×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام موسیٰ کاظم (ع) اسوہ عبادت و استقامت

تیر 25, 1393 392

ائمہ طاہرین علیہم السلام نے اپنی گہربار زندگی کے دوران اثبات حق اور رہبری امت کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کیا۔ اس مقصد

کی خاطر انہوں نے ہر پریشانی کو خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ اسی لئے ائمہ اطہار علیہم السلام راہِ حق میں صبر و استقامت کا نمونہ بن کر سامنے آئے اور راہِ فضیلت پر چلنے والوں کے لئے اسوہ بن گئے۔ یہی وجہ ہے کہ عارف اور خدا کی تلاش میں رہنے والے انسان زیارتِ جامعہ جیسی روح بخش زیارت کے اس جملے کو خلوت و جلوت میں اپنی زبان پر جاری رکھتے ہیں کہ: اشہد انکم قد وفیتم بعہد اللہ و ذمتہ و لکل ما اشترط علیکم فی کتابہ و دعوتم الی سبیلہ و اتخذتم طاقتکم فی مرضاتہ و حملتم الخلائق علی منہاج النبوّۃ۔ (میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ (ائمہ اہلبیت علیہم السلام) نے خدا کے ساتھ اپنے عہد و ذمہ کو پورا کیا اور جو کچھ اس نے اپنی کتاب میں آپ کے ساتھ شرط کیا تھا اسے بہترین طور پر انجام دیا۔ لوگوں کو راہِ خدا کی طرف دعوت دی اور اپنی تمام توانائیوں کو رضائے الہی کے حصول میں استعمال کیا اور مخلوقات کی سنتِ رسول (ع) کی جانب رہنمائی فرمائی)۔
شیعیانِ حیدرِ کرار (ع) کے ساتویں امام، حضرت موسیٰ کاظم علیہ السلام 7 صفر سن 128 ہجری کو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ایک گاوں، ابوائ میں دنیا میں تشریف لائے۔ آپ (ع) نے بھی تمام ائمہ معصومین کی طرح اپنی امامت کے 35 برسوں کے دوران دین اسلام کے احیائ اور الہی اقدار کے فروغ کے لئے ہر قسم کی مشکلات اور پریشانیوں کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کیا اور راہِ اسلام میں صبر و استقامت کو عملی جامہ پہنایا۔ آپ کا دورِ امامت چار ظالم عباسی خلفائ کے ساتھ رہا یعنی منصور، مہدی، ہادی او رہارون الرشید)۔
آپ (ع) نے اس مقصد کے لئے اپنی پوری طاقت صرف کی اور فضیلتوں کے دفاع اور اخلاقی اور اجتماعی برائیوں کے مقابلے کے لئے استقامت او رپائداری کو پورے طور پر مجسم کیا۔ ہم آپ (ع) کی زیارت میں پڑھتے ہیں:
اشہد انک۔۔۔ صبرت علی الاذیٰ فی جنب اللّٰہ و جاھدت فی اللّٰہ حق جہادہ۔ (میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے ۔۔۔ راہِ خدا میں ہر تکلیف و اذیت پر صبر کیا اور راہِ خدا میں اس طرح جدوجہد کی جیسا کہ اس کا حق تھا)۔
آپ (ع) نے عباسی خلفائ اور خصوصاً ہارون رشید کے بے رحمانہ اور ناقابلِ برداشت مظالم کا صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا اور 25 رجب 183 ہجری کو اس دنیا سے رخصت ہوکر معبود حقیقی کی بارگاہ میں تشریف لے گئے۔ آپ (ع) کے لئے مخصوص صلوات میں آیا ہے:
اللّٰہم صلِّ علیٰ موسَی بنَ جعفر و صیّ الابرار و امام الاخیار۔۔۔ و مآلف البلویٰ و الصبر و المضطہد بالظلم و المحبور بالجور و المعذب فی قعر السجون و ظلم القطامیر ذی الساق المرضوض بحلق القیود۔ (خدایا موسیٰ ابن جعفر پر درود نازل فرما! جو نیک لوگوں کے جانشین اور اچھے لوگوں کے امام تھے۔۔۔ جو بلاوں اور صبر سے واقف، ظلم وستم کا شکار، قیدخانوں اور تنگ و تاریک کمروں میں اذیتیں اٹھانے والے، ورم زدہ اور زخمی پیروں اور زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے۔۔)
زیرِ نظر مقالہ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے صبر و استقامت، عزم و قاطعیت، پہاڑوں جیسی سختی و سربلندی اور ظالم دشمنوں کے سامنے صراحت کے ساتھ دیئے گئے پیغامات اور جدوجہد کے چند اوراق ہیں۔
مترجم سجاد مہدوی

Login to post comments