×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

عقیده مہدویت کے لاحق خطرات

تیر 25, 1393 323

دنیا کی ہر اہم چیز اپنی اہمیت کے پیش نظر خطرات کی زد میں بھی ہے عقیدہ مہدویت کہ جو انسانی فردی اور اجتماعی زندگی کے لیے

حیات بخش ہے ایک باعظمت مستقبل کی نوید ہے اور لوگوں کو ظلم و ستم کے مدمقابل حوصلہ اور صبر کی قوت دیتا ہے یقینا یہ بھی مختلف اندرونی و بیرونی خطرات کی زد میں ہے – ہم یہاں زمانہ غیبت میں اس عقیدہ کو لاحق ممکنہ خطرات کے بارے میں گفتگو کریں گے –۔
بعض لوگ امام کے ظہور اور فرج کی دعا میں انتظار فرج سے مراد معمولی حد تک امر بالمعروف و نہی عن المنکر مراد لیتے ہیں اس سے بڑھ کر اپنے لیے کوئ ذمہ داری نہیں سمجھتے –۔جبکہ بعض دیگر معمولی حد تک بھی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قائل نہیں ہیں بلکہ انکا نظریہ ہے کہ غیبت کے زمانہ میں ہم کچھ نہیں کرسکتے اور نہ ہماری کوئی ذمہ داری ہے امام زمانہ جب ظہور کریں گے تو خود سب امور کی اصلاح فرمائیں گے –۔
ایک گروہ کا نظریہ ہے کہ لوگوں کو انکے حال پر چھوڑ دینا چاہے جو چاہیں کریں جب ظلم و فساد بڑھے گا تو امام ظہور کریں گے۔
ایک چوتھا گروہ انتظار کی یہ تفسیر کرتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ لوگوں کو گناہ کرنے سے نہ روکیں بلکہ خود بھی گناہ کرو تاکہ امام کا ظہور جلد ہو۔
انہی لوگوں میں سے بعض یہ کہتے ہیں کہ زمانہ غیبت میں ہر حکومت کسی بھی شکل میں ہو باطل ہے اسلام و شریعت کے خلاف ہے کیونکہ روایات میں یہ آیا ہے کہ قائم کے ظہور سے پہلے ہر علم اور پرچم باطل ہے۔
ایسے نظریات کے نتائج:
1)اپنی یا معاشرہ کی موجودہ غلط صورت حال پر قانع ہونا اور بہتر وضیعت کےلیے کوشش نہ کرنا –
2) پسماندگی
3) اغیار کی غلامی
4) نا امید ہونا اور جلد شکست قبول کرنا
5) حکومت اور ملک کا کمزور ہونا
6)ظلم و ستم کا وسیع ہونا اور اس کے مد مقابل سست رد عمل
7) ذاتی اور اجتماعی زندگی میں ذات اور بد بختی کو قبول کرنا
8) سست اور غیر ذمہ دار ہونا
9) امام کے قیام اور اقدامات کو مشکل بنانا چونکہ جتنا فساد اور تباہی زیادہ ہوگی امام کا س سے مقابلہ اتنا ہی سخت اور طولانی ہوگا
10) بہت سی آیات اور روایات پر عمل درآمد نہ ہونا یعنی وہ آیات و روایات جو امر بالمعروف و نہی عن المنکرسماجی تربیت اور سیاست کے حوالے سے راہنما ہیں کفار اور مشرکین کے ساتھ طر ز عمل دیت حدود تعزیرات اور محروم لوگوں کے دفاع کے حوالے ہیں۔
ایسے منحرف نظریات کے اسباب:
اسے منحرف نظریات کی وجوہات اور اسباب مندرجہ ذیل ہیں:
1: کوتاہ فکری اور دین کے حوالے سے کافی بصیرت کا نہ ہونا
2: اخلاقی انحرافات (دوسرے نظریے کے قائل)
3: سیاسی انحرافات (چوتھے اور پانچویں نظریے والے)
4: یہ وہم رکھنا کہ امام زمانہ طاقت کے زور سے یا معجزہ کے ذریعے تمام کاموں کو انجام دیں گے لہذا انکے ظہور کےلیے اسباب فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
5: یہ وہم رکھنا کہ امام زمانہ سے ہٹ کر کوئ شخض بھی مکمل طور پر برا ئیوں اور فساد کو ختم نہیں کرسکتا اور معاشرہ کے تمام پہلوں میں خیروصلاح کو نہیں جاری کرسکتا۔
6: اچھے ہدف تک پہنچنے کےلیے ہر قسم کے وسیلہ کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے لہذا جلد ظہور کے زمانہ تک پہنچے کےلیے فساد اور برائ کو عام کیا جائے۔
7: وہ روایات جو آخری زمانہ میں طلم و جور کی بات کرتی ہیں انہیں درست نہ سمجھنا بلکہ یہ غلط فکر کرنا کہ جو ہوتا ہے وہ ہوتا رہے ہمارا ان برائیوں سے کوئ تعلق نہیں یا یہ کہ دوسروں کو بھی ان برائیوں کی طرف دعوت دینا۔
8: ایسے سیاستتدانوں یا وہ سیاست جو اسلامی معاشروں کو زوال کی طرف لے جا رہی ہے ان سے بڑھ کر خود ابھی ایسی روایات کو غلط انداز سے سمجھنا کہ جو ظہور سے پہلے ہر علم کو باطل قرار دے رہی ہیں
ایسے منحرف نظریات کا مقابلہ اور علاج
ان نظریات کا تفصیلی جواب دینے سے پہلے چند مفید نکات جاننا ضروری ہے :
1: ان غلط نظریات اور غلط سمجھنے کے مد مقابل دین میں علم و بصیرت پیدا کرنا –
2: ہوا و ہوس کے مد مقابل تقوی
3: سیاسی اور معاشرتی میدانوں میں علم و بصیرت سے کام لینا تاکہ دشمن اور دوست کی پہچان ہو اور سیاست دانوں کی فعالیت واضح ہو۔
4: دینی و سیاسی اور معاشرتی مسائل کے بیان میں علماء اور دانشوروں کا واضح اور روشن کردار –
5: ایسے سچے اور مخلص علماء کی پیروی کہ جو امام کے نائب عام شمار ہوتے ہوں
6: پسماندہ اور جمود میں ڈالنے والے نظریات کو پس پشت ڈالنا –

Login to post comments