×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

فروعی اور عملی مسائل میں پیروی کی اجازت

تیر 25, 1393 342

اصول دین کے برعکس ""فروع دین "" (عمل سے تعلق رکھنے والے احکام اور قوانین) میں یہ واجب نہیں ہے کہ ہر مسلمان ان کو سوچ بچار اور دلیلوں

سے سمجھے بلکہ (جب کوئی بات دین کی طے کی ہوئی اور لازمی باتوں مثلاً نماز، روزہ اور زکات وغیرہ کے وجوب میں سے نہ ہو تو) مندرجہ ذیل تین طریقوں میں سے کسی ایک طریقے کو اختیار کرلینے کی آزادی ہے
1۔اجتہاد کا درجہ اور اس درجے کی لیاقت حاصل کرکے دلیل اور مباحثے کے ذریعے سے ان احکام تک پہنچے۔
2۔اپنے اعمال میں احتیاط کے مطابق چلے اس طرح کی احتیاط کے موارد سے واقف ہو مثلاً تمام مجتہدوں کے فتوے جمع کرکے جس بات پر اسے یقین ہوجائے اس کا فرض ہے کہ اسے انجام دے(1)
3۔ایسے مجتہد کی تقلید کرے جو جامع الشرائط ہو یعنی عاقل و عادل ہو اور گناہوں سے بچتا ہو۔ اپنے دین کی حفاظت کرتا ہو، نفسانی خواہشات کی مخالفت کرتا ہو اور اپنے مولا (خدا) کا حکم ماننے والا ہو۔
اگر کوئی شخص نہ مجتہد ہو نہ احتیاط پر عمل کرتا ہو اور نہ کسی جامع الشرائط مجتہد کی تقلید میں ہو تو اس کی تمام عبادتیں ارکات جائیں گی اور قبول نہیں ہوں گی چاہے اس نے اپنی پوری عمر عبادت اور نماز روزے میں گزاری ہو بجز اس صورت کے کہ اس کے پچھلے اعمال اس مجتہد
کے فتوے کے مطابق ہوں جس کی وہ بعد میں تقلید کر لیتا ہے اور اس نے ان (اعمال عبادت ) کے انجام دیتے وقت واقعی قصد قربت (خدا کے لیے اعمال کی انجام دہی) کا خیال کیا ہو۔
حوالہ:
(1) اگر مجتہدوں کے فتووں میں اختلاف پایا جائے یعنی بعض کسی عمل کو واجب جانتے ہوں اور بعض مستحب تو احتیاط یہ ہے کہ اس عمل کو بجا لایا جائے لیکن اگر بعض کہیں کہ فلاں عمل مکروہ ہے اور بعض کہیں کہ حرام ہے تو احتیاط یہ ہے کہ اس عمل کو انجام نہ دیا جائے۔ مزید برآں اگر بعض مجتہدین کسی عمل کو واجب کہیں اوربعض حرام کہیں تو اس صورت میں چونکہ احتیاط ممکن نہیں ہے ۔ اور کسی عمل کے کرنے یا نہ کرنے سے فرض کی ادائیگی کا یقین حاصل نہیں ہوگا لہذا ایسی صورت میں اجتہاد یا تقلید کرنا واجب ہے۔

Login to post comments