×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

امام موسی کاظم علیہ السلام کے ہاں معرفت و جہاد کا سنگم

تیر 25, 1393 571

بے شک عقیدہ کی خاطر صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ایک طاقتور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ قرآن کا درس یہ ہے کہ ہر حقیقت

طلب انسان کے لئے بہترین سہارا پروردگار پر بھروسہ ہے۔ اور حصولِ معرفت اور قربِ پروردگار کے لئے مختصر ترین اور نزدیک ترین راستہ عبادت اور معنویت (روحانیت) کی طرف توجہ ہے۔ چنانچہ پروردگارِ عالم کا ارشادِ رہنما ہے: و استعینوا بالصبر و الصلٰوۃ۔ یعنی نماز اور صبر سے مدد طلب کرو۔
امام موسیٰ کاظم علیہ السلام باطل کی بھرپور طاقت کے مقابلے میں اسی رہنمائی کی پیروی کرتے ہوئے صبر و بردباری اور نماز و عبادت سے استعانت کرتے تھے:
’’کان یُحیی اللیل بالسہر السحر بمواصلۃ الاستغفار حلیف السجدۃ الطویلۃ و الدموع الغزیرۃ و المناجات الکثیرۃ و الضراعات المتصلۃ۔ ‘‘
آپ راتوں کو سحر تک بیدار رہتے اور آپ کی شب زندہ داری ہمیشہ استغفار، طویل سجدوں، بہتے آنسووں، کثرتِ مناجات اور دورانِ عبادت مسلسل گریہ و زاری کے ساتھ ہوا کرتی۔
ظالم بادشاہوں کا عزم و حوصلے کے ساتھ سامنا کرنا:
جیسا کہ اولیائ اللہ کو خدا کی امداد پر پورا یقین ہوتا ہے، اس لئے وہ دنیا پرستوں اور ظالم طاغوتوں کے سامنے بے خوف و خطر اور پوری قاطعیت اور صراحت کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں اور سرمایہ ایمان کی موجود گی میں خدا کے سوا کسی طاقت سے نہیں گھبراتے کہ : فمن یومن بربہ فلایخاف بخسا و لا رھقاً۔ (جو اپنے پروردگار پر ایمان رکھے وہ نہ کسی نقصان سے ڈرتا ہے اور نہ کسی ظلم (اور ظالم) سے گھبراتا ہے)۔
مترجم سجاد مہدوی

Login to post comments