×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اعمال كے مجسم ہونے اور اس كی حقیقت کی وضاحت

تیر 25, 1393 417

انسان جتنا عالم نور سے ارتباط بڑھاتا چلاجاتا ہے اتنا ہی پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ اور اپنے اعمال، كردار، عقیدے اور رفتار كو اچھی صورتوں میں

دیكھتا ہے ۔ اور خود كو منزل معراج پر پاتا ہے، ان مذكور مطالب سے دو حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
1. انسان كے اعمال اصلی اور حقیقی شمائل میں پائے جاتے ہیں اور یہی انسان كی روح (جو حقیقی ہے) جسم مادی سے قطع تعلق كركے عالم برزخ میں پہونچتی ہے اور جو كچھ اس كے نظام اور قوانین ہیں روح متحمل ہوتی ہے ۔ انسان كے اعمال اسی كے قانون كے لحاظ سے مشكل و شمائل میں رونما ہوں گے ۔ یعنی ہر عمل كی برزخی صورت انسان كی روح كے مطابق اور اسی كی دیگر خصوصیات كے ساتھ ظاہر ہوگی ۔
ہر عمل نیك كی برزخی صورت اسی كے موافق اور اچھی آئے گی اسی كے برعكس جتنا برا عمل ہوگا برزخی صورت اتنی ہی بری اور انسان كے عادات كے مطابق ہوگی ۔ مثال كے طور پر اگر كوئی انسان بدخلقی كے علاوہ رذیل بھی تھا تو اس كی برزخ میں عمل كی صورت كئے كے مانند ہوگی یا كوئی انسان بدخلقی كے ساتھ شریف تھا تو اس كا برا فعل شیر كی صورت میں آئے گا ۔ شہوات نفسانی كے بھی مختلف العباد ہیں خصائل كے مختلف قسمیں ہیں ان میں كا ہر ایك عمل، كردار، رفتار اور عقیدے ( خواہ اچھے ہوں یا برے ) عالم برزخ میں مختلف صورت و شكل میں مجسم ہوگا یہ اس دنیا كے علاوہ دیگر عوالم یعنی عالم تجرد، اسماء میں بھی ہر عمل، عادت، رفتار اور عقیدے ان عوالم كے قوانین و دستورات كے مطابق مجسم ہوتے ہیں اور جتنا ان چیزوں سے دور ہوتا چلاجائے گااتنا ہی پردہ اٹھتا چلاجائے گا اور نظروں كے سامنے تصاویر آنے لگے گیں۔
2. جہاں تك انسان كے سارے اخلاقی صفات، اعمال، كردار، اور اچھی رفتار كا مسئلہ ہے تو یہ حقیقت واقعیت (جو باطن میں موجود ہے) سے قریب ہیں ۔ یعنی جس دن سے ہم نے اس دنیا میں سخاوت كرنا شروع كردیا یہ پہلے بھی اچھی اور بہشت میں جانے كے لئے ضامن ہے اسی كے مقابلہ میں جس دن سے ہم نے برائی كرنا شروع كردیا جو روح كی بیماری كا نتیجہ ہے یہ چیز ہمارے ”‌ جہنم “ تك كھینچ لے جانے كے لئے كافی ہے ۔ بعبارت دیگر ۔
انسان كا ہر عمل، كردار، اور رفتار كا سرا جنت كی طرف ہے یا جہنم كی طرف ۔ كیونكہ ہر برائی كی جڑ جہنم ہے اور ہر اچھائی كی جڑ جنت ہے۔
حضرت رسول اكرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جب ماہ شعبان كی پہلی تاریخ آتی ہے تو خداوند عالم جنت كے دروازے كھول دیتا ہے اور شجرہ طوبی جس كی پہلی شاخین اس دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں منادی دیتی ہیں كہ اے خدا كے بندو !ان شاخوں كو پكڑلو تا كہ جنت كے مستحق بن جاو ۔ اسی طرح ایك اور ندا آتی ہے كہ درخت زقوم كی شاخوں كو نہ تھامنا (اور اس سے دور رہنا) ورنہ تمہیں جہنم میں ڈھكیل دیں گے ۔ پھر آنحضرت نے فرمایا :
قسم ہے اس ذات كی جس نے مجھے درجہ رسالت پر مبعوث كیا ہے ۔
در حقیقت اس روز برائی كرنا گویا درخت زقوم كی كسی ایك شاخ كو پكڑنا ہے پس وہ جہنم كی آگ میں جلے گا اور اس كو اوندھے منھ اس میں گرادیا جائے گا ۔
بخدا قسم جس نے مجھے پیغمبر بنایا ہے كہ جس شخص نے واجبی نماز میں تساہلی كی یا اس كو قضا كیا گویا اس نے درخت زقوم كی ایك شاخ كو پكڑلیا ہے ۔ جو فقیر و غریب كی بد حالی كو دیكھنے كے بعد اس كی مدد نہ كرے گویا وہ ہلاك ہوا پھر ایك ایك برے اعمال كو بیان كیا پھر آسمان كی طرف سر اٹھاتو ہنس پڑے اور جب زمین كی طرف دیكھا تو چہرہ سرخ ہوگیا اس كے بعد اصحاب سے فرمایا ۔
اس ذات كی قسم جس نے مجھ (محمد) كو نبوت و رسالت پر فائز كیا ہے ۔
جب میں نے شجرہ طوبی كی بلند ڈالیوں كو دیكھا تو ہر انسان كواپنے اپنے اعتبار سے اس كی كسی نہ كسی ڈالی كو پكڑا ہوا جو جنت كی طرف جارہے ہیں ۔
حتی زید بن حارثہ كو شجرہ طوبی كی ساری ڈالیوں كو پكڑا ہوا دیكھا جس سے ہم خوش و مسرور ہوئے لیكن جب زمین كی طرف دیكھا تو خدا كی قسم جس نے مجھے نبی بناكر بھیجا ہے ۔
درخت زقوم كو بھیلاہو دیكھا كچھ اپنی بد اعمالی كی بناء پر اس كی شاخوں كو تھامے ہوئے ہیں، جہنم میں جارہے ہیں ۔ حتی بعض منافقین كو بھی دیكھا جو درخت زقوم كی پوری شاخوں كو پكڑے ہوئے ہیں اور ان كو جہنم كے سب سے نچلے طبقے میں ركھا گیا ہے جس سے بہت رنجیدہ ہو ا۔
مؤلف: محمد رضا كاشفی
مترجم: سید كرار حسین رضوی گوپالپوری

Last modified on چهارشنبه, 25 تیر 1393 13:07
Login to post comments