×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اسلامى تمدن میں علمى مراكز

تیر 25, 1393 424

اسلام كے نئے تشكیل شدہ نظام كے استحكام اور اسلامى معاشرے كے اندرونى رشد و كمال سے بتدریج تعلیمى مراكز وجود میں آگئے جنہوں

نے علوم و فنون كى پیدائشے اور وسعت میں اہم كردار ادا كیا، پہلا تعلیمى ادارہ كہ جو اس عنوان سے وجود میں آیا اسكا نام بیت الحكمة تھا یہ بغداد میں تعمیر ہوا اور حكومتى خزانہ یا بیت المال كى رقم سے چلتا تھا۔
یہ دانشوروں، محققین اورخصوصاً ایسے لائق مترجمین كے اجتماع كا مركز تھا كہ جو یونان كى علمى و فلسفى كتب كو عربى میں ترجمہ كیا كرتے تھے، بیت الحكمة كہ جو مسلمانوں كا بغداد میں پہلا كتابخانہ تھا اسكى بنیاد ہارون الرشید نے ڈالى، اس سے پہلے منصور عباسى كہ جس كے زمانہ میں ترجمہ كے كام كا آغاز ہوا تھا اس نے حكم دیا تھا كہ دیگر زبانوں سے كتب كو عربى میں ترجمہ كیا جائے بعد میں یہى كتب بیت الحكمة كى اساس قرار پائیں۔
مامون كے زمانہ میں بیت الحكمة كو وسیع كیا گیا، اس نے كتابوں سے لدے ہوئے سو اونٹ بغداد منگوائے اور بظاہر یہ كتب اس قرار داد كے تحت مسلمانوں كودى گئیںجو مامون اور روم كے بادشاہ مشل دوم كے در میان طے پائی، نیز مامون نے 3لاكھ دینار ترجمہ كے كام پر خرچ كیے، اس دور میں بیت الحكمة كے علاوہ دیگر علمى ادارے بھى موجود تھے ان اداروں میں سے ایك ’’دار العلوم‘‘ تھا یہ ایك عمومى لا ئبریرى كى شكل میں تھا، اسى طرح مصر میں ایك تعلیمى مركز دار العلم فاطمیون تھا، یہ ادارہ الحاكم با مراللہ جو كہ مصر میں فاطمى خلیفہ تھے انكے حكم سے 395 ہجرى قمرى قاہرہ میں تعمیر ہوا، اس ادارہ میں تقریبا دس لاكھ كتب موجود تھیں ، موصل كا دار العلم جعفر بن محمد ہمدان موصلى نے تعمیر كیا یہ وہ پہلا علمى مركز تھا كہ جس میں تمام علوم سے كتابیں جمع كى گئی تھیں موجودہ لبنان كے ایك شہر طرابلس میں پانچویں صدى ہجرى كے آخر میں ایك دارالعلم سوا لاكھ جلد كتابوں كے ساتھ موجود تھا۔
اسلامى دور كے دیگر بہت اہم مشہور علمى مراكز نظامیہ مدارس تھے، پانچویں صدى كے آخرى پچاس سالوں میں خواجہ نظام الملك نے بغداد ، نیشابور ، اور دیگر شہروں میں مدارس كى تعمیر كر كے نظامیہ نام كے مدارس كے سلسلے كى بنیاد ركھى ، بغداد كا نظامیہ جو كہ 459 قمرى میں تاسیس ہوا اس میں ابواسحاق شیرازى تدریس كیا كرتے تھے، ان كے بعد اس مدرسہ میں تدریس كى سب سے بڑى كرسى امام محمد غزالى كو نصیب ہوئی ، اس كے بعد عالم اسلام میں مدارس كا جال بچھ گیا، سلجوقیوں كى مملكت میں جو مدارس اور علمى مراكز خواجہ كے حكم سے تعمیر ہوئے تو وہ خواجہ نظام الملك كى طرف منسوب ہونے كى وجہ سے نظامیہ كے عنوان سے مشہور ہوئے _۔
