہ کے ساتھ تلاوت کرتے تھے۔ اس بنا پر مختلف شہروں میں قرائت قرآن میں اختلاف ایک فطری امر تھا ۔ پھر اسلامی مملکت کی سرحدیں بڑھتی چلی گئیں۔ اسلامی فتوحات کے دوران اسلامی مراکز میں سے ہر ایک نے کسی ایک مورد اعتماد قاری کی قرائت کو قبول کرلیا ۔ نتیجہ کے طور پر پچاس سے زیادہ قرئتیں وجود میں آگئیں۔ جن میں سے بعد میں سات معروف ہوگئیں۔
سب سے پہلے جس شخص نے علم قرائت پرکتاب لکھی امام سجاد علیہ السلام کے شاگرد ابان بن تغلب تھے۔ پھر تیسری صدی ہجری میں ابوبکر بن احمد مجاہد نے بغداد میں قیام کیا اور علم قرائت کے تمام علماء، مکہ، کوفہ، بصرہ و شام سے ان سات قاریوں کا انتخاب کیا۔
جو قراء سبعہ کے نام سے مشہور ہیں۔ البتہ واضح رہے کہ قرآن مجید میں مادہ الفاظ کے لحاظ سے تواتر ثابت ہے۔ اور قرآن کے الفاظ و کلمات میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا اتفاق نظر ہے۔ اختلاف فقط بعض کلمات کی تلاوت کے طریقوں کے بارے میں ہے کہ یہ اختلاف بہت جزئی ہے اور اس سے ایات قرآن کے اصل معنی پر لطمہ وارد نہیں ہوتا ۔ یہاں پر ایک وضاحت ضروری ہے کہ قرائت قرآن کی اکثر کتابوں میں حدیث "ان القرآن نزل علی سبعة احرف“ سے استنباط کیا گیا ہے کہ قرآن انھیں سات قرائتوں میں ناز ل ہوا ہے۔ حالانکہ یہ بات شیعہ نقطہ نظر سے باطل ہے اور ائمہ معصومین (ع) نے اس کی صریحا نفی کی ہے فضیل بن یسا سے روایت ہے "قلت لابی عبد اللہ ان الناس یقولون ان القرآن نزل علی سبعة احرف ، فقال کذبوا اعداء اللہ ولکنہ نزل علی احرف واحد من عند اللہ الواحد“
راوی کہتا ہے کہ میں نے حضرت ابوعبداللہ سے عرض کیالوگ کہتے ہیں کہ قرآن ساتھ حرفوں (قرائتوں) پر نازل ہوا ؟ آپ نے فرمایا : دشمنان خدا جھوٹ بولتے ہیں بلکہ قرآن ایک حرف (قرات ) پر ایک خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ یہ روایت شیعہ و سنی کتب میں نقل ہوئی ہے ۔ شیعہ محققین کے نزدیک قطع ضعف اسناد کے یہ روایت قراء سبعہ سے کوئی ارتباط نہیں رکھتی۔ اس حدیث کی تشریح میں معروف قول یہ ہے کہ احرف سے مراد مطون قرآن ہیں ۔ یعنی قرآن ایسی کتاب ہے کہ اس سے متعدد معانی سمجھے جا سکتے ہیں ۔
ایک معنی ظاہری ہے اور دوسرے معانی مخفی ہیں۔ پھر آیت متعدد معانی اپنے اندر رکھتی ہے۔ اگرچہ عام لوگوں پر یہ پوشیدہ ہیں۔ لیکن امام معصوم ان معانی سے آگاہ ہوتا ہے۔ لیکن بعض علماء کے نزدیک اس حدیث میں حرف سے مراد لہجہ ہے نہ قرات ۔ پیغمبر اکرم کے زمانہ میںعرب قرآن کی تلاوت مختلف لہجوں میں کرتے تھے۔ ہر قبیلہ اپنے لہجہ میں قرآن کی تلاوت کرتا تھا ۔ پیغمبر نے اس طرح سب کی تصدیق فرمائی ہے اس حدیث میں سبعہ کنائی عدد ہے۔ البتہ ائمہ معصومین نے فراوان حدیثوں میں لوگوں کو حکم دیا ہے کہ قرآن کی خالص عربی کی صورت میں تلاوت کریں۔ نیز انھیں متداول قرائتوں کی پیروی کرنے کی وصیت فرمائی ہے۔ امام صادق (ع) سے حدیث نقل ہوئی ہے فرماتے ہیں کہ "اقرء کما یقرء الناس“ یعنی عمومی اور متداول قرائت کی پیروی کرو۔ شیعہ علماء کے فتاویٰ کے مطابق نمازمیں انھیں سات قرات میں سے کسی ایک کے مطابق ہونی چاہئے۔
اس وقت تمام مصاحف قرآن جس قرآت پر توفق کرتے ہیں۔ اور ثبت ہوئے ہیں وہ عاصم کی قرات ہے کہ ابوعمر حفص نے اس کو عاصم سے روایت کیا ہے یہ قرات در اصل امیرالمومنین علیہ علیہ السلام کی قرآت ہے، چونکہ عاصم نے قرات ابوعبداللہ الرحمٰن سلمی سے یاد کی ہے۔ جو کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کے شاگرد اور ان کی قرات کو مشکل کرنے والے ہیں۔ پس عاصم امیر المومنین کی قرات کا راوی ہے اسی وجہ سے عاصم کی قرات صحیح ترین اور اصیل ہے۔ حفص عاصم سے نقل کرتا ہے کہ عاصم نے کہا جو کچھ قرات میں سے میں نے تجھے پڑھایا ہے یہ وہی ہے جو میں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے حاصل کیا ہے اور اس نے اس کو حضرت علی این ابی طالب علیہ السلام سے حاصل کیا ہے۔

Login to post comments