بغداد كے نظامیہ كے علاوہ اور مدارس نظامیہ بھى قابل ذكر ہیں مثلا نیشابور كا نظامیہ خواجہ نظام الملك اور دیگر سلجوقى بادشاہوں كى نیشابور شہر كى طرف خصوصى توجہ كے باعث تاسیس ہوا ، مشہور افراد مثلا امام موفق نیشابورى، حكیم عمر خیام، حسن صباح، امام محمد غزالى اور ان كے بھائی امام احمد اور امام محمد نیشابورى نے اس مدرسے میں تربیت پائی، نیشابور كا یہ نظامیہ مدرسین اور مشہور فقہاء كى تعداد جو كہ وہاں تعلیم دیتے تھے، كے باعث بغداد كے نظامیہ كے بعد دوسرا مقام ركھتا تھا، اسى طرح اصفہان اور بلخ كے مدارس نظامیہ بھى نامور اساتذہ كے حامل تھے۔
مجموعى طور پر كہا جاسكتا ہے كہ عالم اسلام میں علمى و تعلیمى مراكز متعدد اور متنوع تھے، ان مراكز میں سے وسیع اور غالب ترین علمى مراكز مساجد تھیں كہ جو سارے عالم اسلام میں پھیلى ہوئی تھیں ، مساجد مسلمانوں كے دینى اجتماع كے سب سے پہلے مراكز میں شمار ہوتى تھیں۔
حتى كہ مدارس كى عمارتیں بھى مساجد كے نقشہ كے مطابق ہوتى تھیں ایسى معروف مساجد جو اپنى تاسیس كے آغاز میں یا كچھ عرصہ بعد ان میں لائبریریاں بھى تشكیل پائیں، عالم اسلام كے اہم شہروں میں بہت زیادہ تھیں مثلا مسجد جامع بصرہ، مسجد جامع فسطاط ، مسجدجامع كبیر قیروان، مسجد جامع اموى دمشق، مسجد جامع زیتونہ جو كہ تیونس میں ہے، مسجد جامع قرویین فاس اور مسجد جامع الخصیب اصفہان۔
عالم اسلام كے ہسپتال كہ جنہیں ’’ مارستان‘‘ بھى كہا جاتا تھا مریضوں كے علاج كے ساتھ ساتھ اطباء كى تحقیق اور مطالعہ كے مراكز بھى شمار ہوتے تھے، اور ان میں صرف اسى علم پر لائبریریاں بھى تھیں، مثلا مارستان فسطاط ، مارستان الكبیر منصورى قاہرہ ، مارستان نورى بغداد ، رى كا ہسپتال اسى طرح علمى مراكز میں سے رصد خانے ( علم ہیئت كے مراكز) بھى تھے ، عالم اسلام میں بہت بڑے متعدد رصد خانے تعمیر ہوئے جن كا شمار دنیا كے سب سے بڑے اور اہم ترین رصد خانوں میں ہوتا تھا، كہ جن میں علم ریاضى اور نجوم كى جدید ترین تحقیقات ہوتى تھیں، رصد خانوں میں اسلامى دانشوروں كے بہت سے انكشافات اور تحقیقات صدیوں بعد بھى یورپ میں تجزیہ و تحلیل كا مركز قرار پائے ، ان رصد خانوں میں اہمیت كے لحاظ سے مثلا مراغہ اور سمرقندكے رصد خانوں كا نام لیا جاسكتا ہے۔
ان تمام اسلامى تعلیمى اداروں میں دو علمى مركز بہت زیادہ اہمیت كے حامل میں ان دو میں ایك ’’ربع رشیدی‘‘ ہے كہ بہت سے علماء كى آمد و رفت كا مقام تھا كہ جو وہاں علمى كاموں میں مصروف تھے ،دوسرا ’’شنب غازا‘‘كہ جو ایلخانوں كے دور میں تعمیر ہوا كہ جس میں مختلف افراد كے درمیان متعدد علمى معلومات كا تبادلہ ہوا كرتا تھا۔
مؤلف: ڈاكٹر على اكبر ولایتی
مترجم: معارف اسلام پبلشرز

Login to post comments